61 total views, 1 views today

برطانیہ نے 1858ء میں برصغیر پر باضابطہ حکمرانی کا آغاز کیا۔ ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ سے اختیار تاجِ برطانیہ اور پارلیمنٹ کو منتقل ہوا۔ آنے والے کچھ عرصہ میں برطانوی اقتدار اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ تاہم عروج کی طرف یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ برطانیہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا حصہ بننا پڑا۔ ان عالمی جنگوں کے دوران میں متحدہ ہندوستان کی مالی اور فوجی امداد برطانوی مہمات کے لیے انتہائی اہم اور فیصلہ کن تھی۔ متحدہ ہندوستان نے برطانیہ کی جنگی کوششوں میں بڑے پیمانے پر حصہ ڈالا۔ اس نے اتحادی افواج کی جانب سے لڑنے کے لیے رضاکار بھیجے۔ پہلی جنگ عظیم میں تقریباً 15 لاکھ افراد نے ہندوستان کی طرف سے شرکت کی۔ ان میں تمام مذاہب کے لوگ شامل تھے، جنہوں نے اس مہم میں رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ انسانی وسائل کے علاوہ جانور، ساز و سامان اور مالی امداد بھی فراہم کی گئی۔
اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے دوران میں متحدہ ہندوستان کی مالی اور فوجی مدد نازی جرمنی اور جاپان کے خلاف برطانوی مہم کا ایک اہم جز تھی۔ اس جنگِ عظیم کے دوران میں ہندوستانی فوج، اتحادی افواج کے سب سے بڑے دستے کے طور پر شامل تھی۔
ان دو عالمی جنگوں میں 560 کے قریب شاہی ریاستوں کی شرکت اور ردعمل تاریخ کا ایک اہم موضوع ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان شاہی یاستوں میں سے کچھ نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران میں انگریزوں کے خلاف لڑائیاں بھی لڑیں، لیکن جنگ کے بعد ان کے ساتھ باہمی تعاون کے معاہدوں میں بھی شامل ہوئے۔
قارئین، راقم کے لیے ان عالمی جنگوں میں ’’سوات‘‘ کا کردار دلچسپی کا باعث ہے۔ چوں کہ سوات، براہِ راست انگریز حکومت کے کنٹرول میں نہیں تھا ، لہٰذا مذکورہ بالا حقائق اور اعدادوشمار سوات پر لاگو نہیں ہوتے۔
1914ء میں جب پہلی جنگِ عظیم کا آٖٖٖغاز ہوا، تو اس وقت سوات اپنے اندرونی تنازعات میں گرا ہوا تھا اور اپنی بالادستی کے لیے یہاں پر مختلف گروہ (ڈلے) جنگ و جدل میں مصروف تھے۔ اس وقت ریاستِ سوات کی بنیاد نہیں رکھی گئی تھی۔ تاہم اس عالمی بحران کے دوران ہی میں ریاست ِ سوات کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی۔ جب 1918ء میں پہلی جنگ عظیم کا اختتام ہوا، تو ریاستِ سوات کوقائم ہوئے محض تین سال کا عرصہ گزرا تھا۔ میاں گل عبد الودود (باچا صاحب) سواتـــــ کے حکمران کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
پہلی جنگِ عظیم میں سوات کے حکمران کا کردار اور حکمتِ عملی کیا رہی؟ اس کا ادراک کرنا اور اس حوالے سے جامع اور مسند تحقیق سامنے لانا مستقبل کے مؤرخین کا کام ہوگا۔ تاہم میں اتنا ضرور کہوں گا کہ چوں کہ پہلی جنگِ عظیم کی شروعات میں ریاستِ سوات کی بنیاد نہیں رکھی گئی تھی، اور نہ جنگ کے اختتام پر برطانوی حکومت نے اسے تسلیم ہی کیا تھا، لہٰذا یہ بات قدرے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اس عالمی جنگ میں ریاستِ سوات نے انگریز حکومت کو کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کی ہوگی۔
جب 1939ء میں دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہوا، تو ریاستِ سوات اندرونی طور پر کافی مستحکم ہوچکی تھی۔ اسے بیرونی خطرات بھی لاحق نہیں تھے۔ سوات کوبرطانیہ کی طرف سے تسلیم کیے ہوئے 13 سال کا عرصہ ہوچکاتھا۔ یاد رہے کہ برطانوی حکومت نے ریاستِ سوات کہ سن 1926ء میں تسلیم کرلیاتھا۔ اتنے عرصے میں دنیا کے حالات کافی تبدیل ہوچکے تھے اور اب دنیا کے اس بدلے ہوئے منظر نامے میں حکمرانِ سوات کو نئی حکمت عملی اپنانا تھی۔
دوسری جنگِ عظیم کے موقع پر متحدہ ہندوستان اور اس میں موجود 550 کے لگ بھگ شاہی ریاستوں نے اجتماعی طور پر برطانیہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ کانگرس اور مسلم لیگ کی قیادت بھی کافی سوچ بچار کے بعد برطانیہ کی ہم نوا بنی تھی۔ جب ہندوستان میں اعلیٰ سطح پر یہ حکمت عملی اپنائی گئی، تو سوات کے حکمران یعنی باچا صاحب کو بھی اسی طرزِ عمل کا انتخاب کر نا پڑا۔ اس سلسلے میں باچا صاحب نے دیگر ریاستوں کی طرح جنگِ عظیم میں انگریز حکومت کو مالی اور اخلاقی مدد فراہم کی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سوات میں مختلف قبائل کے سرکردہ افراد سے اپیل کی گئی اور انہوں نے اپنا کردار ادا بھی کیا۔ ان مقامی سرکردہ افراد نے باچا صاحب کی حمایت کی اور ’’وار پرپہ سیز فنڈ‘‘ (War Purposes Fund) میں اپنا حصہ ڈالا۔
ان باتوں کا انکشاف اس خط سے ہوتاہے جو باچا صاحب نے پولی ٹیکل ایجنٹ (دیر، سوات اور چترال) کو لکھا تھا۔ مذکورہ خط 10 اکتوبر 1940ء کو لکھا گیا تھا اور اس کا روانگی نمبر 831 تھا۔ باچا صاحب نے اس مکتوب میں لکھا تھا کہ سوات کے عوام نے کھلے دل کے ساتھ ان کی اپیل پر لبیک کہا ہے۔ یہ بات بتاتا چلوں کہ ـ’’وار پرپہ سیز فنڈ‘‘ کے لیے جو رقم سوات کے مختلف قبائل (خیلوں) نے فراہم کی تھی، وہ یکساں نہیں تھی بلکہ ایک دوسرے سے مختلف تھی۔
’’وار پرپہ سیز فنڈ‘‘ کے لیے سب سے زیادہ رقم بابوزئی نے فراہم کی تھی، جو کہ 2795 روپے بنتی تھی۔ دوسری بڑی رقم شامیزئی اور سیبوجنی نے فراہم کی تھی جو مجوعی طور پر 2663روپے تھی۔ تیسری نمبر پر بڑی رقم نیکپی خیل نے فراہم کی تھی جو کہ 2500 روپے بنتی تھی۔ اس کے علاوہ شموزئی کی طرف سے 583 روپے، ابا خیل اور موسیٰ خیل کی طرف سے 1670 روپے، مٹوریزئی کی طرف سے 661 روپے، عزی خیل کی طرف سے 1214 روپے، جنکی خیل کی طرف سے 723 روپے، چورڑئی (مدین) کی طرف سے 940 روپے، چکیسر کی طرف سے 553 روپے، کانا کی طرف سے 948 روپے، لیلونئی کی طرف سے 330 روپے، غوربند کی طرف سے 789 روپے، مارتونگ کی طرف سے 407 روپے، پورن مخوزئی کی طرف سے 720 روپے، بشام کی طرف سے 239 روپے، سالارزئی (بونیر) کی طرف سے 451 روپے، گدیزئی کی طرف سے 775 روپے، ڈگر اور گوکن (اجتماعی طور پر) کی طرف سے 1305 روپے، دولت زئی اور نورزئی کی طرف سے 1323 روپے، چغرزئی کی طرف سے 800 روپے، چملہ (مندنڑ) کی طرف سے 1161 روپے، امازئی کی طرف سے 630 روپے اور خدوخیل کی طرف سے 1160 روپے فراہم کیے گئے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا رقم برطانوی حکومت کے کسی بینک اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرائی گئی تھی، بلکہ اسے پولی ٹیکل ایجنٹ (دیر، سوات اور چترال) کو نقدی کی شکل میں بھیجا گیا تھا۔ ریاستِ سوات کے اس وقت کے وزیرِ اعظم، حضرت علی (کے بی ای) خود یہ رقم لے کر پولی ٹیکل ایجنٹ کے ہاں گئے تھے اور رقم ان کے حوالہ کی تھی۔ حضر ت علی کے برطانوی عہدیداروں کے ساتھ انتہائی خوشگوار تعلقات تھے۔ انہی تعلقات کی بنا پر ان کوـ ـ’’خان بہادر‘‘ کا اعزاز بھی دیا گیاتھا۔ برطانوی عہدیداروں کے ساتھ حضرت علی کے قریبی تعلقات کے بارے میں دیگر تفصیلات ولی خان نے اپنی کتاب ’’فیکٹس آر فیکٹس‘‘ میں بھی دی ہیں۔ یاد رہے کہ حضرت علی ریاستِ سوات کے واحد شخص تھے جن کو برطانوی حکومت کی طرف سے خان بہادر کا اعزاز ملا تھا۔
باچا صاحب نے اس خط میں مزید لکھا کہ اس مالی اعانت کی رقم، جو کہ چوبیس ہزار آٹھ سو دس روپے (24,810) بنتی ہے، اس میں سے چار ہزار آٹھ سو دس روپے (4810) گورنر سرحد کے لیے ہوائی جہاز خریدنے والے فنڈ میں جمع کیے جائیں۔ باقی بچی ہوئی رقم یعنی بیس ہزار روپے (20000) ’’وار پرپہ سیز فنڈ‘‘ کے لیے مختص کیے جائیں۔
وہ آگے لکھتے ہیں کہ ریاستِ سوات کے عوام کی طرف سے جنگ کے لیے جمع کی جانے والی اس رقم کی اطلاع صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کے گورنر کو دی جائے۔
………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے