49 total views, 2 views today

کہتے ہیں کہ دنیا کی 7 ارب سے زیادہ آبادی میں 84 فیصد افراد مختلف مذاہب کے پیروکار ہیں، یعنی ہر 10 میں سے 8 افراد کا تعلق کسی نہ کسی مذہب سے ضرور ہے۔ ٹھیک ہی تو کہتے ہیں، دھرم کی جڑ، سدابہار۔
کتاب آکسفورڈ اُردو سلسلہ سات کے مطابق انسان کی روحانی زندگی کا وجود خوابوں کی وجہ سے ہمارے علم میں آیا ہے۔ اس لیے نیند میں بشارت ہو کہ مراقبہ میں جاگتے ہوئے، حضورِ دل سے خدا کا دھیان دونوں روحانی زندگی کے تصور کا باعث ہے۔ اسی طرح مظاہر پرست اور بت پرست مذاہب ہوں کہ الہامی اور آسمانی ادیان، سب کے سب انسانیت کا درس دیتے ہیں۔ 16 فیصد افراد وہ ہیں جو مذاہب کو نہیں مانتے۔ باقی سب مختلف مذاہب میں بٹ گئے ہیں۔ کہیں پہ ایک ہی ملک میں کئی مذاہب پائے جاتے ہیں، جیسے ہندوستان اور چین وغیرہ۔ تو کہیں ایک ہی مذہب پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ بعض قومیں جیسا کہ یہودی ایک مذہب تک محدود ہے جو کہ اس کی نسلی پہچان بھی ہے، جب کہ بعض قومیں جغرافیہ اور محلِ وقوع کے حوالے سے کئی مذاہب کے پیر و کار ہیں۔ گجروں کا شمار انہیں اقوام میں کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے مولانا عبدالمالک صاحب لکھتے ہیں: ’’بحیرہ کیسپین کے مشرقی ساحلی پر عیسائی آئے۔ کچھ گجر قبائل حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکار ہوئے۔ جب آتش پرستوں کے مبلغ آئے، تو آفتاب پرستی چھوڑ کر آتش پرست ہوگئے۔ جب غسل آتشی سے گزرے، تو ہندوؤں نے اپنے مذہب میں شامل کیا۔ اکثر گجروں نے ہندوستان آکر بدھ مت اور جین مت اختیار کیا تھا۔ (شاہانِ گجر، صفحہ 68)
جب کہ شیخ جمال گجر اور حافظ عبدالحق سیالکوٹی کہتے ہیں: ’’ان کی سکونت و وطنیت کے ساتھ ساتھ ان کا مذہب بھی تبدیل ہوتا رہا۔ شام میں حضرت اسحاق علیہ السلام کے مذہب پر تھے، تو یونان میں عیسائی ہوگئے۔ ہندوستان آئے، تو ہندو مت کے پیرو ہوئے ۔ مسلمانوں کے زمانے میں ان کے بہت قبائل کاٹھیا واڑ میں صوفیائے کرام کی تبلیغ و صحبت کی بدولت مسلمان ہوگئے۔ (تاریخِ گجرات)
گجر اول اول آفتاب پرست تھے۔ اس بابت مولانا عبدالمالک لکھتے ہیں: ’’جہاں تک گجروں کے مذہبی تعلق کا مطالعہ کیا گیا ہے، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ گجر، آفتاب پرست تھے۔ (تاریئخِ گجرات، ص 66)
چوں کہ مذہبی تبلیغات گجروں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے نہ صرف ہر مذہب کو ویلکم کیا ہے، بلکہ اس پر فدا بھی ہوئے ہیں۔ مولوی عبدالمالک کا بیان ہے: ’’گجروں کی مذہبی تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گجروں نے جس مذہب کو اختیار کیا، پروانہ وار اس پر قربان ہو گئے۔‘‘
بعض علاقوں میں یہ لوگ مختلف جانوروں کو دیوی دیوتاؤں کے اوتار جان کر اس کی عبادت کرتے ہیں۔ جیسا کہ مولوی عبدالمالک کہتے ہیں’’ بعض ہندو گجر گھوڑے کی پوجا کرتے ہیں۔ بعض سانپ کی عبادت کرتے ہیں جب کہ ان میں ایک قبیلہ گؤسالہ کی پرستش کرتا ہے۔‘‘ جس میں انہیں خطرات سے نجات اور ایشور کو خوش رکھنے کی امید ہوتی ہے۔
اکثر گجر پرہیزگاری کے باعث مذہب میں پیشوائی بھی قبول کر لیتے ہیں، جس کے بارے میں مولوی عبدالمالک کچھ یوں لکھتے ہیں: ’’گجروں کی مذہبی شیفتگی اور پرہیزگاری کی یہ ایک مسلمہ دلیل ہے کہ جینی مذہب کے پیروکار پروہت (پیشوائے مذہب) گجروں میں سے انتخاب کرتے ہیں (خاص کر چیچی قوم میں)، لیکن ہندو مت میں یہ مذہب کی اس قدر پابندی بھی نہیں کرتے۔ بات کا ثبوت مولوی عبدالمالک کی کتاب سے لیا جا سکتا ہے، جو متھرا کے خانہ بدوش گجروں کے عجیب وغریب مذہب کو وشنو پران سے بیان کرتے ہیں: ’’ہم جنگل کے باسی ہیں اور گوہ ہماری دیوی ہے۔ ہمیں اندر سے کیا غرض و واسطہ ہے۔ مویشی اور پہاڑ مظاہرِ خداوندی ہونے کے لحاظ سے ہمارے لیے کافی ہیں۔ برہمن لوگ دعاؤں سے پوجا کرتے ہیں، مگر ہم جنگلوں اور پہاڑوں میں اپنے ریوڑ چراتے ہیں۔ ہمارے لیے ان کی خدمت کرنا عبادت میں داخل ہے۔ (ص، 71)
گجروں کو مذہبی رواداری سے زیادہ قومی رواداری عزیز ہے۔ یہ لوگ قومی یکجہتی اور قومی اتحاد کی خاطر مختلف مذاہب میں ہونے کے باوجود متحد رہتے ہیں۔ عبدالمالک چوہان کہتے ہیں: ’’ہندوستان پر جب حملہ آور ہوئے، تو مختلف المذاہب و مختلف النوع تھے۔‘‘
جب کہ چوہدری اکبر خان لکھتے ہیں: ’’اسلام اور بادشاہ میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہماری طرف دیکھو، ہم مسلمان تھے اور بیرونی مسلمانوں کے تنگ کیے ہوئے پہاڑی علاقوں میں سیکڑوں سال سے پھر رہے ہیں۔ ہماری مدد کرے گا، تو صرف گوجر کرے گا۔ ورنہ ہم اسی طرح جنگل میں گائے بھینس چراتے رہیں گے۔ (تاریخِ گجر گنج، صفحہ 91)
گجروں پر مذہب کی اثر پذیری کی بات پر تمام تاریخ دان متفق ہیں۔ صابر آفاقی لکھتے ہیں:’’گجروں میں ہر مذہب یعنی اسلام، ہندو، سکھ، جین مت اور عیسائی وغیرہ کے لوگ موجود ہیں۔ (گجری زبان و ادب، ص 25)
مگر یہ قاعدہ ہر جگہ لاگو نہیں ہوتا۔ مثلاً سوات میں گبرال کے مقام پر اکثر گجر اسلامی احکامات کے سخت پابند ہیں، وہاں مختلف مسالک کے بڑے بڑے علما بلائے جاتے ہیں، جو دینی علوم پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے ناظم کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، جو ایک گجر ہی ہیں۔ البتہ سوات کے وسطی اور جنوبی حصوں کے گجروں کی اکثریت کھیتی باڑی اور مویشی بانی کے باعث پابندیِ مذہب کے اس قدر قائل نہیں۔ اگرچہ ان میں علما، فضلا، حفاظ اور تبلیغی حضرات کی کمی نہیں۔ عام لوگ بمشکل صوم و صلوٰۃ تک محدود ہیں۔ یہ لوگ مذہب کا اتنا علم ہی رکھتے ہیں جتنا ان کے مولوی انہیں سکھاتے ہیں۔ البتہ بعض تعلیم یافتہ اور تبلیغی حضرات کچھ حد تک خود کو مذہبی امور سے باخبر رکھتے ہیں۔ یہ لوگ دیگر اقوام کے مقابلے میں فرقہ بندی سے بڑی حد تک آزاد ہیں، تاہم اسلامی تحریک کی ہنگامی صورتحال میں سامنے ضرور آتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں گبرال جہاں کے بارہ بانڈوں میں تہذیب و تمدن ایک حد تک پروان چڑھا ہے، یہاں لوگ مختلف مسلکوں میں تقسیم ہیں یعنی جہاں جہاں یہ لوگ خانہ بدوشی اور مویشی سے تمدنی زندگی کی طرف آئے ہیں، وہاں وہاں مذہبی فرقوں، مسالک اور اس کی جنونیت میں پڑگئے ہیں۔ مولوی عبدالمالک 1934ء کے مشاہدات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس زمانے میں گجر اسلام، بدھ، سکھ، آریا، سناتن دھرم، جین مت وغیرہ میں پائے جاتے ہیں اور مسلمانوں کا ہر فرقہ شیعہ، اہل سنت والجماعت، اہلِ قرآن، احمدی (جو اس وقت خارج اسلام نہ تھے ) شامل ہیں۔‘‘ یہ لوگ پنجاب میں پیر پرستی سے بھی وابستہ ہیں۔ بقولِ عبدالمالک، ان میں بے شمار بدعات پائی جاتی ہیں۔ گجر راسع العقیدہ بھی ہیں اور سادہ لوح بھی۔ جس کی وجہ سے تبدیلیِ مذہب کا ان میں پایا جانا خلاف معمول نہیں۔ بقولِ مولوی عبدالمالک چوہان:’’گجر جلد سے جلد مذہب تبدیل کر لیتے ہیں۔(ص، 75)
مزید آگے جا کر وہ کہتے ہیں: ’’اگر گجر قوم کو رسوم و بدعات سے روکا جائے، تو فوراً رک جاتے ہیں۔ اگر نماز یا حج پر آمادہ کیا جائے، تو جلد آمادہ ہو جاتی ہے۔ اگر مبلغ اسلام اس کی اصلاح پر توجہ کریں، تو یہ قوم جلد اصلاح پذیر ہو سکتی ہے۔‘‘
اب تو ماشاء اللہ گوجر میں حفاظ، عالمِ دین اور مفتی حضرات بھی ہیں۔ یہی لوگ گجر قوم کی اصلاح ان میں رہ کر کر سکتے ہیں جس طرح ان کے بزرگان دین نے کی ہے۔
…………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے