140 total views, 3 views today

جب مارکس اور اینگلز کے دوستوں میں ڈینیل، ریتھ اور کونراڈ شرام یکے بعد دیگرے انتقال کرتے گئے، تو وہ اکثر شکایت کرتے تھے کہ اولڈ گارڈ کی صفیں تیزی سے پتلی کی جا رہی ہیں اور یہ کہ کوئی نیا خون سامنے نہیں آرہا ہے۔
لگتا ہے کہ یہی حال آج بھی ہے۔ نئے لوگ کم پیدا ہو رہے ہیں اور اولڈ گارڈ کی صفیں پتلی ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں کمال خان جیسے اولڈ گارڈ کا بچھڑ جانا، تو بہت بڑا نقصان ہے اس پورے علاقے کے لیے ۔ اس کا احساس وقتی طور پر جذباتی صورت میں ہوتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس بڑے انسان کی غیر موجودگی شخصی طور پر بھی تنگ کرتی رہے گی اور قومی و علاقائی طور پر بھی۔ مَیں نے بہت غور کیا کہ کمال خان میرے لیے کس لحاظ سے اہم تھے؟ وہ میرے لیے فکری راہنمائی کے بطور بہت ہی اہمیت کے حامل تھے، مگر سچی بات یہ بھی ہے کہ فکری راہنمائی کی مسند پر تو اور محترم لوگ بھی کافی موجود تھے، تو کمال خان میں ایسا کیا کمال تھا؟ (1)
پروفیسرنجیبہ عارف، سائیں کے بارے میں لکھتی ہیں: باوجود اس کے کہ سائیں پختونخوا ملی پارٹی کا بنیاد گزار تھا اور میں ایک ٹھیٹ پنجابی۔ اور باوجود اس کے کہ مَیں اُس سے کبھی ملی نہ اُسے دیکھا، نہ میں کبھی بلوچستان گئی، نہ کبھی وہ سنگلاخ چٹانیں دیکھیں، نہ انگور کی بیلوں سے چھتے ہوئے اس کے مہمان خانے کی پتھریلی سلوں کے صوفے پر نیم دراز ہو کر سورج کے رُخ پر رکھ کر وہ کتابیں پڑھیں جو دنیا بھر سے اُس کے پاس پہنچ جاتی تھیں۔ پھر بھی مجھے اس سے شدید اور گہری وابستگی محسوس ہو رہی ہے۔ محبت کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے، ورنہ شاید محبت ہی کہہ دیتی۔ (2)
سائیں کمال خان ضلع شیرانی کے شمال مغربی علاقے میں واقع چلغوزے کے درختوں سے ڈھکے مشہور پہاڑ شین غر کے دامن میں آباد سرسبز گاؤں شنہ پونگہ میں 1924ء میں پیدا ہوئے۔ شین غر اور شنہ پونگہ دونوں سے ’’سبز‘‘ کے معنی جھلکتے ہیں اور سائیں سبز رنگ کے دل دادہ تھے۔ وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ لگتا ہے خدا کو بھی سبز رنگ پسند ہے، تبھی تو دنیا میں سبز رنگ کا غلبہ ہے۔
ان کے والد کا نام ملک عیسیٰ خان اور دادا کا جمعہ خان تھا۔سائیں کے تین بھائی تھے، نواب خان، ابراہیم خان اور مٹھا خان۔ سائیں والدین کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ سائیں کو عہدِ طفولیت ہی میں تعلیم کی خاطر طویل سفر اختیار کرنا پڑا۔ پرائمری تک تعلیم گاؤں ’’کڑمہ‘‘ میں حاصل کی۔ 1935ء میں گاؤں سے پنجم پاس کرنے کے بعد فورٹ سنڈیمن (ژوب شہر) تشریف لے گئے۔ فورٹ سنڈیمن مڈل سکول (گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول) سے ہشتم پاس کرنے کے بعد پشین کا رُخ کیا۔مشن ہائی سکول پشین سے میٹرک کے بعد 1942ء میں اسلامیہ کالج پشاور کا انتخاب کیا۔
اسلامیہ کالج پشاور میں انہوں نے چارسدہ کے پروفیسر محمد ادریس سے فلسفہ، سوشلزم اور سیاست کا درس لیا۔ اسی زمانے میں مولانا سید ابواعلا مودوی سے ان کی خط وکتابت بھی ہوئی۔1945ء میں اسلامیہ کالج سے بی اے کرکے فارغ ہوگئے۔ بی اے اکنامکس میں انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اسلامیہ کالج جیسے معروف و معتبر ادارے کے گولڈ میڈلسٹ جیسے اعزاز یافتہ اور اقتصادیات و سیاسیات کے ماہر اس تعلیم یافتہ نوجوان نے لندن اور ماسکو جیسے پُررونق اور آباد شہروں کی بجائے دوبارہ بلوچستان کے پس ماندہ اور ویران صحراؤں کا رُخ کیا۔ یہ سائیں کمال خان کا سب سے بڑا کمال تھا۔
فراغت کے فوراً بعد حکومتِ وقت نے آپ کی قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو تحصیلِ گلستان میں نائب تحصیل دار کے عہدے پر فائز کردیا۔ پنج سالہ ملازمت کے بعد 1950ء میں سائیں کمال خان شیرانی اور ان کے دو احباب میر عبداللہ جان جمال دینی اور سردار بہادر خان بنگل زئی نے سرکاری تکبر اور حکومتی رعونت سے نفرت کے سبب احتجاجاً استعفا دے دیا۔ پچاس کی دہائی میں نائب تحصیل دار جیسے منافع بخش، با اثر اور طاقت ور بیورو کریٹک نوکری کو چھوڑنا کوئی مذاق نہ تھا۔ بائیں بازو کے اس ملنگ کے لیے البتہ یہ دائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ان کا آزاد سر، غلام سرکار کو ’’یس سر‘‘ کہنے کے لیے کبھی نہ جھک سکا۔
سائیں کمال خان شیرانی نے اپنی سیاسی جد و جہد اور ادبی سفر کا آغاز1950ء میں عبداللہ جان جمال دینی (نوشکی)، ڈاکٹر خدائیداد (پشین)، سردار بہادر خان بنگل زئی اور دیگر احباب کے ساتھ لٹ خانہ سے کیا۔ لٹ خانہ کو بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کے سیاسی، ادبی اور مرکزی دفتر کا درجہ حاصل تھا۔ بقولِ کسے اِس مکان کے مکین یہ لٹ (متوالے) جدید و قدیم فلسفہ کے بھید کھولتے۔ پوشیدہ علوم کے اَسرار جانتے۔ سیاسی مسائل کا حل نکالتے اور معاشی و اقتصادی مسائل پر بحث کرتے۔ گویا لٹ خانہ بلوچستان کے تعلیم یافتہ قوم پرست انقلابی نوجوانوں کی غیر منتخب شدہ سیاسی اسمبلی اور انقلابی کورٹ کا نام تھا۔ درحقیقت لٹ خانہ کسی سنٹر یا ادارے کی بجائے ایک منظم تحریک اور نظریے کا نام تھا جہاں انقلابی عناصر، پشتون اور بلوچ قومیت سے بے نیاز سیاسی نظریات اور انقلابی خیالات کے اشتراک سے شیر و شکر ہوگئے تھے۔ سائیں بلاشبہ اس لٹ خانہ کے روحِ رواں تھے ۔
سرکاری نوکری کو لات مارنے کے بعد سائیں کمال خان شیرانی نے ایک طرف لٹ خانہ تحریک کو منظم کیا، تو دوسری طرف انہوں نے پانچ دیگر احباب سمیت فی الحال ’’سٹیشنری مارٹ‘‘ کے نام سے ایک کتب خانہ کھولا۔ سٹیشنری کھولنے کے بعد انہوں نے ’’پشتو ادبی ٹولنہ‘‘ کے نام سے انجمن بنائی۔ اسی انجمن کی زیرِ سرپرستی انہوں نے پشتو زبان کی ترویج کے لیے اپنے ماہنامہ ’’پشتو‘‘ کی اشاعت کا آغاز کیا۔
سائیں کمال خان شیرانی نے 1951ء میں عبدالصمد خان اچکزئی کی تنظیم ’’ورور پشتون‘‘ میں شمولیت سے ان کے ساتھ اپنی سیاسی رفاقت کا آغاز کیا۔ ’’ورور پشتون‘‘ نیشنل عوامی پارٹی میں ضم ہوئی، تو سائیں بھی نیپ کے ہم سفر بنے۔ آپ ہی کی کوششوں سے ژوب کی معروف شخصیات مولوی رحمت اللہ مندوخیل (سکالر و ادیب)، سائیں کمال الدین کمال شیرانی (شاعر و ادیب) اور عبدالرحیم مندوخیل (سیاست دان و ادیب) پشتون قومی تحریک کے ساتھی بنے۔
جولائی1953ء میں سائیں نے اپنے رسالے ’’پشتو‘‘ کی اشاعت کا آغاز کیا۔ یہ بلوچستان کا ’’پہلا پشتو ماہنامہ‘‘ تھا۔ سائیں اس رسالے کے ایڈیٹر تھے۔ اس کے کل بارہ شمارے نکلے جن میں چھے یک ماہی اور چھے شمارے دو ماہی تھے۔ اس رسالے میں چوں کہ سوشل ازم اور نیشنل ازم سے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے، اس لیے جون 1954ء میں حکومت نے اس پر پابندی لگا دی۔
سائیں نے 1954ء میں مغل کوٹ کے مقام پر ایک پرائمری سکول قائم کیا، تاہم بعض افراد کی مخالفت کے باعث تعلیمی ترقی کا یہ سلسلہ آگے نہ چل سکا۔
ون یونٹ کے بعد عبدالصمد خان اچکزئی نیشنل عوامی پارٹی سے علاحدہ ہوئے، تو سائیں نے بھی ان کی رفاقت میں نیپ کو خیرباد کہہ دیا۔ انہوں نے مل کر ’’پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی‘‘ کی بنیاد رکھی اور آپ مرکزی کمیٹی کے ممبر منتخب کیے گئے۔ عبدالصمد خان اچکزئی کی رحلت کے بعد انہوں نے تنظیم کو بحران سے نکالنے کے لیے پارٹی کا مرکزی کانگریس منعقد کرایا اور ان کے فرزند محمود خان اچکزئی کو مرکزی صدر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
سائیں کمال خان شیرانی کو 1994ء میں پارٹی نے سینیٹر بننے کی پیشکش کی۔ سائیں نے اس پُرکشش پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی اور دیگر لیڈروں کی بسیار کوششوں کے باوجود سائیں کو الیکشن لڑنے پر قائل نہ کیا جاسکا۔
سائیں کمال خان شیرانی نے انگریزی زبان کی کئی معروف کتابوں کا پشتو میں ترجمہ کیا ہے۔ عبدالصمد خان اچکزئی کے حکم پر انہوں نے میکسم گورکی کے ناول ’’ماں‘‘ کا پشتو ترجمہ کیا، تاہم بعد میں مذکورہ ترجمہ ان سے کہیں گم ہوگیا تھا۔’’سقراط کا مقدمہ‘‘ جیل اور زہر کا پیالہ پر انہوں نے کام کیا ہے۔ والٹیئر کی کتاب ’’کانڈیڈ‘‘ کا انہوں نے ’’سپیسلی‘‘ کے نام سے پشتو ترجمہ کیا۔ کرسٹوفر کاڈویل کے مضمون ’’لبرٹی‘‘ کا ترجمہ پشتو میں ’’آزادی‘‘ کے نام سے کیا۔ ’’ڈائیلاگز آف پلیٹو‘‘ کا ترجمہ ’’دہ افلاطون ژغاوے‘‘ کے نام سے پشتو زبان میں کیا۔ اپنے استاد پروفیسر محمد ادریس کے کہنے پر میکسم کورگی کی سوانح عمری کا ترجمہ بھی کیا جب کہ غلام محمد کی کتاب ’’اسلام اِن پریکٹس‘‘ کا ترجمہ ’’ریشتنی اسلام‘‘ کے نام سے کیا۔(3)
میکسم گورکی کی طرح سائیں کمال خان شیرانی بھی نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے، لکھنے میں رہنمائی کرتے، اُن کو کتابیں فراہم کرتے اور انہیں قوم اور قومی تحریک کے لیے اپنا قلم استعمال کرنے کی ترغیب دیتے۔ صوبے بھر کے ادبا کو جب بھی موقعہ ملتا، تو وہ علم کی پیاس بجھانے کے لیے سائیں کے محفل کا رُخ کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان شعرا و ادبا کے کلام پر مترقی اور انقلابی رنگ سب سے زیادہ چھایا ہوا ملتا ہے۔
ایک صدی پر محیط زندگی میں سائیں اپنی قوم اور معاشرے میں موجود ذہنی و سیاسی غلامی کے خلاف بڑی جرأت سے علمی ا ور عملی بنیادوں پرجدوجہد کرتے رہے۔(4)
پانچ نومبر2010ء میں سلیازئی کے کنارے برسہا برس تک تشنگانِ علم و ادب کو سیراب کرنے والا یہ دریا موت کے سمندر میں اتر گیا۔ ان کی رحلت پر ڈاکٹر شاہ محمد مری نے لکھا تھا کہ انسانیت نے ایک حق پرست انسان نہیں، ایک انقلابی نہیں بلکہ کمال خان شیرانی کو کھو دیاہے۔
حوالہ جات:
1:۔ عشاق کی قافلے، سلسلہ نمبر 14، ’’سائیں کمال خان شیرانی‘‘ صفحہ08،10۔
2:۔ سائیں کمال خان شیرانی، تحریر ’’پروفیسرنجیبہ عارف۔‘‘
3:۔ ماہتک سنگت، ’’سائیں کمال خان شیرانی‘‘ از عبد الغفار شیرانی۔
4:۔ نیازمانہ، ’’سائیں کمال خان شیرانی: لٹ خانے سے قیادت سازی تک‘‘ از عبد الحئی ارین۔
……………………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے