76 total views, 1 views today

تحریر: حنظلہ خلیق 
27 جولائی 2015ء کو ہندوستان میں ایک شخص مرا، جس کی وفات پر ہندوستان نے 7 دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا۔ یہ عظیم شخص ’’ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام‘‘ تھے…… جو ہندوستان کے سب سے بڑے ’’ایرو سپیس‘‘ اور ’’نیوکلیئر سائینس دان‘‘، انڈیا کے صدر، ایک پروفیسر، لیکچرر، شاعر، متاثر کن ادیب اور اہم ترین سیاسی و قومی شخصیت تھے۔
10 اکتوبر 1931ء کو تامل ناڈو کے ایک گاؤں میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ پورا نام ’’ابو الفاخر زین العابدین عبدالکلام‘‘ تھا لیکن چوں کہ تامل مادری زبان تھی اور اسی کا تلفظ ہی وہ استعمال کرتے تھے اس لیے یہ تامل نام "Avul Pakir Jainulabdeen Abdul Kalam” ان کی شخصیت کا جزو لا ینفک بنا رہا یعنی "A.P.J.Abdulkalaam”
باپ امام مسجد تھا اور ماں ایک عام گھریلو عورت…… دونوں نے غربت کے باوجود عبدالکلام کو سکول پڑھنے بٹھایا۔
کلام اپنے بہن بھائیوں سے چھوٹے تھے۔ مسجد کے امور کے علاوہ ان کا باپ ایک چھوٹی کشتی بھی چلاتا تھا…… جس سے وہ ہندو یاتریوں کو قریبی مندر اور دھرم شالہ جو کہ دریا کے پار تھی وہاں لے جاتا۔ بعد میں اس دریا پر پل بننے سے یہ کام بند ہوا، تو گھر کے مالی حالات اور کم زور ہوگئے۔ اس واسطے ننھے عبدالکلام نے اخبار بیچنا شروع کر دیا۔ اس طرح اپنی تعلیم جاری رکھی۔ بعد میں فزکس میں گریجویشن کرکے مدراس یونیورسٹی سے "Aerospace Sciences” کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں قدرت کی کرنی ایسی ہوئی کہ وہ دفاع کے شعبہ سے منسلک ہوگئے اور رفتہ رفتہ انڈیا کے جوہری اور دفاعی اثاثوں پر کام کرنے والے سائنس دانوں میں شامل ہوگئے۔
ایک وقت تھا کہ ڈاکٹر عبدالکلام فائٹر پائلٹ بننے سے صرف اس لیے رہ گئے تھے کہ ممتحن لیفٹیننٹ نے صرف پہلے 8 لڑکوں کو چنا تھا…… جب کہ کلام کا نمبر نواں تھا۔ بعد میں انڈیا کی میزائل ٹیکنالوجی میں سب سے اہم کردار ادا کیا اور ان کی ایروسپیس کی مہارت نے انڈیا کو میزائل ٹیکنالوجی میں کافی ترقی دی۔ اس شعبے میں ڈاکٹر صاحب کی خدمات اتنی اہم ہیں کہ انہیں "Missile Man of India” کا خطاب دیا گیا۔ اس کے علاوہ پوخران میں 1998ء کو ہندوستان کے نیوکلیئر دھماکوں کے نگران اور ہیڈ پرسن ڈاکٹر کلام ہی تھے۔
ان کو ’’بھارتیہ جنتا پارٹی‘‘ اور کانگریس نے متفقہ طور پر 2002ء میں ہندوستان کا صدر منتخب کیا اور وہ 2007ء تک عہدے پر فائز رہے۔ اس دوران میں ان پر کئی اعتراضات بھی ہوئے اور کٹھن حالات کا بھی سامنا کرنا پڑا…… لیکن انہوں نے کبھی حالات سے شکست نہیں کھائی۔
ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 72 صدرِ مملکت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ موت کی سزائیں منسوخ کر سکتا ہے اور سزا یافتہ مجرموں کو معافی کی درخواست پر رہا کر سکتا ہے۔ دنیا حیران رہ گئی جب عبدالکلام نے 21 میں سے 20 معافی کی اپیلیں قبول کر کے موت کی سزا ختم کی۔ ایک واحد درخواست ایک جبری زنا کے مجرم کی تھی…… جسے ڈاکٹر عبدالکلام نے رد کیا۔ اس حوالے سے خاص تنازعہ اس وقت بنا جب 2006ء میں ڈاکٹر عبدالکلام نے ’’افضل گرو‘‘ کی معافی کی اپیل قبول کی جو کہ ایک کشمیری تھا اور دہشت گردی کے کیس میں اسے ہندوستانی سپریم کورٹ سزائے موت سنا چکی تھی۔
صدارتی مدت کے بعد عبدالکلام عام زندگی کی طرف لوٹ گئے۔
ان کی زندگی مختلف اداروں اور جامعات میں سائنس اور فزکس میں اعزازی لیکچر دیتے ہوئے گزرنے لگی۔ ناسا کے میزائل سسٹم اور اداروں کا بھی دورہ کیا۔ آخر 2015ء میں وہ "Creating a Livable Planet Earth” کے موضوع پر لیکچر دینے کے لیے گئے، ابھی 5 منٹ ہی خطاب کیا ہو گا کہ ہوش کھو کر گرگئے۔ قریبی ہسپتال لے جاتے ہی نبض بند ہوچکی تھی۔ زندگی کی ساری علامات معدوم ہوگئیں۔ ایک خواب کو حقیقت بنانے والا خود سو چکا تھا۔ جنوبی ایشیا کے کروڑوں نوجوان طالب علموں کا من پسند شخص کسی ’’نیوٹرن سٹار‘‘ کی طرح اب غائب ہو کر اپنے آبائی گاؤں کی خاکی کہکشاں میں دفن ہو گیا۔شخصیت ایک مقناطیسی لہر رکھتی تھی۔ مجھے افسوس رہے گا کہ میں ان سے کبھی بات نہ کرسکا اور نہ کوئی رابطہ، ان کی آفیشل ویب سائٹ اب بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔
وہ طلبہ سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کو قوم کی اصل قوت سمجھتے تھے۔ اپنے کئی لیکچرز اور کتابوں میں سٹوڈنٹس کی اہمیت اجاگر کرتے اور علم کے ان راہیوں کا کردار اور عظمت بیان کرتے۔ ان کی یہ اُلفت اور لگن اتنی شدید تھی کہ بچپن میں اخبار بیچتے ہوئے بھی طالب علموں کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ صدر بننے کے بعد بھی اکثر سکولوں اور کالجوں میں بچوں کے ہجوم میں بیٹھ جاتے۔ ان سے گفتگو کرتے رہتے اور سوالات کرتے۔اسی ادائے یادگار کو یادگار بناتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے ان کی پیدائش کے دن 15 اکتوبر کو ’’طالب علموں کا عالمی دن‘‘ قرار دیا ہے…… جو کہ پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ اور اس طالب علموں کے نابغۂ روزگار محب کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالکلام کی مادری زبان ’’تامل‘‘ تھی۔ اس لیے وہ اسی زبان میں اپنے دل کے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ وہ باقاعدہ تامل کے شاعر ہیں اور ان کی نظمیں تبدیلی، نظریے بنانے، اصول پسندی اور خوابوں کو حقیقت بنانے کا پیام ہیں۔ اپنی نظموں میں بھی نوجوانوں اور طالب علموں سے خطاب کیا ہے۔ اس کے علاوہ فزکس کے گہرے رموز اور کہکشاؤں کی بے کراں وسعتوں، روشنی کے اسفار، خلا کے اسرار جو کہ ان کا خاص موضوع تھا…… ان سب کی چھاپ ان کی فطری شاعری پر موجود ہے۔اس کے علاوہ وہ "Veena” جو کہ ایک ہندوستانی آلۂ موسیقی ہے، اسے بھی بجانے کے ماہر تھے۔
ڈاکٹر عبدالکلام ایک باعمل مسلمان تھے۔ نماز اور روزے کی پابندی گھر سے ملی تھی۔ مذہب کے معاملے میں ان میں شدت پسندی نہ تھی۔ اپنے عالم فاضل باپ سے انہوں نے یہی سیکھا تھا کہ تمام مذاہب کا احترام کرنا چاہیے…… اور اسلام اسی کا درس دیتا ہے۔ ان کا قول ہے کہ: ’’مذہب عظیم لوگوں کے لیے اچھے تعلقات اور دوست بنانے کا ذریعہ ہے…… اور کمتر انسانوں کے لیے لڑنے جھگڑنے کا ہتھیار!‘‘
وہ ایک سائنس دان ہوتے ہوئے بھی خوابوں پر گہرا یقین رکھتے تھے اور روحانیت کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔خوابوں کے حوالے سے ان کی کتب میں بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ انہوں نے ایک ہندو سوامی کے ہمراہ روحانیت کے تجربات کو الگ تصنیف میں بیان کیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالکلام اپنی اصول پسندی اور سادگی کی وجہ سے بھی قابلِ تقلید ہیں۔ پوری عمر رات گئے 2 بجے سوتے اور اَن تھک محنت کرنے کے لیے پھر صبح سویرے جاگ جاتے۔ ان کی یہ عادت پوری عمر رہی۔ ان کے پاس ٹی وی نہیں تھا۔خود ساری عمر کنوارے رہے۔ ان کے بقیہ 3 بھائی اور بہن ان سے عمر میں بڑے تھے۔ کلام ان کا بہت احترام کرتے تھے اور ان کے خاندانوں سے اچھے تعلقات میں رہے۔ اپنے پرانے دوستوں اور رشتے داروں کی مالی مدد بھی کرتے۔
ان کی وفات کے وقت کوئی وصیت نہ تھی۔ اس روشن دماغ رکھنے والے شخص نے چند کتابیں، کچھ سوٹ، ایک سی ڈی پلیئراور ایک لیپ ٹاپ ترکہ میں چھوڑا جو کہ ان کے بڑے بھائی کو دے دیے گئے۔
ہندوستان نے ان کے اعزاز میں روڈ بنائے، کالج، یونیورسٹیاں اور سائنسی ادارے بنائے…… بلکہ ایک جزیرہ جو خلیج بنگال میں ہے…… وہ بھی ان کے نام پر سجایا۔یہ جزیرہ ان کے کارناموں، تصویروں اور مجسموں کا نگر ہے۔ کوئی ایسا اعزاز اور ایوارڈ ہوگا جو ڈاکٹر عبدالکلام کو نہ ملا ہو۔
کلام ایک محب وطن، اصول پسند، انسان دوست اور بیدار مغز مسلمان تھے۔ یہ قدرت کی کیسی فیاضی ہے کہ اس نے مولانا ابوالکلام آزاد کے بعد دوسرا ’’کلام‘‘ بھی ہندوستان کو ہی عطا کیا۔
٭ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی لکھی کتابیں:
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے بیسیوں کتابیں لکھیں۔ ان کے اقوال، شاعری، تقریریں، لیکچر اور ای میل تک کتابی شکل میں موجود ہیں۔ ان کی خود نوشت سب سے اہم تصنیف ہے۔ ہم ان کی چند کتابوں کا ذکر کرتے ہیں:
1) "Wings of Fire: An Autobiography”
یہ کتاب ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی سوانح حیات ہے۔ ان کی یہ خود نوشت بہت متاثر کن کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے بچپن، گھر، گاؤں، دوستوں، رشتے داروں اور سکول کے دنوں سے لے کر اپنے نیوکلیئر سائنس دان بننے تک کی زندگی کے بارے لکھا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے بچپن کے بہت سے واقعات لکھے ہیں…… اور اپنے باپ ’’زین العابدین‘‘ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اپنے ماں، باپ سے بہت محبت کرتے تھے۔ اپنے باپ کی شخصیت اور افکار کا اثر ان میں ساری عمر موجود رہا۔ اس کتاب میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا ذوق ادب بھی جگہ جگہ موجود ہے۔ جب ان کے والد نے 102 کی عمر میں وفات پائی، تو انہوں نے اپنی کتاب میں اس جگہ "W.H.Auden” کے وہ اشعار لکھے ہیں جو اس نے اپنے عزیز دوست "W.B.Yeats” کی وفات پر کہے تھے:
Earth receive an honored guest
William Yeats is laid to rest
In the prison of his days
Teach the free man how to praise
یہ کتاب ایک عظیم انسان کے حالات اور زندگی کا مستند حوالہ ہے۔
2) "My Journey: Transforming Dreams into Actions”
یہ کتاب بھی ان کی زندگی اور حالات پر مبنی ہے۔ اسے "Wings of Fire” کا دوسرا حصہ کہا جاسکتا ہے۔ اس کتاب میں مصنف موصوف نے اپنی زندگی کے سیاسی اور آخری دور کے واقعات بیان کیے ہیں۔ صدر بننے کی بعد کی مصروفیت اور شب و روز کی عمدہ دستاویز ہے۔
3) "Ignited Minds: Unleashing the Power Within India”
یہ کتاب ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی وفات کے بعد سب سے زیادہ مطلوب کتاب ہے۔ عالمی سطح میں اس کی بہت قدر ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے ہندوستان کے طالب علموں سے خطاب کیا ہے اور ان نوخیز دماغوں کو ہدایات دی ہیں۔ اس کتاب کا انتساب بڑا دلچسپ ہے۔ یہ ایک کالج سٹوڈنٹ ’’سنیہل ٹھاکر‘‘ کے نام ہے۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اس کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار طلبہ سے سوالات کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟ تو طالب علموں نے مختلف جوابات دیے، لیکن سب سے جامع اور پسندیدہ جواب اس طالب علم سنیہل ٹھاکر نے دیا، اس نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی دشمن غربت ہے۔
اس کتاب میں کامیابی حاصل کرنے کے اسباب اور ترقی پانے کی راہیں بیان کی گئی ہیں۔ اس کو خاص طالب علموں اور نوجوانوں کے لیے لکھا گیا ہے۔
4) "Turning Points: A journey through challenges”
اس کتاب کو ایک زندگی بدل دینے والی کتاب کہنا چاہیے۔ اس میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے اپنی زندگی کی مشکلات، نامناسب حالات اور چیلنجز کا ذکر کیا ہے اور ان سے نکلنے کی ترکیبیں لکھیں ہیں۔ اس میں بعض چیزیں ان کی خودنوشت سے ماخوذ ہیں۔
5) "India 2020”
یہ کتاب مصنف کے مستقبل بارے رجحانات کا بیان ہے۔ اس میں انہوں نے نئی صدی اور دور میں انڈیا کے سیاسی اور معاشی حالات کا تجزیہ کیا ہے۔ آنے والے بحرانوں کی نشان دہی کی ہے۔ صحافت کی دنیا میں یہ کتاب بہت معلوماتی ہے
6) "You Are Born To Blossom: Take My Journey Beyond”
اس کتاب میں یہ لکھا گیا ہے کہ کیسے جدید ٹیکنالوجی اور ایجادات کو عام دیہاتی طبقے تک پہنچایا جائے اور مزید اس میں سکول کے طلبہ کی راہنمائی کی گئی ہے۔ اپنے بعض تعلیمی منصوبوں کا ذکر بھی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے اس کتاب میں کیا ہے۔
7) "Forge your Future”
اس کتاب میں ان ای میلوں کو شامل کیا گیا ہے جو ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو موصول ہوئیں اور اپنی زندگی میں انہوں نے اس کا جواب لکھا۔
8) "My Life.”
یہ کتاب طالب علموں کے لیے ایک تحفہ ہے۔ اس میں انہوں نے خود کو متاثر کرنے والے طلبہ کا ذکر کیا ہے۔ اور اپنی زندگی میں طالب علموں کی اہمیت بیان کی ہے۔ طالب علموں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو لکھا ہے۔
9) "Transcendence: My Spiritual Experiences with Pramukh Swamiji”
یہ کتاب روحانی فلسفے پر مشتمل ہے اور مادہ پرست نظریات کے خلاف روحانی کشف و اسرار کا بیان ہے۔
10) "The life tree”
یہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی نظموں کا مجموعہ ہے۔ ان نظموں میں فطرت، انسانیت، ہر جان دار سے محبت اور سادگی کا عنصر غالب ہے۔ شاعری میں ڈاکٹر صاحب کا مذہب انسانیت اور فطرت ہے۔
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔