237 total views, 1 views today

کلاسیکل سامراج کی مثال ہم اس طرح دے سکتے ہیں کہ اس کی ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ کسی بڑے جغرافیائی علاقے میں جہاں چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہوں، وہاں کوئی طاقت ور ریاست حملہ کرکے ان چھوٹی ریاستوں کو ختم کرکے اسے ایک واحد سلطنت میں تبدیل کر لیتی ہے۔ ہندوستان میں اس کی مثال موریہ سلطنت سے دی جاسکتی ہے، جس نے ہندوستان کی چھوٹی اور خودمختار ریاستوں کا خاتمہ کرکے ایک بڑی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔
موریہ کے بعد ہندوستان میں گپت خاندان نے بھی فتوحات کے ذریعے اپنی سلطنت کو وسعت دی۔ جب ترک یہاں پر آئے (13 ویں صدی میں) تو ان کی بھی کوشش تھی کہ چھوٹی ریاستوں کو فتح کرکے ایک بڑی سلطنت کی بنیاد ڈالیں۔
اس طرح جب مغل ہندوستان میں برسرِ اقتدار آتے ہیں، تو وہ ایک وسیع و عریض سلطنت کے قیام کو عمل میں لائے۔ مغل مؤرخ، مغل فتوحات اور اس کے پھیلاؤ کا جواز تلاش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طرح سے ہندوستان میں ایک مضبوط مرکزی حکومت ہوگی جو خودمختار حکمرانوں کا خاتمہ کرے گی جس کی وجہ سے سلطنت میں شامل تمام رعایا کو یکساں فوائد ہوں گے۔ ابوالفضل نے اپنی کتاب ’’اکبر نامہ‘‘ میں مغل سامراج کو روشن خیال بتایا ہے جس سے ہندوستان کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
ہندوستان کی طرح اسی اندرونی سامراج کی شکل ہم چین میں بھی دیکھتے ہیں، یہاں بھی چھوٹی چھوٹی خود مختار سلطنتیں تھیں اور یہاں بھی وقتاً فوقتاً ان کو ختم کرکے مختلف ادوار میں بڑی سلطنتوں کا وجود عمل آتا رہا ہے۔
ہندوستانی مؤرخ ہو یا چینی، دونوں ہی اس اندرونی سامراج کے فوائد بیان کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس سے تجارتی فائدہ ہوتا ہے۔ چونگی، ناکے کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ لوگوں میں رابطہ بڑھتا ہے اور مرکز، ادب، آرٹ، فنِ تعمیر اور موسیقی کی سرپرستی کرتا ہے۔ کیوں کہ بڑی سلطنت کی وجہ سے اس کے ذرائع آمدنی بڑھ جاتے ہیں۔ حکمران اور امرا کا طبقہ اس قابل ہوتا ہے کہ عالی شان عمارتیں بنائے، محلات تعمیر کرے اور فنونِ لطیفہ کی سرپرستی کرے۔
اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے نتیجے میں زبانوں کا ارتقا ہوتا ہے اور مختلف زبانیں ایک دوسرے کے الفاظ اپنے اندر ضم کرکے اپنے دائرے کو بڑھاتی ہیں۔ سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان ریاستوں کی آپس کی جنگیں ختم ہوجاتی ہیں اور اندرونی طور پر ہر سلطنت میں امن و امان قائم ہوجاتا ہے۔
سامراج کی دوسری شکل وہ ہوتی ہے جب کوئی طاقت اپنی جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر دوسرے ملکوں پر حملہ کرتی ہے، ان کی زمینوں پر قابض ہوتی ہے، شکست خوردہ قوم کو غلام بناتی ہے اور مالِ غنیمت کے طور پر ان کا مال و اسباب لوٹتی ہے۔ اس کی مثال ہم رومی سلطنت سے دے سکتے ہیں جو یورپ، ایشیا اور افریقہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی وسعت کا دار و مدار اس کی فوج پر تھا۔ جنگوں میں رومیوں نے بڑی تعداد میں مفتوحین کو غلام بنایا جس کی وجہ سے ان کے معاشرے میں ہر جگہ غلاموں کی بڑی تعداد تھی۔ معدنیات کی کانوں میں وہ کام کرتے تھے، کھیتی باڑی میں بھی انہی کا غلبہ تھا۔ گھریلو ملازمین کی حیثیت سے بھی غلاموں کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی۔ فوج میں بھی شامل ہوکر یہ رومیوں کے لیے لڑتے تھے۔ یہاں تک کہ بحیثیت استاد اور انتظامی امور میں بھی غلام شریک تھے۔ رومی معاشرے کا غلاموں پر انحصار کا نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ ان میں کام کرنے اور جد و جہد کا جذبہ کم ہوتا چلا گیا۔ اس لیے مؤرخ غلاموں کی اس تعداد کو رومی زوال کا ایک سبب بتاتے ہیں۔
رومیوں کے بعد ایران میں ساسانیوں نے بڑی ایمپائر قائم کی تھی۔ پھر جب عرب اپنی جغرافیائی حدود سے باہر نکلے، تو انہوں نے ساسانی اور بازنطینی سلطنتوں کو شکست دے کر اپنی ایمپائر قائم کی۔
جدید سامراج پر دو مصنفوں نے تفصیل کے ساتھ اظہارِ خیال کیا ہے۔ ان میں سے ایک "J. Hobson” جس کی کتاب کا عنوان ہے ’’امپیریل ازم کیا ہے؟‘‘ اس کا کہنا ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد جب یورپ کے صنعتی ملکوں میں فیکٹریاں قائم ہوئیں اور زیادہ پیداوار ہونے لگی، تو خود ان کے ملک میں اس پیداوار کے خریدار نہیں تھے۔ لہٰذا صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کو اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ اپنی زائد پیداوار کے لیے دوسرے ملکوں کی منڈیاں تلاش کریں۔ اس مقصد کے لیے فوج کی مدد لی گئی۔ ایشیا اور افریقہ کے ملکوں پر قبضہ کرکے وہاں اپنی کالونیز بنائی گئیں جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ ان کالونیز میں اپنے تیار شدہ مال کو فروخت کرسکیں اور وہاں سے خام مال لے کر اپنی فیکٹریوں میں ان کا استعمال کریں۔ "Hobson” کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر صنعتی ملک اپنے ملکوں میں دولت کی مساوی تقسیم کرلیتے، تو ان کی پیداوار کے خریدار ان ہی ملکوں میں ہوتے اور یہ ضرورت پیش نہ آتی کہ دوسرے ملکوں کی منڈیوں پر قبضہ کیا جائے۔ یہ یورپی سامراج کی بنیاد بنا۔
دوسرا شخص جس نے یورپی سامراج کا تجزیہ کیا وہ ’’لینن‘‘ ہے جس نے اپنی کتاب "Imperialism. the Highest stage of Capitalism” میں یہ کہا کہ صنعتی انقلاب میں سرمایہ دارانہ ملکوں کے درمیان بیرونی منڈیوں پر قبضہ کرنے اور تجارت پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے مقابلہ شروع ہوگیا ہے۔ ہر یورپی صنعتی ملک کی کوشش تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ کالونیز پر قبضہ کرے، تجارت پر اجارہ داری قائم کرے۔ اس مقابلے کے نتیجے میں جنگ کا ہونا لازمی تھا۔ اس لیے 1914ء کی پہلی جنگ سرمایہ دارانہ ملکوں کے درمیان مقابلہ بازی کا نتیجہ تھی جس نے ’’یورپی امپیریل ازم‘‘ کو پیدا کیا۔
(’’تاریخ کی خوشبو‘‘ از ’’ڈاکٹر مبارک علی‘‘، پبلشرز ’’تاریخ پبلی کیشنز‘‘، پہلی اشاعت، 2019ء، صفحہ نمبر 40 تا 43 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے