50 total views, 1 views today

مَیں اپنے گذشتہ دو کالموں میں پشتو مستشرقین میجر ہنری جارج راورٹی اور جارج روس کیپل کا ذکر کر چکا ہوں۔ اپنے کالموں میں یہ بھی ذکر کر چکا ہوں کہ مستشرق کے معنی کیا ہیں اور مستشرقین نے پشتو پر یہ احسان کیوں کیا؟ اس لیے یہاں مستشرقین کے بارے میں کچھ لکھنا تکرار ہی ہوگا۔ میری تحریر کا مقصد پشتو زبان سیکھنے، اس کی ساخت، ادبی پس منظر اور پیش منظر کے سلسلے میں انقلابی رحجانات کے بارے میں جن مستشرقین اور ان کے مسلمان منشیوں نے پشتو ادبیات اور انقلابی تجدید کے لیے کام کیا ہے، اپنے پڑھنے والوں کو ان کی خدمات سے آگاہ کروں۔پشتو زبان کے یہ مستشرقین غیر ملکی اور اہلِ زبان نہ ہونے کے باوجود پختونخوا کے لسانیات، ادبیات، فولکلور، روایات، تاریخ، تہذیب، ثقافت اور تمدن کے ساتھ ساتھ پشتونوں کی اصل نسل پر تحقیق کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔
آج میں ایک اور پشتو مستشرق کے بارے میں اپنی معلومات آپ سے شیئر کر رہا ہوں،جو پشتونوں میں ’’لاٹی برنس‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ ہم اکثر پشتو میں اس شخص کے لیے یہ جملہ استعمال کرتے ہیں جو شیخی بگھارتا ہو کہ “دا تہ داسی د لاٹی برنس زوے ئے” یعنی تم ایسے تیس مار خاں ہو۔ ان کا پورا نام الیگزنڈر برنس اور والد کا نام جیمز برنس تھا۔ برنس 1805ء کو برطانیہ میں پیدا ہوائے۔ 18 سال کی عمر میں ہندوستان آئے۔ 1821ء کو ہندوستان میں برطانوی بری فوج میں بھرتی ہوئے۔ 1825ء میں ان کا تبادلہ وزارتِ خارجہ میں کر دیا گیا اور وزارتِ خارجہ میں وزیرِ خارجہ کے مشیر کے طور پر کام کرتے رہے۔ سکھ رہنما رنجیت سنگھ نے الیگزنڈر کے توسط سے برطانیہ کے بادشاہ کو قیمتی گھوڑوں کا تحفہ پیش کیا۔ حکومت کی طرف سے برنس کو دریائے سندھ کے مغربی کنار ے، افغانستان اور وسطی ایشیا کے علاقوں میں جا کر علاقہ اور وہاں پر آباد لوگوں کے بارے میں ایک تفصیلی اور جامع رپورٹ مرتب کرنے کا حکم دیا۔ الیگزنڈر برنس نے اپنے سفر کی ایک تفصیلی رپورٹ ’’بخارا سفر ‘‘ کے نام سے تیار کی، جو بعد میں تین جلدوں میں شائع بھی کی گئی۔ 1834ء میں برنس کو برطانیہ بلایا گیا جہاں انھیں اچھے کاموں پر انگلستان کی جغرافیائی تنظیم نے ’’سونے‘‘ اور فرانس کی جغرافیائی تنظیم نے ’’چاندی‘‘ کے تمغوں سے نوازا۔ انگلستان کے بادشاہ ولیم چہارم نے اسے آدھا گھنٹا ملاقات کا شرف بخشا۔ اس سفر کا ذکر پروفیسر ڈاکٹر حبیب اللہ تگےؔنے اپنی کتاب ’’د مشرق پہ آسمان کے د مغرب ستوری ‘‘ میں کیا ہے: (ترجمہ) ’’برنس نے ’’دبخارا سفر‘‘ نامی کتاب (رپورٹ) میں پیش آنے والے واقعات کو بہت خوبصورت انداز اوردل کش پیرائے میں بیان کیا ہے۔‘‘
امیر دوست محمد خان اور ان کے بھائی سلطان محمد خان سے ملاقات کے بارے میں برنس لکھتے ہیں کہ افغانستان میں دونوں بھائیوں نے میرے اور ساتھیوں کی بہت خاطر مدارت کی اور ہمیں یہ احساس تک نہ ہونے دیا کہ ہم کسی غیر ملک میں غیروں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ہم جب امیر سلطان کے علاقے میں پہنچے، تو اس کے بڑے بیٹے نے گھوڑوں اور ایک ہاتھی کے ساتھ ہمارا استقبال کیا اور امیر سلطان محمد خان کی رہائش گاہ پہنچنے پر خود انہوں نے ہمارا استقبال کرتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ امیر سلطان محمد خان نے اپنی رہائش گاہ سے متصل ایک مکان ہمیں رہنے کے لیے دیا اور وہ ہر روز عصر کے وقت ہم سے ملاقات کے لیے آتے تھے۔ اسی طرح ہم نے وہاں ایک مہینا گزارا۔
امیر دوست محمد خان سے ملاقات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس ملاقات کا اہتمام جبار خان کیا تھا۔ امیر دوست محمد خان نے ہم سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے افغانستان آنے پر وہ بہت خوش ہیں۔ اگرچہ اُس نے انگریزوں کو بہت کم دیکھا تھا۔ امیر دوست محمد خان بہت زیرک انسان تھے۔ اُس نے باتوں باتوں میں یورپ میں قوانین اور ٹیکس نظام کے بارے میں ہم سے بہت کچھ معلوم کیا۔
برنس نے شاہ محمود کا بادشاہ بن جانے اور اُس کے بڑے صاحب زادے کا پشتون رہنما فتح محمد خان کی دونوں آنکھیں نکالنے اور موت کا قصہ بڑے درد ناک انداز میں بیان کیا ہے۔
الیگزنڈر برنس نے انگریزوں کے شاہ شجاع کو افغانستان کا بادشاہ بنانے کے فیصلے کی سخت مخالفت کی اور انگریزوں کو ایسا کرنے سے منع کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن برنس کی کسی نے نہ سنی۔ شاہ شجاع کو افغانستان کا بادشاہ بنانے کی وجہ سے انگریزوں کو اپنے ہزاروں فوجی مروانے پڑے اور ان کا یہ فیصلہ الیگزنڈر برنس کی موت کا سبب بھی بن گیا۔
اس واقعے کا ذکرپروفیسر ڈاکٹر حبیب اللہ تگےؔ اپنی مذکورہ کتاب میں اس طرح کرتے ہیں: (ترجمہ) ’’انگریزوں نے دوست محمد خان کے بجائے شاہ شجاع کو افغانستان کا بادشاہ بنانے کی جو غلطی کی، وہ نہ صرف افغانستان میں ہزاروں انگریز فوجیوں کی تباہی کا مؤجب بنی بلکہ اُس کی موت کا بھی باعث بنی، جس نے شاہ شجاع کوافغانستان کا بادشاہ بنانے کی مخالفت کی تھی وہ تھے الیگزنڈر برنس ۔‘‘
الیگزنڈر برنس کی دو کتابیں ’’د بخارا سفر‘‘ تین جلدوں میں 1834ء ‘‘ اور ’’ د اباسیند سفر‘‘ مقدمے کے علاوہ 323 صفحات پر مشتمل شائع ہوئیں۔
…………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے