67 total views, 1 views today

ملک بیرم خان المعروف ’’تاتا‘‘ یکم اکتوبر 1983ء کو میونسپل کمیٹی مینگورہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ چار سال مکمل ہونے کے بعد 21 نومبر 1987ء کو ان کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی۔ دوبارہ بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے پھر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور 29 دسمبر 1987ء کو دوبارہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ بلاشبہ مذکورہ 8 سالوں میں ’’تاتا‘‘ نے مینگورہ شہر کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔
اس دعوے کے ثبوت میں رقم کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے فضاگٹ میں دریائے سوات کے کنارے ایک بڑا پارک بنایا۔ مینگورہ شہر کے قابلِ ذکر مسائل حل کیے، مثلاً ٹیوب ویل بنائے اور پورے مینگورہ شہر کو صاف پانی کی فراہمی شروع کی۔ گنبد میرہ میں قبرستان کے لیے وسیع زمین خریدی۔ شہر کی گلیوں میں اسٹریٹ لائٹس کا انتظام کیا۔ سڑکوں پر بجلی کھمبوں میں قمقمے لگائے۔ شہر کے گلی کوچوں میں صفائی کا نظام متعارف کرایا۔ اس کے بعد چھوٹے چھوٹے بورڈوں پر احادیث لکھ کر سڑک کنارے بجلی کے کھمبوں کے ساتھ آویزاں کیے۔
میونسپل کمیٹی کے ایک اہلکار سے مَیں نے چند سال قبل پوچھا تھا کہ ’’تاتا‘‘ کا رویہ سٹاف کے ساتھ کیسے ہوتا تھا؟ موصوف کا جواب تھا: ’’تاتا، ادنا سے اعلا ملازم تک کو اپنے بچوں کی طرح دیکھتے تھے۔ جب کوئی اچھا کام کرتا تھا، تو اس کو اپنی جیب سے انعام دیتے تھے اور جو کام غلط کر جاتا تھا، اس کو سزا کے طور پر مرغا بھی بناتے تھے۔ سٹاف سے اپنے بچوں کی طرح کام لیتے تھے۔ کس کی مجال کہ اپنا کام بروقت نہ کرتا۔
’’تاتا‘‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ تھے، لیکن ان کی بات چیت اور عادات ایسی تھیں جیسے پی ایچ ڈی اسکالر ہوں۔ ان کی ملنساری، خوش اخلاقی، خوش لباسی اور ان کی دیگر عادات ایسی تھیں کہ جہاں جاتے، سب احتراماً کھڑے ہوتے۔ آج کے افسر ٹائپ لوگوں کا تاتا سے موازنہ کیا جائے، تو شبینہ ادیب کانپوری مشہور شعر کوٹ کیا جائے گا کہ
جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
ایک عرصہ سے ’’تاتا‘‘ سے میرا تعلق رہا۔ مَیں نے ہمیشہ ان کو والد یا تایا جیسی عزت دی۔ وہ بھی ہمیشہ شفقت سے پیش آتے۔ ’’تاتا‘‘ بہت سنجیدہ تھے، لیکن مَیں اکثر ان کو چھیڑا کرتا۔ میزان بنک کے زونل منیجر (مرحوم) قاسم صاحب کے ساتھ ان کی دوستی تھی۔ اکثر ان کے ساتھ ان کے دفتر میں ہوتے،اور جب قاسم صاحب گھر سے ان کے لیے جوس یا کچھ اور منگواتے، تو ’’تاتا‘‘بینک کے کسی ملازم کو بھجتے اور مجھے بلا لیتے۔
تاتا کے انتقال سے چند روز قبل ملک فدا محمد خان صاحب کے حجرہ میں فاتحہ خوانی کے دوران میں ملاقات ہوئی۔ مَیں صحن میں بیٹھ گیا، مگر ’’تاتا‘‘ نے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ یہ وبا (کورونا) ختم ہوجائے، تو تم (اور ایک دوست کا نام لیا) دونوں کو گھر پر بلاؤں گا اور کھانا کھلاؤں گا۔ اس بہانے خوب گپ شپ لگائیں گے۔
اس موقع پر ایک اور واقعہ یاد آرہا ہے۔ ایک بار’’تاتا‘‘ نے مجھے فون کیا، اور پوچھا کہ دفتر میں ہو؟ مَیں نے جواباً کہا کہ ہاں جی، تو انہوں نے کہا، مَیں آرہا ہوں ۔ مَیں نے ان سے کہا کہ’’تاتا‘‘ آپ کیوں تکلیف کر رہے ہیں؟ مَیں آجاتا ہوں، تو انہوں نے کہا کہ نہیں، ہم آرہے ہیں۔ کچھ دیر بعد ’’تاتا‘‘ دفتر میں داخل ہوئے۔ ان کے ساتھ سوات ٹرےڈرز فےڈریشن کے صدر عبدالرحیم صاحب اور دو اور اشخاص تھے۔ ’’تاتا‘‘ نے قہوہ کا حکم دیا، اور ساتھ آنے والے شخص کے بارے میں بتایا کہ ان کا فلاں شخص کے ساتھ کچھ کام ہے، اور وہ صرف تمہاری بات مانتا ہے۔ مَیں نے کہا، آپ بے فکر رہیں۔ مَیں کردوں گا۔ انہوں نے کہا، ’’کردوں گا نہیں۔ ابھی ان کے ساتھ جاؤ اور کام کرکے آؤ۔ اس وقت تک ہم یہی ہوں گے۔‘‘ مَیں نے کہا، ’’تاتا‘‘ حکم سر آنکھوں پر ۔
قصہ مختصر، حکم کی تعمیل کی اور اس شخص کا ایک مشکل ترین مگر جائز کام کرکے واپس آگیا۔ واپسی پر تاتا نے کہا کہ ’’تم میرے بیٹوں جیسے ہو۔ اس لیے حکم دیا۔‘‘ اس کے بعد گپ شپ شروع ہوئی۔ مَیں ’’تاتا‘‘ کو چھیڑتا رہا اور پاس ہی بیٹھے عبدالرحیم صاحب مسکراتے ہوئے اس تمام چھیڑ خانی سے محظوظ ہوتے رہے۔
تاتا انتہائی سنجیدہ،وعدے کے پکے اور وقت کے پابند انسان تھے۔ جس تقریب میں جاتے تھے، دس منٹ پہلے پہنچ جاتے تھے۔ مسلم لیگ میں مرتے دم تک رہے۔ کوئی بھی شخص ان سے ملتا، تو ان کے پیاراور شفقت کی وجہ سے اپنی پریشانیاں بھول جاتا۔ 66سال کی عمر میں جب اس عظیم انسان کا انتقال ہوا، توخبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ ایک دوسرے کو فون کرکے تصدیق کرتے رہے۔ ان کا جنازہ آدھی رات کو تھا، لیکن جنازگاہ اور سڑک کی جگہ کم پڑی۔ ان کی فاتحہ خوانی میں کرسیاں کم پڑ یں۔سیکڑوں افراد نے نمازِ جنازہ یا فاتحہ خوانی کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی زندگی میں سب لوگوں کی عزت کی۔
’’تاتا‘‘ سب کے مشر تھے۔ ان کا انتقال ایسا تھا جیسے سب لوگوں کے اپنے خاندان کے کسی بڑے کا انتقال ہوا ہو۔
’’تاتا‘‘ تو چلے گئے، لیکن آج بھی لوگ جب یاد کرتے ہیں یا یاد کریں گے، تو انتہائی عزت واحترام سے ان کا نام لیا جائے گا۔ ’’تاتا‘‘ کی زندگی سب لوگوں کے لیے مثال ہے۔
آخر میں خالدشریف صاحب کی غزل کے چند اشعار’’تاتا‘‘ کے نام
رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا
جو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے