52 total views, 1 views today

1610ء میں گلیلیو (Galileo) نے اپنے بنائے ہوئے ٹیلی سکوپ کے ذریعے سے چاند، وینس اور جوپیٹر سیاروں کا مشاہدہ کرکے یہ ثابت کیا کہ سورج مرکز ہے جس کے گرد زمین گھوم رہی ہے، جس پر چرچ نے 1616ء میں فتوا دیتے ہوئے اسے عیسائی عقیدے کے خلاف قرار دیا۔ 1633ء میں “Inquisition” کی عدالت میں گلیلیو پر مقدمہ چلایا گیا اور اس کو اذیت کے اوزار دِکھا کر ڈرایا گیا کہ اگر وہ اپنے نظریے سے انحراف نہیں کرے گا، تو اس کو “Burno” کی طرح سخت سزا دی جائے گی (واضح رہے کہ “Burno” کو روم کے ایک شہر میں چرچ کے زیرِ اثر زندہ جلایا گیا تھا) اِس پر اُس نے اپنی جان بچانے کی خاطر اپنے نظریے سے انکار کیا، مگر اس کے باوجود چرچ نے فلورنس کے شہر جہاں کا وہ رہنے والا تھا، اُسے اپنے مکان میں قید کردیا گیا اور اُس پر پابندی لگا دی گئی کہ نہ تو وہ کسی سے ملے جلے گا اور نہ اسے لکھنے پڑھنے کی آزادی ہی ہوگی۔ ان پابندیوں کے باوجود گلیلیو نے ہمت نہ ہاری اور نظریۂ حرکت (Theory of Motion) اُس نے فرانس میں شائع کرایا۔
قید میں اُس سے ملنے کے لیے انگریز فلسفی “Thomas Hobbes” اور مشہور شاعر “Milton” ملنے کے لیے آئے۔
عمر کے آخری حصہ میں قیدِ تنہائی اور علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے کے باعث وہ بینائی سے محروم ہوگیا اور کسمپرسی کے عالم میں 1642ء میں اس کی وفات ہوئی۔
1992ء میں پوپ جان پال نے گلیلیو کے مقدمے کا از سرِ نو جائزہ لیتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اس مقدمے میں چرچ غلطی پر تھا اور گلیلیو سچائی پر۔ چرچ کے اس اعتراف نے یہ تسلیم کرلیا کہ بالآخر علم کو عقیدے پر فتح ہوئی۔
(ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب ’’تاریخ کی سوچ‘‘، پبلشر ’’تاریخ پبلی کیشنز، لاہور‘‘ ، سنہ اشاعت 2019ء، صفحہ نمبر 183 اور 184 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے