24 total views, 1 views today

موت سب کو مارتی ہے…… لیکن شہید موت کو مار دیتا ہے۔ کیوں کہ وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے! حامد میر۔ (1)
٭ بلور خاندان کی قربانیوں کا مختصر سا جائزہ:۔ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بلور خاندان کی سیاسی تاریخ اہمیت کی حامل ہے۔ اس خاندان کو پشاور کا اہم سیاسی خاندان سمجھا جاتا ہے۔ ہارون بلور کی شہادت سے قبل بھی بلور خاندان کئی سانحات سے دوچار ہوچکا ہے۔ 1997ء کے انتخابات کے دوران میں حاجی غلام احمد بلور کے اکلوتے اور جواں سال بیٹے شبیر بلور مخالفین کی گولیوں کا نشانہ بن گئے تھے۔ اس کے بعد بلور خاندان ایک اور سانحہ کا شکار ہوا، جب اے این پی کے رہنما بشیر بلور 2012ء میں پشاور ہی میں پارٹی کے جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہوگئے۔ 2 برس بعد بشیر کے بیٹے اور ہارون بلور کے بھائی عثمان بلور دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے۔ 2013ء کے انتخابات سے قبل بھی ہارون بلور شہید ایک دھماکے میں بال بال بچے تھے۔ اپریل 2013ء میں پشاور میں یکہ توت کے علاقے میں منعقدہ عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے میں ہونے والے دھماکے میں 17 افراد کی شہادت ہوئی تھی۔ یہ دھماکا ایک عمارت کے باہر ہوا تھا جس کی پہلی منزل پر غلام احمد بلور اور ہارون بلور ایک اجلاس میں شریک تھے، تاہم وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔ (2)
حامد میر صاحب لکھتے ہیں کہ بم دھماکوں کا خوف ختم کرنے کے لیے مَیں نے پشاور میں امن مارچ کا فیصلہ کیا۔ کیوں کہ یہاں جلسے جلوسوں کا رواج ہی ختم ہو رہا تھا۔ میری اس تجویز پر سب سے پہلے بشیر بلور نے ہاں کہی۔ جس دن جلوس نکالنا تھا، مَیں مقررہ وقت پر پشاور پریس کلب کے باہر پہنچ گیا اور سب سے پہلے بشیر بلور وہاں پہنچے۔ پھر میاں افتخار حسین، اقبال ظفر جھگڑا، مفتی کفایت اللہ اور بہت سے صحافی بھائیوں نے مل کر امن مارچ شروع کیا۔ یہ مارچ ختم ہوا، تو بشیر بلور زبردستی مجھے اپنے گھر لے گئے جہاں ہارون بلور نے ہمارے لیے پُرتکلف ظہرانے کا بندوبست کر رکھا تھا۔ یہ دونوں باپ بیٹا بڑی محبت اور شوق سے ہمیں کھانا کھلاتے رہے اور بشیر بلور بار بار قہقہہ لگا کر کہتے، یہ دہشت گرد ہماری مسکراہٹیں چھیننا چاہتے ہیں۔ ہم مسکرانا بند نہیں کریں گے اور ہارون بلور مسکراتے ہوئے میری پلیٹ میں مزید تکے ڈال کر کہتا، لیجیے پشاور کے تکے کھائیے اور مسکرائیے۔ (3)
شہید ہارون بلور 3 اگست 1974ء کو پشاور میں شہید بشیراحمد بلور کے گھر میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہیں سیاست سے بہت لگاؤ تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ میرینز سکول پشاور میں حاصل کی اور پھر ایڈورڈز کالج میں داخلہ لیا۔ ایڈورڈز کالج میں وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا حصہ بن گئے اور باقاعدہ طو رپرسٹوڈنٹ یونین کی سطح پر سیاست شروع کی۔ ایڈورڈ زکالج سے فراغت کے بعد انہوں نے قانون کی تعلیم پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی اور پھر وہ اعلا تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے اور وہاں سے لا کی ڈگری حاصل کی۔ وکالت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطنِ عزیز اور اس کے شہریوں کی خدمت کے لیے ملک واپس آئے اور یہاں پر وکالت شروع کی۔ ایک سیاسی گھرانے میں جنم لینے کے باعث سیاست ان کی رگ رگ میں شامل تھی۔ اس لیے انہوں نے وکالت کو خیر باد کہہ دیا اور عملی سیاست کا حصہ بن گئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پہلی بار عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا اورکامیابی حاصل کی۔ وہ پشاور کے ٹاؤن ون کے ناظمِ اعلا منتخب ہوئے۔ اسی دوران میں انہوں نے ٹاؤن ون کے عوام کے لیے بہت کام کیا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے والد بشیر احمد بلور کی ہر سیاسی سرگرمی میں ساتھ رہے۔ بشیر احمد بلور کی شہادت کے بعد خیبر پختونخوا میں وزیرِ اعلا کے مشیر رہے۔ انہوں نے 2013ء میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کے لیے اپنے والد کے حلقہ سے الیکشن لڑا اور ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔2014ء میں وہ عوامی نیشنل پارٹی کی کابینہ کا حصہ بن گئے اور سیکرٹری اطلاعات کے عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے ایک مرتبہ پھر 2018ء الیکشن کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر پی کے 78 سے صوبائی الیکشن کے لیے کاغذاتِ نام زدگی جمع کرائے اور الیکشن جیتنے کے لیے جلسوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ خود ان جلسوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔
وہ الیکشن سے ٹھیک 14 دن پہلے 10 جولائی 2018ء کو پشاور کے علاقے یکہ توت میں عشا کے وقت ایک کارنر میٹنگ میں شرکت کے لیے پہنچے، تو وہاں پر کارکنان نے ان کا شان دار استقبال کیا۔ شہید ہارون بلور کے ساتھ کارکنان سیلفیاں لے رہے تھے اور یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری تھا، جوں ہی وہ سٹیج تک پہنچے، تو اسی دوران میں ایک زوردار دھماکا ہوا اور وہ شہید ہوگئے۔ اس حملے میں شہید ہارون بلور کے ساتھ 20 سے زائد کارکنان بھی شہید ہوگئے۔ (4)
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح بھی کرجاؤں گا
حوالہ جات:
1:۔ ’’آؤ ہارون بلور کا بدلہ لیں!‘‘ قلم کمان/ حامد میر (12 جولائی 2018ء)، روزنامہ جنگ۔
2:۔ ’’بلور خاندان کی قربانیاں…… ایک مختصر جائزہ‘‘، ایس علی حیدر (12 جولائی 2018ء)
3:۔ ’’آؤ ہارون بلور کا بدلہ لیں!‘‘ قلم کمان/ حامد میر (12 جولائی 2018ء)، روزنامہ جنگ۔
4:۔ ’’آج پھرتیری بہت یاد آئی (شہید ہارون بلور)‘‘ 10 جولائی 2020ء، تحریرشاہد جان، روزنامہ آئین پشاور۔
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے