38 total views, 1 views today

مولانا وحید الدین خان کی پیدائش یکم جنوری 1925ء کو ہندوستان میں ریاست اُتر پردیش کے ایک علمی شہر اعظم گڑھ میں ہوئی۔ والد فریدالدین خاں اپنے علاقے کے ایک بہت بڑے زمین دار تھے جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے قابلِ عزت و احترام تھے، جب کہ والدہ زیب النسا گھریلو امور سنبھالنے والی ایک ذمہ دار خاتون تھیں۔
مولانا کے والد کا انتقال بچپن ہی میں ہوگیا تھا۔ اس لیے ان کی مکمل پرورش والدہ نے اپنی نگرانی میں کی۔ مولانا کی ابتدائی تعلیم عربی درس گاہ میں ہوئی۔ عربی اور دینی تعلیم سے فراغت کے بعد اُنھوں نے جدیدعلومِ کے حصول پر توجہ دی اور سب سے پہلے انگریزی زبان سیکھی۔ اُس کے بعد مغربی علوم کا مطالعہ شروع کیا۔ حتیٰ کہ ان علوم پر کافی دسترس حاصل کرلی۔ اسلامی اور مغربی علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا صاحب اِس نتیجہ پر پہنچے کہ آج کل کے دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ مولانا کو پانچ زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان میں اُردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی شامل ہیں۔ مولانا صاحب ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی کرتے تھے۔ ٹی وی چینلوں پر آپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔
مولانا وحیدالدین خاں دراصل بے پناہ صلاحیتوں اور خصوصیات کا نام ہے، جن کی زندگی کے بے شمار باب ہیں اور ہر باب اپنے آپ میں مستقل اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم مولانا کی زندگی کا اصل مشن اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا تھا۔ مولانا نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور قرآن کی تفسیر بھی لکھی۔ عام طور پر دانشور طبقے میں امن پسند مانے جاتے تھے۔ امن اور برابری کے اپنے فلسفے اور مستقل پیغام کی وجہ سے اپنے ناقدین میں بھی مقبول رہے۔
مولانا صاحب کا مقصد اسلام اور دیگر مذاہب میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اسلام کے متعلق غیر مسلموں کی غلط فہمیاں دور کرنا، صبر کی تعلیم کو عام کرنا اور دعوتِ دین تھا۔ سال 2000ء میں بھارتی حکومت کی جانب سے مولانا کو ان کی علمی خدمات کے باعث ملک کا تیسرا بڑا شہری اعزاز ’’پدم بھوشن‘‘ دیا گیا جب کہ جنوری 2021ء میں مولانا صاحب کو ہندوستان کے دوسرے اعلا شہری اعزاز ’’پدما وبھوشن‘‘ سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی مولانا صاحب کئی بین الاقوامی ایوارڈز سے سرفراز ہو چکے تھے۔
مولانا وحید الدین ایک صوفی مزاج طبیعت کے مالک، ایک روایتی شخص کی مانند تھے لیکن ان کے خیالات جدید تھے۔ انتہا پسندی اور مقدس صحیفوں کی قدامت پسند ترجمانی کے خلاف تھے۔ اپنے مذہبی اور روحانی خیالات کا مکمل اظہار کرنے کے لیے مولانا صاحب نے 1970ء میں دہلی میں ’’اسلامک سینٹر‘‘ قائم کیا۔ اس کے بعد سال 1976ء میں مولانا صاحب نے ماہانہ رسالہ ’’الرسال‘‘ کی اشاعت کا آغاز کیا۔ ’’الرسال‘‘ مولانا صاحب کے اپنے مضامین پر مشتمل تھا جو کہ اپنی اشاعت کے بعد اُردو زبان کی دنیا میں تیزی سے مقبول ہوگیا۔ مولانا صاحب کے مضامین کاا مقصد لوگوں کو اسلام کا پُرامن چہرہ سمجھانے، مسلمانوں میں اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہی، مثبت سوچ اور مثبت عمل کو فروغ دینے پر مشتمل تھا۔
مولانا وحید الدین نے اسلام اور مسلمانوں سے متعلق تقریباً 200 کتابیں لکھ رکھی ہیں۔ ان کے نظریاتی اور سیاسی خیالات سے اختلاف رکھنے والے بھی ان کی علمی فضیلت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔
مولانا صاحب کی لکھی ہوئی ایک کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ پانچ عرب ممالک قطر، مصر، لیبیا، سوڈان اور تیونس کی جامعات میں تعلیمی نصاب کا حصہ ہے۔ دیگر اہم تصانیف میں سے نئے عہد کے دروازہ پر، حقیقت کی تلاش، مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے ، تعبیر کی غلطی، الاسلام، مذہب اور سائنس، پیغمبرِ انقلاب، عقلیاتِ اسلام، قرآن کا مطلوب انسان، سوشلزم اور اسلام، اسلام اور عصرِ حاضر، تذکیرالقران، حقیقتِ حج، اللہ اکبر، زلزلہ، قیامت، خاتونِ اسلام، رازِ حیات، اسلام دورِ جدید کا خالق، ہندوستانی مسلمان، کتابِ زندگی، سفرنامہ اسپین و فلسطین، فکرِ اسلامی، مطالعۂ سیرت، مطالعۂ قرآن، مسائلِ اجتہاد، مطالعۂ حدیث، عورت: معمارِ انسانیت، امنِ عالم، دعوت الی اللہ، خدمتِ ِخلق اور اظہارِ دین شامل ہیں۔ مولانا وحید الدین خان نے انگریزی زبان میں بھی اپنی لیاقت و قابلیت کا لوہا منواتے ہوئے کئی اسلامی کتابوں کو تصنیف کیا۔
مولانا وحید الدین خان کی عمر 96 برس تھی اور انھیں کورونا کی تشخیص کے بعد 12 اپریل کو دہلی کے مقامی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ جہاں 21 اپریل کو وہ اس دارفانی سے رحلت کرگئے۔
مولانا صاحب نے پس ماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان کے انتقال پر مسلم امہ یقینا ایک عظیم مذہبی اسکالر سے محروم ہوگئی ہے۔
…………………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے