41 total views, 1 views today

10 دسمبر 1963ء وطنِ عزیز کے لیے خوش بختی کا سال ثابت ہوا۔ کیوں کہ اسی سال نوے کلے پایان ضلع پشاور میں روشن خان کے گھر ایک بچے نے جنم لیا۔ کم زور جسامت اور صحت والے اس بچے کے بارے میں کون جانتا تھا کہ یہ بڑا ہوکر سبز ہلالی پرچم کو پوری دنیا بھر میں سر بلند کرے گا۔ جی ہاں! بات ہو رہی ہے سکواش کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور لیجنڈ جہانگیر خان کی…… جنہوں نے چھے بار ورلڈ اوپن اور دس بار یعنی (1991ء تا 1982ء) مسلسل برٹش اوپن ٹائٹل جیتنے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس وجہ سے ان کو اب تک دنیا کا سب سے بڑا سکواش کا کھلاڑی مانا جاتا ہے۔
جہانگیر خان کی ابتدائی کوچنگ اُن کے والد روشن خان نے کی…… جو 1957ء کے برٹش اوپن چمپئن تھے۔ والد کے بعد بڑے بھائی طورسم خان جو 70ء کی دہائی میں بین الاقوامی سکواش کے معروف کھلاڑیوں میں سے ایک تھے، نے کی۔ طورسم خان ایڈیلیڈ آسٹریلیا میں آسٹریلین اوپن میں ایک میچ کے دوران میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے۔ بھائی کی ناگہانی موت سے خان کو بڑا دُکھ ہوا جس کی وجہ سے اُنہوں نے سکواش چھوڑنے کا فیصلہ کیا…… لیکن اُن کے کزن رحمت خان نے اُن کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھائی کے نام کو زندہ رکھنا چاہتے ہو، تو اُن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی خاطر سکواش میں کیرئیر بنانے پر توجہ دو۔ یوں خود اُن کی کوچنگ کرتے ہوئے اُنہیں کیریئر بنانے کے گُر سکھائے۔
1981ء کو پاکستانی سلیکٹرز نے جہانگیر خان کو آسٹریلیا میں عالمی چمپئن شپ میں کھیلنے کے لیے منتخب نہ کرنے کا فیصلہ کیا…… لیکن اسی سال آپ 17 سال کی عمر میں ورلڈ ایمیچور انفرادی چمپئن شپ میں شامل ہوئے اور اسٹریلوی کھلاڑی جیوف ہنٹ کو شکست دے کر مذکورہ ایونٹ کے سب سے کم عمر ترین فاتح قرار پائے۔ اس کے بعد دنیا صحیح معنوں میں جہانگیر خان کے نام سے آشنا ہوئی، یعنی یہ ایک فاتحِ عالم کی طویل حکمرانی کا آغاز تھا…… جو 1991ء تک جاری رہا۔ یہ وہی خواب تھا جو ان کے بڑے بھائی نے دیکھا تھا، جس کی تعبیر کے لیے وہ موجود نہ تھے۔ اتفاق دیکھیے کہ جس روز جہانگیر خان ورلڈ چمئن بنے، اس سے ٹھیک دو سال پہلے 28 نومبر 1979ء کو ان کے بھائی طورسم خان کا انتقال ہوا تھا۔
قارئین! جہانگیر خان 1993ء کو بطورِ کھلاڑی ریٹائر ہوئے اور تاحال کراچی میں اہلِ خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ 2002ء سے 2008ء تک ورلڈ سکواش فیڈریشن کے صدر کی کرسی پر براجمان رہے ، جب کہ 2008ء کو ورلڈ سکواش فیڈریشن ایمریٹس کے صدر بنے۔ 2018ء کو جاپان میں منعقدہ ایک تقریب میں شاہد آفریدی فاؤنڈیشن (SAF) کے عالمی صدر بنے، جس کی بنیاد مایہ ناز پاکستانی کرکٹر شاہد خان آفریدی نے رکھی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد پاکستان میں صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے جہانگیر خان کی ناقابلِ فراموش خدمات کے اعتراف میں 1984ء کو اُن کے نام سے ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس کے علاوہ 1999ء کو فرانسیسی حکومت کی طرف سے کھیل اور یوتھ ایوارڈ اور 2005ء کو ٹائم میگزین نے اُن کو گذشتہ 60 سالوں میں ایشیا کے ہیروز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے ’’ٹائمز ایوارڈ‘‘ سے نوازا۔ 2007ء کو لندن میٹروپولیٹن یونی ورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ آف فلسفہ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازے گئے۔ 2017ء کو جاپان کی حکومت نے ان کے نام سے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا۔ 2018ء کو کھیل میں شان دار کامیابی کے لیے آٹھویں ایشین ایوارڈ کے فاتح کا اعزاز بھی ان کے نام رہا۔
قارئین! سکواش لیجنڈ جہانگیر خان دنیا کے وہ واحد کھلاڑی ہیں، جنہوں نے لگا تار 555 مقابلے جیتے۔چھے بار ورلڈ اوپن اور دس بار مسلسل برٹش اوپن سمیت دیگر بے شمار اعزازات اپنے نام کیے۔ نئی نسل کو پتا ہونا چاہیے کہ یہ وہ ہیروز ہیں جن کی بدولت دنیا میں پاکستان کا نام اور سبز ہلالی پرچم ہمیشہ سر بلند رہا ہے۔ ہمیں اپنے ان ہیروز کی قدر کرنی چاہیے اور ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
ربِ کائنات جہانگیر خان جیسے ہیروز پاک سرزمین کو عطا فرمائے، آمین!
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے