56 total views, 1 views today

سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن ہفتے کے دن کراچی میں سپرد خاک کیے گئے۔ یہ وفات امہ کے ایک باعمل، باکردار، متقی، صاف گو، منکسرالمزاج اور قابل لیڈر کی وفات تھی۔
جمعہ کے دن دوپہر جب آپ کی وفات کی خبر سنی، تو کئی لمحوں تک شدید تکلیف سے گذرتا رہا۔ سید منور حسن ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ جب سوشل میڈیا پر منور حسن کی وفات سے متعلق چند جملے لکھے، تو کچھ دوستوں نے گلہ کیا کہ منور حسن کے لیے اتنے کم الفاظ! وجہ یہ ہے کہ میں اپنے جذبات و احساسات لکھتا ہوں۔ مجھے پیر و مرشد کی تعظیم و عظمت کے لائق الفاظ نہیں ملے، جو میں تحریر کی شکل میں لاتا۔
جماعت اسلامی میں مودودی کے بعد کئی امیر گذرے لیکن جو کھرا پن، سچائی اور عظمتِ کردار منور حسن صاحب کی تھی، دوسرے امرا اس کے عشر و عشیر بھی نہ تھے۔ آپ سے محبت کی بنیادی وجہ آپ کی سچائی، کھرا پن اور تقوا تھی۔
کل ایک دوست نے ’’وٹس اپ‘‘ پر سید منور حسن مرحوم کے بارے میں سکالر ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کی ایک تحریر بھیجی۔ ڈاکٹر صاحب نے پیر و مرشد کی وفات کے بارے میں وہی الفاظ دہرائے جو پیارے نبی ؐنے اپنے بیٹے ابراہیم کی وفات پر فرمائے تھے۔ ’’ان العین تدمع، والقلب یحزن، و لا نقول الا ما یرضی ربنا، وانا بفراقک لمحزنون۔‘‘ بخاری،3031) یعنی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں، دل غمگین ہے لیکن ہم وہی کہیں گے جس سے رب راضی ہو۔ آپ کی جدائی سے ہم غمگین ہیں۔‘‘
منور حسن اگست 1941ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کرکے خاندان سمیت پاکستان آئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ آپ نے 1963ء میں سوشیالوجی اور 1966ء میں اسلامیات میں ایم اے کیا۔ جن دنوں آپ بھرپور جوانی سے گذر رہے تھے، پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سوشلزم کا سایہ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر تیزی سے پڑ رہا تھا۔ ان دنوں کی ہوا کے مطابق آپ بائیں بازوں کے طلبہ تنظیم ’’نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ میں شامل ہوئے اور جلد جامعہ کراچی کے صدر بنے۔ ایک دفعہ خود آپ سے سنا کہ جس طرح جوش و جذبے سے ان کے اندر سوشلزم سرایت کر گئی تھی، اس قدر شائد ہی کوئی سوشلسٹ نظریات کا حامی ہو۔ لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا، جو نوجوان سوشلسٹ نظریات کا داعی تھا، اسلامی جمیعت طلبہ کی کاوشوں سے وہی نوجوان قافلہ مودودی میں شامل ہوا، اور اپنی خداداد قابلیت اور فعالیت کی وجہ سے 1964ء میں اسلامی جمیعت طلبہ کا مرکزی ناظمِ اعلی بن گیا۔
آپ اسلامی جمیعت طلبہ کی ذمہ داریوں سے سبک دوشی کے بعد 1967ء میں جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔ پارٹی میں مختلف عہدوں سے ہوتے ہوئے 1993ء میں پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے جب کہ مارچ 2009ء میں پارٹی کے مرکزی امیر منتخب ہوئے۔ اپریل 2014ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔1977ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔
سید منور حسن کی شخصیت کی دو نمایاں خوبیاں حق گوئی اور درویشی تھی۔ آپ اہلِ زبان تھے اور بہت حاضر جواب۔ آپ کی تقریر میں جو روانی تھی، دورِ جدید میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ حق گوئی کے ساتھ خوبصورت اردو کے جو الفاظ جس وزن اور تاثیر سے آپ بیان فرماتے، بندہ جھومنے پر مجبور ہوتا۔
برسبیل تذکرہ، ایک دفعہ بنوں آئے۔ ان دنوں آپ جنرل سیکرٹری تھے۔ بنوں بار کونسل میں تقریر کی۔ تقریر کے اختتام پر وکلا نے شرارت کرکے ایک وکیل کو منور حسن صاحب سے پوچھنے پر آمادہ کیا کہ وہ یہ پوچھے کہ آپ کی تقریر میں مستورات کے پردے کا ذکر کیوں نہیں؟ آپ نے جب سوال سنا، تو فوراً پانی کا گھونٹ حلق سے اتارا اور گلاس رکھ کر کہا کہ کئی مرتبہ میں نے دورانِ تقریر پانی پیا، لیکن میں نے پانی کے پینے کا ذکر نہیں کیا۔ تقریر میں سب چیزوں کا ذکر لازمی نہیں، جس پر وکیل صاحب ہکا بکا رہ کر بیٹھ گیا۔ مجھے یہ بات گاؤں کے ایک مشر، موجودہ امیر جماعت اسلامی ضلع بنوں کے بھائی عبدالجبار مرحوم نے بتائی تھی۔
منور حسن صاحب انتہا درجے کے کھرے اور سچے انسان تھے۔ حق پرستی و حق گوئی آپ کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ سیدھی بات کرتے۔ سیدھی بات کہنے میں پارٹی کو آڑے آنے دیا،نہ ذاتی مفادات کو۔آپ کا کھرا پن اس درجے تک تھا کہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ کے اس کھرے پن و صاف گوئی کی وجہ سے منافقت سے بھری دنیا میں آپ کا ایک سیاسی جماعت کا امیر رہنا پارلیمانی پارٹی کے لیے سودمند نہ تھا۔
منور حسن صاحب کی شخصیت کا دوسرا پہلو سادگی و درویشی تھا۔ آپ کی ساری زندگی دو تین مرلے کے فلیٹ میں گذری۔ جب امیر بنے، تو منصورہ لاہور میں دو کمرے کا فلیٹ دیا گیا جس میں جماعت کے باقی تمام امیر فیملی سمیت رہے ہیں، لیکن آپ نے یہ فلیٹ نہیں لیا اور ایک روم کے مہمان خانے پر اکتفا کیا۔ جب بیوی آتی، تو رسی پر پردہ ڈال کر روم کو دو حصوں میں بانٹتے۔ ایک میں بیوی مستورات سے ملتی، اور دوسرے حصے میں آپ مرد حضرات سے ملتے۔ اولاد کی شادیاں انتہائی سادگی سے کرائیں۔ ان کے بیٹے کی شادی میں ملک کے نامور سیاست دان موجود تھے، لیکن کھانے میں صرف چائے اور سموسے تھے، اور بغیر ہال کے شادی ایک شامیانے میں انجام پائی۔ خدا کی قسم یہ الفاظ لکھتے ہوئے آنکھوں سے آنسو جاری ہیں کہ ایسے باکردار لوگ بھی موجودہ دنیا میں ہوگذرے۔
منور حسن کی وفات سے ہم سب یتیم ہوگئے۔ آپ کی جدائی کے غم سے دل بوجھل ہے۔ آپ کی وفات سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ دعوت و حق کے ٹمٹماتے ستارے اگر یوں تیزی سے ڈوبتے رہے، تو بعید نہیں کہ یہ دنیا جہالت کے اندھیروں میں ڈوب جائے گی۔
سڑے چے مڑ شی کور پرے وران شی
پہ بعضی خلقو باندے وران شی وطنونہ
………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے