29 total views, 2 views today

تاریخِ پیدائش:۔ یکم اپریل 1924ء
تاریخِ وفات:۔ 14 مارچ 2004ء
قارئین، ایک دن میں اشرف مفتون کے ساتھ اُن کے گھر واقع 23 اے خیبر روڈ پشاور چھاؤنی میں بیٹھا ہوا تھا کہ میری نظر ایک خاکروب پر پڑی…… جو گھر کے ایک مکین کی طرح اندر جا رہا تھا۔ مَیں نے اُن سے پوچھا کہ یہ آپ کے ہاں کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا کہ یہ جس گھر میں کرائے پر رہتے تھے، مالکِ مکان نے وہاں سے انہیں بے دخل کر دیا۔ رات تھی، ان کا سامان گھر سے باہر پڑا تھا اور یہ بال بچوں سمیت اُس کے قریب کھڑے تھے۔ مَیں نے ازراہِ ہمدردی ان کو اپنے گھر میں پناہ دی ہے۔ جب تک ان کے گھر کا بندوبست نہیں ہوجاتا، اسے اپنا گھر سمجھ کر رہیں۔ اب یہ چند دنوں سے میرے ہاں مقیم ہیں۔ اپنے لیے کرائے کا گھر تلاش رہے ہیں، جب ان کو مل جائے گا، تو چلے جائیں گے۔
قارئین، اشرف مفتون چارسدہ کے بہت بڑے جاگیردار تھے۔ وہ خان عبدالغفار خان کے بھانجے، رہبرِ تحریک ولی خان کے پھوپھی زاد اور پروفیسر جہانزیب نیاز لالا کے خالہ زاد تھے۔ وہ ایک بڑے شاعر، ادیب، فلسفی اور انسان دوست شخصیت تھے۔ خاکروبوں کو ہمارے معاشرے میں ایک قسم کا اچھوت سمجھا جاتا ہے…… لیکن ہمارے رجڑ چارسدہ کے اس خان کی انسان دوستی کا یہ حال تھا کہ اُنہوں نے اپنے بنگلے کا ایک حصہ اُن کے لیے مخصوص کردیا تھا۔
مَیں جب بھی پشاور جاتا۔ اشرف مفتون سے ملاقات کرکے ہی واپسی کا راستہ ناپتا۔
ایک دن اپنے دوست عمر واحد کو ساتھ لے کر اُن کے گھر گیا۔ ملاقات کے بعد ہم نے رخصت چاہی کہ اس دوران میں انہوں نے عمر واحد کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’روخان کا تو یہ اپنا گھر ہے…… لیکن آپ میرے ہاں پہلی بار آئے ہیں۔ مَیں آپ کو خالی ہاتھ جانے نہیں دوں گا۔‘‘ وہ گھر کے اندر گئے…… تھوڑی دیر بعد آئے۔ عمر واحد کو گھڑی پہنائی اور کہا: ’’یہ درست وقت دیتی ہے۔‘‘ نیز اُن کی جیب میں ایک قیمتی پن رکھا اور کپڑے کا ایک بہترین سوٹ بھی عنایت کیا۔
مَیں جب بھی اُن سے ملنے جاتا، تو پیشگی نہ بتاتا۔ ایک دن اُنہیں خلافِ معمول بتایا کہ مَیں فُلاں دِن فُلاں وقت آپ کے ہاں آؤں گا۔ لیکن اللہ کی کرنی کہ مَیں دیر سے پہنچا۔ دیکھا کہ وہ میرے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ جاتے ہی انہوں نے میری وہ درگت بنائی کہ اپنی صفائی پیش کرنے پر میں باقاعدہ طور پر مجبور ہوا۔ کہہ رہے تھے کہ ’’جو لوگ وقت کے پابند ہوتے ہیں، وہ چاند پر پہنچ جاتے ہیں۔ آپ نے مجھے اتنی دیر سے یہاں انتظار میں بٹھایا ہے۔‘‘ مَیں نے جواب میں اُنہیں کہا کہ ’’مَیں یونیورسٹی گیا تھا۔ ایک مسجد میں جمعہ پڑھ لی اور یوں آپ تک پہنچتے پہنچتے دیر ہوگئی۔‘‘ اُن کا موڈ اس وضاحت کے بعد بھی ’’آف‘‘ رہا۔ انہوں نے میری تواضع چائے اور رجڑ کی مٹھائی سے کی۔ مَیں سمجھ گیا کہ روٹی کی جگہ مجھے آج چائے پر گزارا کرنا پڑے گا۔ اس موقع پر انہوں نے میرے چہرے پر نظریں جما رکھی تھیں۔ میرے ماتھے پر اُن کو ایک سیاہ دھبا سا نظر آیا۔ بس پھر کیا تھا، انہوں نے طنز کے کچھ نشتر چبھوئے۔ تھوڑی دیر بعد کھانا بھی آگیا۔ مَیں نے دل میں سوچا کہ چائے سزا کے طور پر پینا پڑی۔ ورنہ عموماً ہم کھانے کے بعد چائے پیتے ہیں۔
ایک دن میرے ساتھ فضل ربی راہیؔ بھی اُن کی ملاقات کے لیے گئے۔ ہم دیر تک آپس میں محوِ گفتگو رہے۔ کھانے کے وقت وہ ہمیں ڈائننگ روم لے گئے۔ انواع و اقسام کا کھانا ہمارے سامنے چنا گیا تھا۔ وہ خود نہیں کھا رہے تھے اور ہمیں کھلا رہے تھے۔ مَیں نے اُنہیں کھانے میں ساتھ دینے کا کہا، تو انہوں نے معذرت کرلی: ’’میری قسمت میں ایسا کھانا کہاں……! مَیں تو پرہیز والا کھاتا ہوں۔‘‘
اشرف مفتون صاحب سے ایک دن مَیں نے یوں ہی پوچھا کہ اللہ تعالا کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: ’’اللہ تعالا ہمیں اپنی سگی ماں سے 70 درجہ زیادہ پیار کرتا ہے۔ وہ کون سی ماں ہوگی کہ اپنے بچے کو سزا دے گی۔‘‘
ایک ملاقات کے دوران میں، مَیں نے اُن سے پوچھا کہ جب آپ کی والدہ صاحبہ فوت ہوئی تھیں، تو آپ اُن کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شامل نہیں تھے…… بلکہ فاتحہ خوانی سے بھی تین دن غیر حاضر تھے۔ تو انہوں نے جواباً کہا: ’’جب میری ماں فوت ہوئی تھی، تو مَیں اُن کی جدائی پر رور رہا تھا۔ جو لوگ ہمارے ہاں آئے ہوئے تھے، اُن کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ وہ رو نہیں رہے تھے۔ مجھے اُن لوگوں کی آنکھیں پتھر جیسے لگیں۔ پس میں گھر کے اندر کمرے میں گیا۔ کمرے کے دروازے کو کنڈی لگائی۔ تین دن بند کمرے میں روتا رہا۔ اس وجہ سے مَیں جنازے میں شامل نہیں تھا۔‘‘
’’د شاعر دنیا‘‘، ’’کاواکے‘‘، ’’سڑیکے‘‘، ’’لوخڑے‘‘، تڑمی اوخکی‘‘، ’’د ژوند سندرے‘‘ اور نثر میں ’’وگمے‘‘ ان کی کتابیں ہیں، جن کو دیوان کی شکل میں جمع کرکے ’’سکونڈارے‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔
اشرف مفتون کا ایک ہی بیٹا زرک مفتون تھا۔ سی ایس ایس کے امتحان میں وہ ٹاپ ٹین میں تھا۔ ابھی اس کی منگنی بھی نہیں ہوئی تھی۔ اشرف مفتون اور بیگم اشرف مفتون منگنی کے لیے زیورات خریدنے کے لیے اندر شہر بازار گئے ہوئے تھے۔ جب واپس آئے، تو زرک اپنے کمرے میں خون میں لت پت مردہ پڑا ہوا تھا۔ زمین پر کاغذ کے پرزے جگہ جگہ پڑے ہوئے تھے۔ یہ صدمہ مفتون صاحب کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ اس کے بعد پیارے بیٹے کی جدائی میں کچھ عرصہ بعد بیگم اشرف مفتون بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں۔
میری آخری ملاقات ان سے اُس وقت ہوئی جب وہ بیمار تھے۔ مجھے اُن سے ملنے کے لیے گھر کے اندرونی کمرے میں جانا پڑا۔ وہ بستر پر لیٹے ہوئے مجھ سے باتیں کر رہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ ’’روخان! آسمان نے مجھے کاٹ لیا ہے اور زمین بھی کھانے کو دوڑ رہی ہے۔ یہ زندگی بڑی بے رحم ہے۔‘‘
کچھ عرصہ بعد مَیں خان عبدالغنی خان کی یاد میں چارسدہ کے ایک پروگرام میں مدعو تھا کہ عصر کی اذان کے بعد اعلان ہوا: ’’تھوڑی دیر بعد اشرف مفتون کا جنازہ پشاور سے پہنچنے والا ہے۔ نمازِ عصر کے بعد اُن کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔‘‘
مَیں نے ایمبولینس گاڑی میں ان کا آخری دیدار کیا۔ نمازِ جنازہ پڑھی، تدفین میں حصہ لیا۔ حسرت سے زرک مفتون، والدہ زرک مفتون اور اشرف مفتون کی قبروں کو دیکھتا رہ گیا اور دنیا کی بے ثباتی پر چار حرف بھیجے۔
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے