41 total views, 1 views today

پورے وثوق سے تو نہیں کہا جاسکتا کہ چکی انسانی زندگی میں کب داخل ہوئی؟ البتہ یہ انسانی زندگی کا لازم حصہ رہی ہے اور رہے گی۔ میرا اپنا خیال تو یہ ہے کہ جب سے انسان نے کھیتی باڑی شروع کی اور اس نے بعض دریافت شدہ اجناس (گندم، جو، مکئی وغیرہ) پیسنے کی ضرورت محسوس کی ہوگی، تو اس نے چکی ایجاد کی ہوگی۔ اجناس کو پیسنے کے لیے شاید انسان نے پہلے پہل ہاتھوں سے چلنے والی چھوٹی چکی ایجاد کی ہوگی۔ پہلے وقتوں میں ہاتھ سے چلنے والی چکی سے گندم وغیرہ پیسنے (آٹا بنانے) کی ذمہ داری گھریلو خواتین کی ہوتی تھی (ہمارے ہاں ہاتھوں سے چلنے والی چکی کو پشتو میں "میچن” کہا جاتا ہے۔) خواتین ایک ہاتھ سے چکی میں دانے ڈال کر جب کہ دوسرے ہاتھ سے چکی چلا کر دانے پیستی رہتی تھی۔ کبھی کبھی دو یا دو سے زیادہ خواتین مل کر بھی یہ کام سر انجام دیا کرتی تھیں۔ ایک خاتون چکی میں دانے ڈالتی اور دوسری تیزی سے چکی چلایا کرتی تھی۔ زیادہ خواتین کی موجودگی میں یہ کام باری باری کیا جاتا تھا۔ اس طرح چکی چلاتے وقت خواتین علاقائی گیت گانے کے ساتھ محلہ اور گاؤں کی معلومات پر آپس میں تبادلۂ خیال بھی کرتی تھیں۔
بعد میں انسانی آبادی بڑھنے کے ساتھ لوگوں کی آٹے کی ضروریات بھی بڑھتی گئیں اور ہاتھوں سے چلنے والی چکیاں ضرورت کے مطابق آٹا فراہم کرنے کے قابل نہ رہیں، تو انسان نے پانی سے چلنے والی بڑی چکی کا طریقہ ایجاد کیا۔ انسان کی آٹے کی ضروریات بڑھنے کے ساتھ چکی کی شکلیں بھی بدلتی رہیں۔ ہاتھوں سے چلنے والی چکی کے بعد پانی سے چلنے والی چکی کی جگہ بجلی سے چلنے والی نے لے لی اور شکلیں تبدیل ہوتے ہوتے آج یہ ’’فلور ملز‘‘ کی شکل اختیار کرچکی ہے، مگر پانی اور بجلی سے چلنے والی چکیوں کی اہمیت پھر بھی کم نہیں ہوئی۔ جن علاقوں میں پانی اور بجلی میسر نہ تھی، وہاں انسان نے چکی چلانے کے لیے جانوروں سے کام لینا شروع کیا۔ ہاتھوں، پانی اور جانوروں کی طاقت سے چلنے والی چکیاں شاید ختم ہوچکی ہوں، لیکن پرانے وقتوں کے لوگ آج بھی اُسے یاد کرتے ہیں۔
ہمارے گورنمنٹ ڈگری کالج تھانہ میں پشتو کے ایک پروفیسر عبدالحق نسیم مرحوم نے اپنی کتاب ’’سپڑدی غوٹے‘‘ میں یونین کونسل پلئی درہ کے پس ماندہ علاقے موضع بازدرہ بالا کے عوامی شاعر سمیل خان ؔ کا چکی کے بارے میں اُن کے چاربیتہ کا بند (جو اُنھوں نے مِزاحیہ طور پر کہا تھا) کچھ اس طرح نقل کیا ہے:
سیدان شاہ ئے جرندہ گڑے دے
خوار د دہ وگڑے دے
ماتہ ئے ناوا دہ
نشتہ سرخ ئے اوبو وڑے دے
نہ چلیگی بندہ دہ
دا د فرید جرندہ دہ
شائد پروفیسر عبدالحق نسیمؔ کو فرید خان کی چکی کے بارے میں صحیح علم نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے بازدرہ بالا کے عوامی شاعر سمیل خان کے چار بیتہ کا یہ بند غلط نقل کیا ہے۔ آج میں قارئین سے فرید کی چکی (د فرید جرندہ) کے بارے میں حقیقت پر مبنی معلومات شیئر کر رہا ہوں۔
فرید خان کا تعلق یوسف زئی قبیلے کی ذیلی شاخ کٹور خیل میں کٹور بابا کی اولاد میں سے تھا، جو گاؤں تھانہ کا صاحبِ جائیداد خان تھا۔ یونین کونسل پلئی درہ کا علاقہ یوسف زئی قبیلے کی ذیلی شاخ ’’خان کور‘‘ تھانہ کی جائیداد میں شامل ہے۔ پلئی یونین کونسل میں موضع پلئی، زور منڈی، شیر خانہ، باز درہ بالا، باز درہ پائیں اور موضع مورہ بانڈہ سمیت دیگر چھوٹی چھوٹی آبادیاں شامل ہیں۔ تھانہ اور پلئی درہ کے خوانین کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں اور ایک دوسرے کی غمی خوشی میں ہر وقت شرکت کرتے رہے ہیں۔
فرید خان کی بیٹی کی شادی موضع شیر خانہ کے فضل وہاب خان سے ہوئی تھی۔ اُن وقتوں میں شیر خانہ جانے کے لیے کوئی سواری میسر نہ تھی اور دونوں گاؤں تھانہ اور شیر خانہ کے لوگ ایک دوسرے سے ملنے یا غمی خوشی میں شرکت کے لیے پیدل آیا جایا کرتے تھے۔ فرید خان بھی کبھی کبھار بیٹی سے ملنے موضع شیر خانہ جایا کرتا تھا۔ شیرخانہ آتے جاتے فرید خان کو علاقے کے لوگوں کی مشکلات کے بارے میں خاصا علم ہوچکا تھا۔ اُن مشکلات میں سے ایک مشکل گندم پیسنے کی تھی، لوگ یا تو گھروں میں ہاتھوں کی چکی سے گندم پیس کر آٹے کی ضرورت پوری کیا کرتے تھے، یا دور دراز علاقوں جہاں پانی سے چلنے والی چکیاں تھیں، پیدل جا کر اور گندم پیس کر آتے تھے۔ فرید خان نے علاقے کے لوگوں کی اس مشکل کو حل کرنے کے لیے اپنے خرچے سے جانوروں کی طاقت سے چلنے والی چکی بنا ڈالی۔ کیوں کہ موضع شیر خانہ ایک بارانی علاقہ تھا اور اُس زمانے میں وہاں بجلی کی سہولت بھی میسر نہ تھی۔ فرید خان نے گاؤں کے لوگوں کو تو چکی بنا کر دے دی، لیکن اُس وقت شیرخانہ کی آبادی اندازاً ایک سو پچاس گھرانوں پر مشتمل تھی۔ اُن میں سے اکثر لوگ گھر میں ہاتھوں کی چکی سے گندم پیسا کرتے تھے جب کہ ایک آدھ گندم چکی پر پیسنے کے لیے لایا کرتے تھے۔ اس لیے چکی ہر وقت بند پڑی رہتی تھی۔
موضع باز درہ بالا اور موضع شیر خانہ کے لوگوں کی بھی آپس میں رشتہ داریاں ہیں اور ایک دوسرے سے ملنے آتے جاتے ہیں۔ موضع باز درہ بالا کے عوامی شاعر سمیل خان کا بھی موضع شیر خانہ کے فضل وہاب خان کے پاس آنا جانا لگا رہتا تھا۔ جب جب سمیل خان شیر خانہ فضل وہاب خان سے ملنے آتا، تو چکی بند پڑی رہتی تھی۔ اس لیے اُس نے مذکورہ چکی کے بارے میں مِزاحیہ اشعار کہے جن کا ذکر عبدالحق نسیم نے اپنی کتاب ’’سپڑدی غوٹے‘‘ میں کیا ہے، لیکن چار بیتہ کا وہ بند غلط طور پر نقل کیا گیا ہے۔ کیوں کہ یہ چکی پانی سے نہیں بلکہ جانوروں کی مدد سے چلائی جاتی تھی۔ جانوروں سے چلنے والی چکی میں نہ ’’سَرخ‘‘ نامی چیز ہوتی ہے اور نہ ’’ ناوا‘‘ جس کا ذکر عبدالحق نے کیا ہے۔ ’’سرخ‘‘ اور ’’ناوا‘‘ دونوں پانی سے چلنے والی چکی میں ہوتے ہیں۔ فرید کی چکی کے بارے میں صحیح بند کچھ یوں ہے:
دا دَ فرید جرندہ دہ
نہ چلیگی بند دہ
سویران شاہ ئے جرندہ گڑے دے
خوار دَ دہ وگڑے دے
یو طرف تہ ئے باغ دے
بل طرف تہ کندہ دہ
نہ چلیگی بند دہ
فرید خان (کٹور خیل) کے دو بیٹے تھے اور اُن دونوں کی اولاد (فرید خان کے نواسے) آج بھی گاؤں تھانہ میں آباد ہیں۔
………………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے