132 total views, 3 views today

(نوٹ:۔ ڈاکٹر سلطان روم عنوان ’’ہمارے لکھاری اور تاریخ‘‘ کے تحت مضامین کا ایک سلسلہ لکھنا چاہتے ہیں۔ یہ مضمون اس سلسلہ کی پہلی کڑی ہے۔)
تاریخ نویسی ایک فن ہے۔ دوسرے فنون کی طرح اس کے بھی کچھ اپنے اصول و ضوابط ہیں، جن پرمختلف زبانوں میں لاتعداد کتب موجود ہیں۔ ان اصول و ضوابط کو جانے اور ان کا علم حاصل کیے بغیر، تاریخ نویسی میں ان پر عمل پیرا نہ ہونے اور ان اصول و ضوابط کا خیال نہ رکھنے والے کی مثال اس فردکی ہے جو جراحی (سرجری) کا علم حاصل کیے بغیر اور اس کے اصولوں کو جانے اور ان کی پاس داری کا خیال نہ رکھتے ہوئے، لوگوں کی جراحی (سرجری یا آپریشن) کرتا رہے، جس کے انجام کا ہر ذی شعور فرد اندازہ لگا سکتا ہے۔
قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالا نے قلم اور تحریر کی عظمت کا ذکر کیا ہے جو یہ جتانے کے مترادف ہے کہ قلم کا استعمال اور تحریر بچوں کا کھیل اور مذاق نہیں بلکہ ایک طرح سے امانت اور بڑی ذمہ داری کا کام ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے لکھاری نہ تو درکار اصول و ضوابط کا علم حاصل کرنے اور ان پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ تحریر کے وقت ان پر عمل پیرا ہونے اورقلم و تحریر کے تقدس کا خیال رکھتے ہیں۔
ایک محترم نے اپنی کتاب ’’وادئ سوات میں جو ہم پہ گزری‘‘ کے صفحہ 260 پر ڈاکٹر گیان پرکاش صاحب کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ ’’ڈاکٹر گیان پرکاش مذہب کے مطالعہ میں گہری دل چسپی رکھتے ہیں اور وہ مذاہبِ عالم کے بارے میں ایک مخصوص سوچ اور زاویہ نظر رکھتے ہیں۔ میرے ایک قریبی دوست کی ان کے کلینک سے متصل کلینکل لیبارٹری ہے۔ وہ مجھے بتاتے ہیں کہ سوات میں طالبانائزیشن کے دوران کسی نے ان سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کو کوئی خطرہ تو نہیں ہے اور کہیں آپ ہندوستان شفٹ تو نہیں ہو رہے ہیں؟ انھوں نے جواب میں کہا کہ ’’ہم تو سوات کے قدیم باشندے ہیں۔ ہمارے آبا و اجداد یہاں صدیوں سے رہتے چلے آئے ہیں۔ ہم کیوں یہاں سے جائیں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا یہ تھا کہ ’’یوسف زئ تو سوات میں پانچ سوسال سے آباد ہیں، وہ اس سرزمین کے اصل باشندے بھی نہیں ہیں۔ ہم ان کی آمد سے پہلے یہاں مقیم تھے۔‘‘
ڈاکٹر گیان پرکاش صاحب کے متعلق ایک اور صاحب نے بھی پشتو زبان میں تحریر کردہ اپنی کتاب ’’دیوال سرہ خبرے‘‘ میں صفحہ 156 پر بھی پشتو میں کچھ اس طرح کی باتیں تحریر کی ہیں، جن کو اُردو کے سانچے میں کچھ اس طرح ڈھالا جاسکتا ہے کہ سال 2006ء میں سوات میں امراضِ اطفال کے مشہور سپیشلسٹ ڈاکٹر گیان پرکاش کے ساتھ ایک ٹی وی پروگرام کے لیے بات کر رہا تھا۔ مَیں نے غیر ارادی طور پر ان سے سوال کیا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ کا گھرانا کب یہاں پر آباد ہوا ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے مجھے حیرت سے دیکھا اور کہا: یہ تو میرے آبا و اجداد کی مٹی ہے۔ میں تو یہاں پشتوں سے آباد ہوں۔ بس، یہ ہے کہ میں اپنے عقیدے پر قائم رہا ہوں اور تم مذہب تبدیل کیے ہوئے ہو۔
محترمِ اوّل کی کتاب پر اپنی تحریر میں ثنا اعجاز نے دوسری کئی غیر حقیقی باتوں کے علاوہ (صفحہ 17 پر) یہ بھی لکھا ہے کہ ’’اور پھر پاکستان میں شامل ہونے سے پہلے ایک ایسی ریاست جہاں والی صاحب کے حکم نامے کے مطابق 1960ء کی دہائی میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کا نکاح پڑھانے پر مولوی کو 200 روپے جرمانہ کرنے جیسے احسن اقدامات……‘‘
محترم اوّل نے اپنی کتاب کے ’’پیش لفظ‘‘ میں (صفحہ 23 پر) یہ بھی تحریر کیا ہے کہ ’’اس کتاب پر سوات سے تعلق رکھنے والے ممتاز مؤرخ ڈاکٹر سلطان روم صاحب نے ایک تنقیدی نظر ڈالی ہے اور مجھے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا ہے، جس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں۔‘‘ لیکن کاش کہ محترم میرے مشوروں کا احترام بھی کرتے اور ان کے مطابق نہ ڈاکٹر گیان پرکاش صاحب کی محولہ بالا باتیں کتاب میں شامل کرتے اور نہ میرے متعلق مذکورہ باتیں…… اور اگر ان کو میرے مشوروں کا احترام کرنا نہیں تھا، تو پھر ساتھ یہ بھی لکھتے کہ مَیں نے ڈاکٹر سلطان روم کے تمام مشوروں پر عمل نہیں کیا، یا ان کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ (مَیں نے محترمِ اوّل کے مسودے پر ایک نہیں بلکہ دو دفعہ تنقیدی نظرڈالی ہے اور اسے اپنے مشورے دیے ہیں۔ اُسے ایک سے زیادہ مرتبہ بتایا ہے کہ مَیں نے آپ کے مسودہ پر اپنی نہیں بلکہ آپ ہی کے سوچ اور نقطہِ نظر کو مدِنظر رکھتے ہوئے تنقیدی نظر ڈالی ہے اور صرف ان جگہوں پر نظرِثانی اورترامیم کا مشورہ دیا ہے، جو یا تو بالکل غلط اور حقائق کے منافی ہیں یا ان میں بہت زیادہ مبالغہ آمیزی ہے، یا وہ جگہیں خود آپ کی سوچ کے خلاف ہیں۔ باقی کتاب آپ کی ہے، آپ ہی کے نام سے شائع ہوگی اور نیک نامی یا بدنامی، جو بھی ہو، آپ ہی کے لیے لائے گی۔ میرے لیے نہیں۔ آپ میرے مشوروں کو ماننے کے پابند نہیں۔ تاہم میرے خیال میں ان کو ماننا آپ کے لیے بہتر ہوگا۔)
محترمِ اوّل کی کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی تھی اور میرا خیال تھا کہ انھوں نے میرے مشوروں پر عمل کیا ہوگا کہ ڈاکٹر گیان پرکاش صاحب سے ملاقات کے وقت مَیں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ کے بارے میں کسی نے کتاب میں اس طرح کی باتیں تحریر کی تھیں، لیکن مَیں نے اسے کہا کہ ان کو شاملِ کتاب کرنا ٹھیک نہیں۔ ڈاکٹر صاحب بولے کہ یہ تو ایک کالا صحافی آیا تھا اور مَیں نے اس کے سوال کے جواب میں کہا تھا اور مَیں اب بھی اپنی بات پرقائم ہوں۔
ڈاکٹر صاحب مزید کہنے لگے کہ یہ یوسف زیٔ تو پانچ سو سال ہوئے کہ یہاں آئے ہیں۔ یہاں پر تو ہندوشاہی کی حکومت تھی، وہ کون تھے؟ اور ہندو مت اور سکھ مذہب تو اسلام سے پرانے مذاہب ہیں اور ہم یہاں کے اصل باشندے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی یہ باتیں سن کر مجھے ان کی عقل و دانش اور معلومات پر حیرانی ہوئی اور خاموش رہ گیا۔ اس کے بعد بھی کئی دفعہ ڈاکٹر صاحب ان خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تاہم عجیب صورتِ حال اس وقت دیکھنے کو ملی، جب 24 ستمبر 2021ء کو گاؤں رونڑیال میں پروفیسر عبدالواحد خان صاحب کی وفات کے تیسرے روز بہ وقتِ عصر ڈاکٹر صاحب اپنے دو دوستوں کے ہم راہ تعزیت کے لیے تشریف لائے اور وہاں پر بھی موقع کی مناسبت سے خاموش رہنے کی بجائے مذکورہ باتوں کو بڑی ڈھٹائی سے بیان کرنا شروع کیا، جس کی وجہ سے اس کے دوستوں کونہ صرف خفت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ مجبوراً بہت جلد تعزیت کرکے وہاں سے رخصت ہونا پڑا۔ مزید برآں 4 جون 2021ء کو ڈاکٹر صاحب مجھے گاؤں گل بانڈئ میں مخاطب کرتے ہوئے بولے کہ پروفیسر صاحب یہ لکھی ہوئی تاریخ تعصب پر مبنی ہے اور آپ لوگ سچ نہیں لکھ سکتے یا نہیں لکھتے۔ اپنی بات کی دلیل میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مغل بادشاہ اورنگ زیب اور شاہ ولی اللہ کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ ہندوؤں اور سکھوں کو نہیں چھوڑیں گے، لیکن آپ لوگ یہ حقیقت چھپاتے ہیں۔
ان مذکورہ باتوں کے تناظر میں یہ تحریر قارئین کویہ بات دکھانے اور سمجھانے کی خاطر ایک کو شش ہے کہ ان دعوؤں اور باتوں کی حقیقت کیا ہے؟ اور حقائق اور تاریخ کو کس طرح بے دردی سے مسخ کیا جاتا ہے۔
پہلے اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ والی صاحب نے نکاح اور نکاح ناموں کی بابت ایک نہیں بلکہ کئی ایک حکم نامے جاری کیے ہیں، جن میں نابالغ لڑکی کے نکاح کی صورت میں نہ صرف نکاح پڑھانے والے مولوی بلکہ اس طرح کے نکاح ناموں کو دستخط کرنے والے عاملوں یعنی متعلقہ حاکم یا تحصیل دار کو جرمانہ کرنے اور نوکری سے برخاست کرنے کا بھی ذکر ہے۔ مثال کے طور پر 15 مارچ 1957ء کو وزیرِ ملک صاحب کے نام ایک حکم میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس عامل یعنی حاکم، تحصیل دار نے بھی نابالغ لڑکی یا لڑکے کا نکاح نامہ دستخط کیا، تو وہ عامل نوکری سے برخاست ہوگا، یا پانچ سو روپے جرمانہ ادا کرے گا۔ جب کہ 5 جنوری 1960ء کا ایک حکم نامہ ہے کہ جس مُلا نے بھی ایک نابالغ لڑکی کا نکاح پڑھایا، تو وہ دو سو روپے جرمانہ ادا کرے گا اور یا چھے ماہ قید کاٹے گا۔ اور اگر عامل نے نابالغ لڑکی کے نکاح نامہ پر دستخط ثبت کیے، تو پانچ سو روپے جرمانہ ادا کرے گا، یا برخاست ہوگا۔ ان حکم ناموں میں یا والی صاحب کے اس طرح کے جتنے بھی حکم نامے میری نظر سے گزرے ہیں، ان میں کسی میں بھی لڑکی کی عمر کے بارے میں ’’اٹھارہ سال‘‘ سے کم ہونے کا ذکر نہیں بلکہ نابالغ ہونے کا ذکر ہے۔ اُس وقت کے قانون اور رواج کے مطابق بلوغت کا معیار ’’اٹھارہ سال‘‘ کی عمر نہیں بلکہ لڑکی کی ماہواری شروع ہونے اور اس پر رمضان کے روزے فرض ہونا تھا۔
اب آتے ہیں ڈاکٹر گیان پرکاش صاحب کے حوالے سے مذکورہ باتوں کی طرف:
پہلی بات یہ کہ عام خیال اور مذکورہ دونوں صاحبان کی کتب میں تحریر کیے گئے دعوے کے برعکس ڈاکٹر صاحب نے اگرچہ ایم بی بی ایس کے بعد اطفال یا بچوں کے متعلق ایک کورس تو کیا ہے، لیکن وہ سپیشلائزیشن کے زمرے میں نہیں آتا۔ ڈاکٹر صاحب نہ ایم آر سی پی ہے، نہ ایف آر سی پی اور نہ ایف سی پی ایس۔ لہٰذا وہ اس طرح کا سپیشلسٹ ڈاکٹر نہیں جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے۔ جہاں تک ڈاکٹر صاحب کے مذکورہ بالاذاتی دعوؤں کا تعلق ہے، تو خود ڈاکٹر صاحب ہی کے بہ قول ان کا والد بونیر سے سوات نقلِ مکانی کرچکا تھا اور ڈاکٹر صاحب کے خاندان کے دوسرے افراد اب بھی بونیر میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب کا خاندان سوات کا پرانا یا قدیم باسی نہیں اور اس کے ہندوشاہی خاندان سے تعلق کے کوئی شواہد بھی موجود نہیں۔
مذہبی لحاظ سے ڈاکٹر صاحب کا تعلق سکھ مذہب سے ہے، ہندو مت سے نہیں۔ لہٰذا ان کا یہ دعوا بھی بے بنیاد ہے کہ ان کا مذہب اسلام سے قدیم ہے۔ اگرچہ ہندو مت اسلام سے قدیم مذہب ہے، لیکن سکھ مذہب تو 15ویں اور 16ویں صدی عیسوی میں وجود میں آیا ہے۔ اس لیے کہ سکھ مذہب کا بانی بابا گرو نانک 1469ء میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور 1538ء میں انتقال کرگیا تھا۔ لہٰذا سکھ مذہب، اسلام سے اور سکھ، مسلمانوں سے قدیم نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ دعوا بھی کھوکھلا ہے کہ انھوں نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا ہے۔ اس لیے کہ ان کے آبا و اجداد نے ہندو مت چھوڑ کر سکھ مذہب اپنایا تھا۔
میرے مشاہدے اور ڈاکٹر صاحب سے سنی ہوئی باتوں کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا مذاہب کا نہ تو کوئی گہرا مطالعہ ہے اور نہ مذہب کے مطالعے میں گہری دلچسپی۔ وہ جو بھی باتیں کرتے ہیں، ان میں سے جن کے متعلق مَیں نے ان سے استفسار کیا ہے کہ یہ کس کتاب میں ہیں؟ تو جواب یہی ملا ہے کہ ’’پہ اخبار کے وو نو‘‘ یعنی ’’بس اخبار ہی میں تحریر تھا۔‘‘ کون سے اخبار میں اور کس تاریخ کے اخبار میں؟ کوئی پتا نہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی تاریخ کے علم کا اندازہ ان کی دوسری باتوں کے علاوہ ان کے اس دعوے سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر اور شاہ ولی اللہ کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ ہندوؤں اور سکھوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ یاد رہے کہ شاہ ولی اللہ 21 فروری 1703ء کو شمالی ہند میں دہلی میں پیدا ہوا تھا، جب کہ اس وقت اورنگ زیب عالمگیر جنوبی ہند یا دکن میں (گذشتہ کئی سالوں سے) بغاوتوں کے خلاف برسرِ پیکار تھا (اس کی زندگی کے آخری 25 سال اورنگ زیب دکن ہی میں رہا) اور وہاں پر ہی 21 فروری 1707ء کو وفات پاکر وہیں مدفون ہے۔ جس بچے کی عمر اورنگ زیب کی وفات کے وقت صرف چار سال ہی تھی، اس کے اور اورنگ زیب کے درمیان اس طرح کا معاہدہ کس طرح ممکن تھا؟ جب کہ اس پر مستزاد یہ کہ نہ تو دونوں ایک ہی علاقے میں تھے اور نہ 18ویں صدی عیسوی کے اُن ابتدائی سالوں میں 21ویں صدی کے آج کل کی طرح موجودہ ذرائع ابلاغ و مواصلات ہی موجود تھے۔
باقی آئندہ اِن شاء اللہ!
…………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے