87 total views, 1 views today

ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں دولت حاصل کرنے کے یورپی سامراج کے دو طریقے تھے۔ ایک تو تجارت کے ذریعے اور دوسرا ملکوں پر قبضہ کرکے لوٹ مار کے ذریعے۔
یورپی سامراج نے ان دونوں طریقوں پر عمل کیا۔ ہندوستان اور چین میں افیم کی تجارت کے ذریعے انہوں نے نہ صرف ان کی دولت لوٹی بلکہ ان کی بندرگاہوں پر بھی قبضہ کیا۔ ہندوستان میں بھی تجارت کے فائدے کے لیے انہوں نے سیاسی اقتدار حاصل کیا۔
اس کی ایک اور مثال جنوبی افریقہ کی دینا چاہوں گا۔ جنوبی افریقہ کو ابتدائی طور پر ’’ڈچ کمپنی‘‘ کے تاجروں نے انڈونیشیا جاتے ہوئے بطورِ قیام گاہ استعمال کیا جہاں یہ جہازوں پر کھانے پینے کا سامان اور پانی لیتے تھے لیکن بعد میں یہاں ولندیزیوں نے اپنی نوآبادیات قائم کرلیں۔
19ویں صدی میں یہاں اس وقت تبدیلی آئی جب جنوبی افریقہ میں سونے اور ہیرے جواہرات کی کانیں دریافت ہوئیں، تو یہاں انگریز بھی چلے آئے، جس کی وجہ سے انگریزوں اور "Boers” میں جنگیں ہوئیں اور بالآخر برطانیہ نے جنوبی افریقہ پر قبضہ کرکے اس کی سونے اور جواہرات کی کانوں سے فائدہ اٹھایا۔
ستم ظریفی کی بات یہ تھی کہ ان کانوں میں کام کرنے کے لیے مقامی افریقی باشندوں کو زبردستی قیدی بنا کر لایا گیا اور ان سے بیگار لی گئی۔
افریقہ کی تاریخ کا یہ وہ زمانہ ہے جسے "Scramble for Africa” یعنی افریقہ کی لوٹ مار کہا جاتا ہے۔
(’’تاریخ کی خوشبو‘‘ از ’’ڈاکٹر مبارک علی‘‘، پبلشرز ’’تاریخ پبلی کیشنز‘‘، پہلی اشاعت، 2019ء، صفحہ نمبر 43 اور 44 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے