861 total views, 1 views today

اس وقت ضلع سوات میں ایک سرکاری یونیورسٹی اور میڈیکل کالج، درجنوں پیشہ وارانہ ادارے، سیکڑوں سرکاری و غیر سرکاری مردانہ و زنانہ پرائمری، مڈل، ہائی، ہائر سیکنڈری سکولز اور کالجز موجود ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں لڑکے اور لڑکیاں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو رہی ہیں، لیکن شائد کم ہی لوگوں کے علم میں ہو کہ اس علاقے میں رسمی تعلیم کے پہلے ادارے کا شرف بانئی ریاست سوات میانگل عبدالودود کے نام سے1923 ء سے قائم ’’ودودیہ سکول ‘‘ کو حاصل ہے جو کہ اب ’’گورنمنٹ سنٹینئل ماڈل ہائی سکول ودودیہ‘‘ کہلاتا ہے۔
وادئ سوات کی تاریخ میں’’ودودیہ سکول‘‘ سیدو شریف کو ایک اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ اس علاقے میں رسمی تعلیم کی اوّلین درسگاہ ہے اور اسی حوالے سے اس کو ’’وادئ سوات کے تعلیمی اداروں کی ماں‘‘ کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگا۔ کیوں کہ سابق والئی سوات کے دور میں ریاست کے طول و عرض میں قائم سکولوں کے سربراہان اور معلمین کی بڑی تعداد اسی سکول سے فارغ التحصیل رہی ہے۔ اس کے قیام کے ایک سو سال پورے ہونے والے ہیں، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق والئی سوات کی خودنوشت سوانح عمری (دی لاسٹ والی آف سوات) میں سوات کی اوّلین درس گاہ کا سال1925 ء ظاہر کیا گیا ہے جبکہ سکول کے داخل خارج ریکارڈ کے مطابق یکم اپریل 1923ء کو تین طلبہ کا داخلہ جماعت پنجم میں ہوچکا تھا اور اگلے سال یعنی 1924 ء کو داخل ہونے والے بچوں کی تعداد چھے تھی۔ سکول کے پہلے دس سال کے بچوں کی تعداد کچھ یوں ہے۔1923ء میں تین، 1924ء میں چھے، 1925ء میں چار، 1926ء میں سترہ، 1927ء میں نو، 1928ء میں سینتالیس، 1929ء میں چھپن، 1930ء میں اُنچاس،1931ء میں 75، 1932ء میں 74۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں لوگوں کے لیے رسمی تعلیم بالکل ایک اجنبی چیز تھی، لیکن سکول داخل خارج کے اوپر ’’اینگلوورنیکیولر سکول‘‘ لکھا ہوا ہے اور اوّلین طلبہ جماعت پنجم میں داخل ہوئے تھے، تو پھرسوال پیدا ہوتا ہے کہ ان تین بچوں نے چوتھی جماعت تک کہاں سے پڑھا تھا۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں مسجدوں میں کچھ بچے لکھنا پڑھنا سیکھ جاتے تھے۔ ہوسکتاہے انہی میں سے تین بچوں کو پانچویں جماعت میں داخلے کا اہل قرار دیا گیا ہو اور ایک روایت کے مطابق سیدو شریف میں ہی ایک غیر رسمی مدرسہ (سکول) پہلے سے موجود تھا، تو اس کا مطلب یہ ہواکہ سوات کا اوّلین سرکاری سکول پرائمری نہیں بلکہ مڈل سکول تھا۔




سابق والئی سوات کی خودنوشت سوانح عمری (دی لاسٹ والی آف سوات) میں سوات کی اوّلین درس گاہ کا سال1925 ء ظاہر کیا گیا ہے جبکہ سکول کے داخل خارج ریکارڈ کے مطابق یکم اپریل 1923ء کو تین طلبہ کا داخلہ جماعت پنجم میں ہوچکا تھا اور اگلے سال یعنی 1924 ء کو داخل ہونے والے بچوں کی تعداد چھے تھی۔

واضح رہے کہ سابق ریاستِ سوات کے حکمران میاں گل عبدالودود المعروف بادشاہ صاحب نے سال 1917ء کو ریاست کی بنیاد رکھی تھی اور انگریزوں نے سرکاری طور پر ریاست کو 1926ء میں تسلیم کیا تھا۔ بادشاہ صاحب کی کوئی رسمی یا غیر رسمی تعلیم نہیں تھی، لیکن پھر بھی تعلیم کی اہمیت سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ اس لئے اپنے بڑے بیٹے اور سابق والئی ریاست سوات میانگل جہانزیب کو 1912 ء میں پشاور کے ایک سکول میں داخلہ دلوایا تھا۔ وہ 1926 ء کو اسلامیہ کالج پشاور سے ایف اے کرنے کے بعد سوات واپس آئے تھے۔ اپریل 1923ء تا اپریل 1940ء یہ سکول مڈل رہا۔ پھر سترہ سال بعد مئی 1940ء کو اس کو ہائی سکول کا درجہ ملا۔ یہ وہ وقت تھا جب میانگل جہانزیب ابھی والئی سوات نہیں بنے تھے بلکہ ولی عہد تھے، لیکن یہ رسمی تعلیم کے ساتھ ان کی دلچسپی تھی کہ انہوں نے ہائی سکول کے قیام سے ہی ایک پی ایچ ڈی سکالر کو سکول ہیڈماسٹر مقرر کیا۔ ڈاکٹر محمد جان یکم اپریل 1940ء تا 14 جولائی 1941ء سکول ہیڈ ماسٹر رہے۔ اس کے بعد سے آج تک (77 سال کے عرصے میں) پی ایچ ڈی تو کیا کوئی ایم فل بھی بطور ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل ودودیہ سکول میں تعینات نہیں ہوا۔ یہ سکول شروع سے ہی صحیح معنوں میں عوامی رہا اور سواتی معاشرے کے ہر طبقے کے بچوں کو یہاں داخلہ ملا، جس کا پتا ہمیں داخل خارج میں درج قومیت کے ریکارڈ سے بھی چلتا ہے۔ ان میں افغان (بمعنی پشتون)، سید، پراچہ، زرگر، خانخیل، ملاخیل، گجر، مغل، آہن گر، جولاہا، دھوبی، تیلی، قصائی، نائی، ترکان اور درزی سبھی شامل تھے۔ حتی کہ غیرمسلموں میں سے ہندوؤں اور سکھوں کے بچے بھی دیگر بچوں کے ساتھ پڑھتے رہے۔
ابتدا میں سکول میں داخلہ لینے والے بچے سیدو شریف، مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں سے پڑھنے آتے تھے۔ بعد ازاں سوات کے دور دراز کے علاقوں بلکہ اباسین کوہستان اور بونیر سے بھی پڑھنے کے لئے یہاں آتے تھے۔
یکم اپریل 1923ء کو قائم ہونے والے اس سکول کا نام ’’اینگلو ورنیکیولر مڈل سکول‘‘ تھا، لیکن 1930 ء کو اس کا نام ’’ودودیہ سٹیٹ سکول‘‘ پڑگیا، جو بعدازاں 1940 ء کو ہائی سکول کا درجہ حاصل کرنے پر ’’ودودیہ ہائی سکول‘‘ میں تبدیل ہوگیا۔ سن 2002ء سے سکول کانام ’’گورنمنٹ سینٹینئل ماڈل ہائی سکول ودودیہ‘‘ ہوگیا۔
ابتدائی طور پر ودودیہ سکول کے لیے ’’اللہ اکبر مسجد‘‘ کے سامنے ایک عمارت تعمیر کی گئی تھی جو عقب میں موجودہ شہدا پارک تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کا پرائمری سیکشن موجودہ جہان زیب کالج کے سائنس بلاک کی جگہ قائم تھا۔
1952ء میں جہان زیب کالج کا قیام عمل میں لایا گیا، تو چند سال تک ساتویں تا دسویں کی کلاسیں جہان زیب کالج میں پڑھائی جانے لگیں لیکن جلد ہی سکول وہاں سے منتقل ہو کر موجودہ جگہ آگیا۔ کہاجاتا ہے کہ آج جس جگہ وددیہ سکول کی عمارت ہے، وہ کبھی ریاست سوات کی جیل تھی۔ ایک طویل عرصے تک جیل کی عمارت بطورِ سکول استعمال ہوتی رہی، تاآنکہ2012-13ء میں عرب امارات کے تعاون سے پرانی عمارت کو ڈھاکر موجودہ عمارت بنائی گئی۔

1952ء میں جہان زیب کالج کا قیام عمل میں لایا گیا، تو چند سال تک ساتویں تا دسویں کی کلاسیں جہان زیب کالج میں پڑھائی جانے لگیں

1923ء تا 1940ء سکول ہیڈماسٹرز کا کوئی ریکارڈ نہیں، البتہ 1940ء سے لے کر اب تک کے ہیڈماسٹرز اور پرنسپل صاحبان کے نام یہ ہیں۔
۱:۔ ڈاکٹر محمدجان۔ ۲:۔ سیدیحییٰ شاہ۔ ۳:۔احسن گل خٹک۔ ۴:۔ محمدسردارخان۔ ۵:۔عنایت اللہ خان۔ ۶:۔ پیرمحمدخان۔ ۷:۔محمد رضی الدین حسن۔ ۸:۔ حسین خان۔ ۹:۔مظروف سلام۔ ۱۰:۔ بشیرحسین۔ ۱۱:۔ محمد ظفر جلیل۔ ۱۲:۔ محتاج۔ ۱۳:۔غلام محمد۔ ۱۴:۔ غلام سید۔ ۱۵:۔ سرزمین خان۔ ۱۶:۔ شیریوسف۔
تیرہ جنوری 1995 ء سے ودودیہ سکول کی اَپ گریڈیشن پرگریڈ 19 کے پرنسپل حضرات تعینات ہوئے، جن کی تفصیل یہ ہے:
۱:۔ سرزمین خان۔ ۲:۔ زیارت گل۔ ۳:۔محمود خان۔ ۴:۔محمد پرویز۔ ۵:۔ مظفر حسین ۶:۔ظہوراحمد (موجودہ)۔
ودودیہ سکول ریاست کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا اور ریاست کے حکمرانوں کے قریب تر ہونے کی وجہ سے ان کی خصوصی توجہ کا حامل تھا۔ اس لیے اس کے سربراہان اور اساتذہ کے لیے نہایت قابل اور مخلص افراد کا چناؤ ریاست سے باہر دور دراز کے علاقوں مثلاًپشاور، مردان اور پنجاب کے شہروں سے کیا جاتا تھا۔ گذشتہ ایک صدی کے دوران میں یہاں سے ہزاروں طالب علموں نے زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوکرملک و ملت کی خدمت کی ہے۔ ان میں بڑے بڑے بیوروکریٹ، فوجی افسران، سیاست دان اور ماہرین تعلیم شامل ہیں۔
ضرورت اس اَمر کی ہے کہ اس ادارے کے شاندار ماضی کے پیشِ نظر اس کے تعلیمی معیارکو شایانِ شان بنایا جائے اور ماضی کے وابستگان کے لیے ــ’’اولڈ ودودینز‘‘(Old Wadudians) کے نام سے ایک تنظیم بنائی جائے جو اپنی مادرعلمی کے ساتھ جڑے رہیں اور اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
حوالہ جات:
۱:۔ تاریخ ریاستِ سوات، مؤلفہ محمد آصف خان۔
۲:۔ دی لاسٹ والی آف سوات (نارویجین محقق فریڈرک بارتھ کو سنائی گئی والئی سوات کی سوانح عمری)
۳:۔ سکول داخل خارج ریکارڈ۔
۴:۔ شخصی انٹرویوز (جناب سرزمین خان صاحب، سابق پرنسپل ودودیہ سکول، جناب شعیب سلطان صاحب وائس پرنسپل ودودیہ سکول، جناب فضل عظیم صاحب مدرس ودودیہ سکول و خطیب جامع مسجد سیدو بابا، سیدوشریف سوات)




تبصرہ کیجئے