48 total views, 1 views today

عبد الرحیم پوپل زئی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول:
مذہب نہیں دیتا ہے تعلیم غلامی کا
تم سچے مسلمان ہو، آزادی کے پروانو!
سختی سے نہ گھبراؤ،وہ سامنے منزل ہے
کچھ اور بھی تیزی سے بڑھتے چلو دیوانو!
جب بھی پختونخوا کی انقلابی تحریکوں کا ذکر ہوتا ہے، تو ان میں مفتی سرحد (موجودہ پختونخوا) امامِ حریت مولانا عبد الرحیم پوپل زئی کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ علامہ پوپل زئی ایک سماجی کارکن اور سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مزدور کسان لیڈر بھی تھے۔(1)
مولانا عبد الرحیم پوپل زئی پشاور کے مشہور علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے والدِ بزرگوار مولانا عبد الحکیم اور جدِ امجد مولانا محمد امین کا اپنے زمانے کے بلند مرتبہ علما میں شمار ہوتا تھا۔ پوپل زئی خاندان ’’پوپل خان‘‘ کی طرف منسوب ہے، جو مولانا عبد الرحیم کے بزرگوں میں سے ایک تھے۔ پوپل خان کا شجرۂ نسب احمد شاہ ابدالی سے ملتا ہے۔ پشاور کے فرماں روا اور امیر محمد عظیم خان کے عہدِ حکومت میں مولانا عبد الرحیم پوپل زئی کے جدِ امجد مولانا محمد امین کے والد بزرگوار مولانا عبد الرحیم عہدہ قضا پر فائز تھے۔
مولانا عبد الرحیم پوپل زئی 1890ء میں پشاور میں پیدا ہوئے۔(2)
آپ درانیوں کی شاہی خاندان کا چشم و چراغ تھے ۔ (3)
علامہ عبد الرحیم پوپل زئی نے ابتدا میں اپنے والد سے دینی متداولہ کتب پڑھیں۔ بعد میں تکمیلِ علم کے لیے رام پور، مینڈوا اور دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، وہاں آپ شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب کے خاص شاگردوں میں سے شامل تھے۔ سندِ حدیث آپ نے شیخ الہند سے حاصل کی۔1912ء میں حصولِ علم کے بعد پشاور تشریف لائے اور قصہ خوانی میں مدرسہ اسلامی عربیہ الصمدیہ کے نام سے ایک درس گاہ قائم کرکے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس دوران میں آپ ’’ولی للہی تحریک‘‘ اور ’’حزب اللہ‘‘ سے وابستہ رہے ۔ (4)
حضرت امام مفتی عبد الرحیم پوپل زئی روحانی سلسلے میں حضرت پیر اخونزادہ نجم الدین ہڈہ شریف سے وابستگی رکھتے تھے۔ حضرت حاجی صاحب ترنگ زئی بھی حضرت ہڈے شریف کے مرید تھے۔ اس لیے وہ امامِ حریت کے پیر بھائی تھے۔حضرت پوپل زئی نے فلسفہ اور علومِ عقلیہ کا اکتساب مجاہد حضرت علامہ فضل الحق خیر آبادی سے کیا تھا۔ (5)
عبد الرحیم پوپل زئی کے بقول:
توپ کا خوف ہے ہم کو نہ ہیں خائف بم سے
آبرو ہے رسن و دار کی قائم ہم سے
عمر بھر قیدِ قفس میں رہے فریاد نہ کی
زند ہ ہے نام اسیروں کاہمارے دم سے
مولاناپوپل زئی کے زمانے میں ان کی انقلابی سرگرمیوں کوروکنے اور انقلابی افکار کو روکنے کے لیے انگریز سرکار اپنے وفادار مقامی ایجنٹوں کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا کرتے تھے کہ اگر انقلاب آگیا، تو مذہب کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔ مولانا صاحب اور ان کے رفقا کے نزد یہ بات کافی تعجب خیز تھی۔ کیوں کہ و ہ سمجھتے تھے کہ جاگیرداری اور سرمایہ داری جوکہ اسلام اور مذہبی تعلیمات کی ضد ہے۔ اپنے تمام تر گھناؤنے عزائم کے باوجود ملک میں رائج ہے، تو اس سے مذہب کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور جب انسان دشمن اور مذہب کی بنیادی روح کے منافی رویوں کی مخالفت اور انقلاب کی حمایت کی جائے، تو مذہب کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ خان ازم اپنے تمام تر مظالم کے ساتھ برقرار رہے، تو اسلام محفوظ رہے اور جب خان ازم کی مخالفت میں کوئی آواز اٹھائی جائے، تو اسلام کے نام پر خانوں کے ایجنٹ اس ظالمانہ نظام کو رواں دواں رکھنے کے لیے ہر قسم کے انسان دشمن ہتھکنڈوں کے استعمال کو جائزقراردیں۔مولانا صاحب ایک عالمِ دین، ایک اشتراکی کارکن اور مزدور کسان رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انقلابی شاعر بھی تھے ۔
بھول جائے گا جہاں منصور کو
ہند نے داس اور بھگت پیدا کیے
اس شعر میں مولانا صاحب نے جتندر ناتھ داس اور بھگت سنگھ کو آزادیِ وطن کی خاطر موت کو گلے لگانے پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔(6)
جب افغانستان کے ترقی پسند حکمران غازی امان اللہ خان کے خلاف انگریز سام راج اور ان کے درپردہ مسلمان مولویوں کی شورش روز و شور سے تھی اور اما ن اللہ خا ن کو طرح طرح کے الزامات لگا کر بدنام کیا جا رہا تھا، تو مولانا عبد الرحیم پوپل زئی صوبے کے واحد عالمِ دین تھے جنہوں نے امیر امان اللہ خان کی انگریز سام راج دشمنی اورقومی حمیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے حق میں فتوا صادر کیا۔ آپ نے غازی امان اللہ سے بھی ملاقاتیں کیں اور صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) میں آپ کو پہلے شخص ہونے کا اعزازحاصل ہے جنہوں نے اس سازش کے بین الاقوامی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ اس سلسلے میں آپ نے حاجی صاحب ترنگ زئی سے بھی ملاقاتیں کیں اور قبائلی علاقوں کا دورہ بھی کیا۔اسی جد و جہد کے سلسلے میں مولانا پوپل زئی کی سرپرستی میں پشاور سے ایک اخبار’’سرفروش‘‘ نکالا، جو مظلوم طبقات کاترجمان تھا۔ پھر جب صوبہ میں ’’جمعیت نوجوانانِ سرحد‘‘ تنظیم بنی، تو مولانا پوپل زئی اس کے قائد تھے۔ اسی تنظیم نے مارچ 1922ء میں پشاور میں ’’پرنس آف ویلز‘‘ کی آمد پر تاریخی مظاہرہ کیاتھا۔ بعد میں یہی تنظیم ’’نوجوانِ بھارت سبھا‘‘ کے نام سے مشہورہوئی جس میں مولاناصاحب کے ساتھ کاکاجی صنوبر حسین مہمند، عبدالغفور آتش، کامریڈ رام سرن نگینہ، کامریڈسادھوسکھ، ا چرج رام، بخشی فقیر چند، محمد یونس قریشی، غلام ربانی سیٹھی اور اللہ بخش برقی بھی شامل تھے۔ 1930ء میں قصہ خوانی کا مشہور معرکہ بھی کانگریس کمیٹی اور نوجوان بھارت سبھا کے اشتراک سے لڑا گیا، جس میں تحریکِ آزادی کا ذمہ دار ٹھہراکر مولانا پوپل زئی کو 9 سال اور خان عبد الغفارخان کو3 سال کی قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
عبد الرحیم پوپل زئی کے بقول:
داد دے صیاد کچھ تو حریت کا راگ ہم
عمر بھر زنجیر کی جھنکار پر گاتے رہے
مولانا صاحب کو پہلے بالاحصار جیل میں رکھا گیا اور گجرات جیل بھیج دیا گیا۔ جیل میں ’’جنگِ آزادی کی تصویر کا دوسر ا رُخ‘‘ نامی کتاب کا ترجمہ کرنے پر آپ پر مقدمہ چلا۔ بعد میں جب نوجوان بھارت سبھا کو خلافِ قانون قرار دیا گیا، تو آپ سوشلسٹ پارٹی کے سرپرستِ اعلا مقرر ہوئے اور اسی جد و جہد کے سلسلے میں کانگریس میں ترقی پسند بلاک کی تشکیل میں بھی سرگرم رہے۔آپ اس عرصے میں مزدوروں، کسانوں، خاکروبوں، ریڑھی بانوں اور تانگا بانوں کی یونین سازی کا کام بھی کرتے رہے۔ اس وقت ہندوستان کی اقتصادی حالت کی شکل کچھ اس طرح سے استوار ہورہی تھی کہ ایک مخصوص ٹولا معیشت پر چھا رہا تھا۔ ملک میں ہندو اور پارسی سرمائے کے اتحاد سے ایک مخصوص ٹولا معیشت پر قبضہ جمانے کے بعد سیاسی اقتدار پربھی قابض ہوکر برطانوی سرمایہ کا جانشین بننا چاہتا تھا۔ یہ سرمایہ داروں کا ٹولا کانگریس میں پٹیل گروپ کی بالادستی میں بالآخر کامیاب ہوگیا اور سوشلزم کے داعی جواہر لال نہرو بھی اس ٹولے کے سامنے بے بس نظر آئے۔ مولانا صاحب سرمایہ دار طبقے کے مخالف ہونے کی وجہ سے اس پالیسی سے سخت اختلا ف رکھتے تھے اوران کے نزدیک یہی اسلام کی حقیقی روح ہے۔اسی بنا پر سوشلسٹ رہنما انہیں اپنا رفیق مانتے تھے اور اسی وجہ سے سرحد حکومت میں کانگریس وزارت نے بھی آپ کو نہ صرف جیل میں ڈالا بلکہ انہیں سخت اذیتیں بھی دیں۔ 1937ء میں غلہ ڈھیر مردان میں نواب آف طورو کے ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف کسانوں کی تحریک کو مولاناصاحب نے منظم کرنے میں بڑا کردار اداکیا۔ اس تحریک میں کسان کمیٹی کے خلاف حکومت کی کارروائی میں مولانا پوپل زئی کو 300 کسانوں کو گرفتارکیاگیااور ہری پور جیل میں بند کیا گیا۔ اس واقعہ پر سرحد میں کانگریس حکومت کے خلاف زبردست ہنگامہ ہوا اور اچاریہ نریندر اور جے پرکاش نارائن پر مشتمل غلہ ڈھیر کے معاملات کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی۔ مولانا صاحب نے غلہ ڈھیر کی تحریک پر ’’سرخ پوش کسان‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی۔ 1938ء میں رہائی کے بعد ہزارہ میں کسانوں کی تحریک کومنظم کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ ہزارہ میں مانسہرہ اور ہری پور کی تحصیلوں میں کسان تحریک کا کا م شروع کیا اور مزارعین کو اپنے غصب شدہ حقوق کے حصول کے لیے بید ار کیا۔ اس تحریک کو ہزارہ کے خانوں نے کچلنے کی کافی کوششیں کیں۔ مولاناصاحب پر بالاکوٹ کے علاقے میں قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔ 1939ء میں مانسہر ہ میں دو عظیم الشان کسان کانفرنسوں کا انعقاد ہوا۔ اسی سال 1939ء میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار خاکروبوں کی صوبائی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں مولانا صاحب نے تاریخی خطبہ پڑھا۔ 1940ء میں اس قید کے دوران میں آپ شدید بیمار ہوگئے اور حالت تشویش ناک ہونے کی وجہ سے رہائی مل گئی۔ 31 مئی 1944ء کو آپ اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔(7)
امام حریت عبد الرحیم پوپل زئی کے نزدیک جنگِ آزادی دراصل ملک کی اس غالب اکثریت کی آزادی کی جدوجہد تھی جس کو غیر ملکی آقاؤں نے اپنے پروردہ مٹھی بھر جاگیرداروں کے ذریعے غلام بنا رکھا تھا۔ قصہ خوانی معرکہ، معرکہ حریت غلہ ڈھیر، مردان کے کسانوں کا معرکہ آزادی، ہزارہ کے مزارعین اور گجروں کا حریت نامہ، صوبہ سرحد کے خاکروبوں کا حریت نامہ وغیرہ اس جدوجہد آزادی کے اہم واقعات ہیں۔(8)
کامریڈ رام سرن نگینہ کا امام حریت مولانا عبد الرحیم پوپلزئی کو خراج عقیدت(نظم کا عنوان: ’’صوبہ سرحد کی حالتِ زار‘‘)
چھا رہی تھی جب مصیبت کی گھٹائیں چار سو
چل رہی تھیں جب خصومت کی ہوائیں چار سو
جب غریبوں بے کسوں کا ہم نوا کوئی نہ تھا
جب کسانوں کا حقیقی راہ نما کوئی نہ تھا
بے اثر تھی جب غریبوں بے نواؤں کی فغاں
ہم نوا کوئی نہ تھا اور کوئی نہ تھا رازداں
خوابِ غفلت میں پڑا مدہوش تھا کرتی کساں
درس آزادی سے جب محروم تھا ہر نوجواں
مفلس و نادار تھے جب مبتلائے رنج و غم
ہو رہے تھے جب غریبوں پہ ظلم جور و ستم
ایسے عالم میں پیدا ہوا حقیقی راہ نما
قید و بند رنج و مصائب میں ہوا وہ مبتلا
مشعلِ علم و صداقت لے کے ہاتھوں میں اُٹھا
ہر جوان و پیر کو پیغام آزادی دیا
ہے بجا تجھ کو امیرِ کارواں کہہ لیجیے
رہبرِ آزادی ہندوستان کہہ لیجیے
ویب سائٹ اور کتب جن سے استفادہ کیا گیا:
1:۔ پنجک ڈاٹ کام۔
2:۔ ایک اشتراکی عالمِ دین، مولانا عبد الرحیم پوپل زئی صفحہ ازعمر فاروق خان۔
3:۔ صوبہ سرحد کی عوامی تاریخ، صفحہ 4 از ڈاکٹر عبد الجلیل پوپل زئی۔
4:۔ عوامی جدوجہدِ آزادی، صفحہ 29 از ڈاکٹر عبد الجلیل پوپل زئی۔
5:۔ روحانیت اور عوامی تحریک، صفحہ 36-35 از ڈاکٹر عبد الجلیل پوپل زئی۔
6:۔ پنجک ڈاٹ کام۔
7:۔ پنجک ڈاٹ کام۔
8:۔ ہزارہ کے مظلوم عوام اور عبد الرحیم پوپل زئی، صفحہ 11، ڈاکٹر عبد الجلیل پوپل زئی۔
…………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے