32 total views, 3 views today

وطنِ عزیز کی موجودہ امن و امان کی صورتِ حال اور معاشرتی بگاڑ کو دیکھ کر ایک حساس شخص یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ گزرے وقتوں میں لوگ کس طرح امن و سکون کی زندگی بسر کرتے تھے۔ آج ہمارے ہاں سے صبر و تحمل اور برداشت کا مادہ ختم ہوچکا ہے۔ معافی اور درگزر تو ہم نے اپنی فطرت سے نکال دیا ہے۔ معمولی معمولی باتوں پر خون کی ندیاں بہا دی جاتی ہیں۔ خصوصاً پشتون معاشرے میں تو قتل و غارت، لڑائی اور مار کٹائی انتہائی حالت تک پہنچ چکی ہے۔ حالاں کہ ہم لوگ بفضلِ خدا مسلمان ہیں اور رسولِ رحمتؐ کے اُمتی ہونے کا دعوا بھی کرتے ہیں، لیکن بات جب ضد اور انا کی آتی ہے، تو یہ سب کچھ بھلا کر اپنی ضد اور انا کی خاطر اپنے ہم مذہبوں اور ہم وطنوں کے گھر اُجاڑ دیتے ہیں۔
اس حوالہ سے ذیل میں ہم ایک سچی اور سبق آموز کہانی پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
نیلسن منڈیلہ دو دہائیوں تک جیل میں رہے اور پھر جیل سے رہا ہوکر آخرِکار جنوبی افریقہ کے صدر بنے۔ ایک دن سکیورٹی کے ہمراہ بازار کی وزٹ کو نکلے۔ کھانے کا وقت ہوا تو کھانا کھانے ایک ہوٹل میں جا بیٹھے اور کھانے کا آرڈر دے دیا۔ اُن کے قریب ایک شخص کھانے کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ نیلسن منڈیلا نے اپنے سکیورٹی آفیسر سے کہا کہ اُس مہمان سے کہو کہ کھانا ہمارے ساتھ کھائے۔ سکیورٹی آفیسر اس اجنبی مہمان کو لے کر نیلسن منڈیلا کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے ٹیبل پر لے آیا۔ کھانا کھانے کے دوران میں مہمان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ بعد میں سکیورٹی آفیسر نے نیلسن منڈیلا سے کہا کہ یہ اجنبی مہمان بیمار معلوم ہورہا تھا۔ نیلسن منڈیلا نے سکیورٹی آفیسر سے کہا کہ یہ بیمار نہیں بلکہ ڈرا ہوا تھا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ جب مَیں جیل میں تھا، تو یہ شخص اس جیل خانے کا گارڈ تھا۔یہ شخص میرے ساتھ نہایت برا اور غیر انسانی سلوک کرتا تھا، یہاں تک کہ پیاس کی حالت میں جب میں پانی مانگتا، تو یہ مجھے پیشاب پیش کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ انتقام کی ڈر سے اس شخص کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے نیلسن منڈیلا نے ایک تاریخی سچ ان الفاظ میں بیان کی کہ ’’کمزور شخصیت کے لوگ معاف کرنے میں تاخیر کرتے ہیں جب کہ مضبوط کردار کے لوگ معاف کرنے میں دیر نہیں کرتے۔‘‘
………………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے