43 total views, 1 views today

’’تناسخ‘‘ کو سنسکرت میں ’’اواگون‘‘ کہتے ہیں۔ اس کے ماننے والے یہ معنی بتاتے ہیں کہ گناہوں کے باعث اور نیکیوں کے باعث بار بار جنم لینا اور مرنا۔
اس بارے آریوں (ہندوؤں) کا عقیدہ ہے کہ ارواح کی تعداد محدود ہے اور اللہ تعالا نئی ارواح پیدا نہیں کرسکتا۔ اس لیے ہر روح کو اس کے گناہوں کی وجہ سے اواگون کے چکر میں ڈال رکھا ہے اور ہر گناہ کے بدلے میں روح 1 لاکھ 84 مرتبہ مختلف شکلوں میں جنم لیتی ہے۔ بعض اپنشدوں کے مطابق ارواح کو مرنے کے بعد دو راستوں میں سے ایک سے سفر کرنا ہوتا ہے۔ ایک دیوتاؤں کا راستہ ہے، دوسرا آبا کا راستہ۔ اعلا ترین ارواح دیوتاؤں کے راستہ سے سفر کرکے عالمِ خداوندی تک پہنچ جاتی ہیں اور خدا تعالا کی ذات میں جذب ہوجاتی ہیں۔ نیک ارواح دوسرا راستہ اختیار کرکے چاند تک پہنچتی ہیں اور وہاں جاکر اپنے نیک اعمال کی وجہ سے آرام اور سکھ اُٹھاتی ہیں اور وقت پورا ہونے پر پھر زمین میں دوبارہ پیدا ہونے کے لیے نزول کرتی ہیں۔
٭ رد از روئے سائنس: سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان کی پیدائش سے کروڑوں سال قبل اس کرۂ ارض پر صرف جمادات، نباتات اور حیوانات بستے تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حیوانات، نباتات وغیرہ انسانی اعمال کے نتائج نہیں۔
٭ رد از روئے ارتقا:۔ دنیا میں ہر چیز رواں دواں ہے۔ اگر عقیدۂ تناسخ کی رو سے ایک انسان اپنے گناہوں کی پاداش میں کتا، سور اور گھوڑے وغیرہ کی جون اختیار کرلیتا ہے، تو یہ ارتقا نہیں تنزل ہے۔ پس مسئلہِ ارتقا کی رو سے انسان نے آگے کی طرف ترقی کرنا ہے اور ضروری ہے کہ اس کی اگلی حالت موجودہ حالت سے بہتر ہو۔
٭ رد از روئے آسمانی علم:۔ تمام سماوی کتابوں نے اعمال کی جز ا و سزا کے لیے کوئی عالم بتایا ہے اور اس جہاں کو دارالعمل قرار دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ عقیدہ آسمانی علم پر مبنی نہیں بلکہ ذہن کی پیداوار ہے۔
٭ رد از روئے انسانی فطرت:۔ انسانی فطرت یہ گواہی دیتی ہے کہ وہ اس سے قبل اس دنیا میں کبھی نہیں آئی اور نہ اس نے ہزاروں مجسمے (شکلیں) تبدیل کیں بلکہ اس کے برعکس یہ گواہی دیتی ہے کہ انسان پہلی دفعہ اس دنیا میں آیا اور اس نے دوسروں سے رشتے ناتے جوڑے۔
٭ صفاتِ الٰہی کے منافی:۔ تمام مذاہب عالم کا یہ متفقہ اور مسلمہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالا تمام عیوب سے منزہ اور پاک ہے۔ عقیدۂ تناسخ اللہ تعالا کی صفات ’’خالقیت‘‘ اور ’’غفوریت‘‘ کے خلاف ہے۔ اس عقیدہ کی رُو سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالا نئی روح پیدا نہیں کرسکتا۔ یہ اللہ تعالا کی ذات میں نقص ہے۔ (نعوذ باللہ!)
ہماری اس دنیا کی تمام نعمتیں مثلاً گھوڑا، گائے، بیل، گھی، دودھ اور پھل وغیرہ نظریۂ تناسخ کی رو سے پچھلی جنم کی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ یہ تمام نعمتیں نہ صرف بابرکت ہیں بلکہ انسانی زندگی کا انہی پر دار و مدار ہے۔ جب یہ تمام نعمتیں گناہوں کا ثمر ٹھہریں، تو لا محالا گناہ کو ہی زندگی کا دار و مدار ٹھہرانا پڑے گا۔
اس عقیدے کی رو سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ تمام مصلحین و موحدین جن کو دکھ دیے گئے، وہ سب اپنی پچھلی جنم میں بدکار اور فاسق تھے۔ کیوں کہ اس عقیدے کی رو سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ان مصلحین کو ان کے پچھلے جنم کی بد اعمالیوں کی وجہ سے دکھ دیے گئے۔
الغرض، اس عقیدے سے تمام دنیا کا قانون اور نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص قتل ہوگیا۔ اگر اس عقیدے کی رو سے یہ اس کے پچھلی جنم کے عمل کا نتیجہ ہے، تو پھر اس مقتول کے قاتل کو پھانسی یا قصاص کی سزا کیوں دی جائے؟ اس نے تو خدا کے منشا کے مطابق کام کیا۔
نتیجہ یہ کہ ایک غریب، مسکین اور بے بس انسان سے ہمدردی کا جذبہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ یہ غربا و مساکین تو اپنے کسی پچھلے جنم کے کسی برے عمل کی سزا بھگت رہے ہیں۔ چناں چہ اس کی مدد کرنا خدا تعالا کے منشا کے خلاف ہوگا اور ہم دردی کرنے والا جرم کا ارتکاب کرے گا۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے