914 total views, 2 views today

پنجاب کے جاگیرداروں اور زمینداروں کو جو جاگیریں ملی ہیں، وہ سب انہیں دھرتی پر ظلم بونے کے بعد ہی ملیں۔ معروف محقق راجہ انور کا یہ جملہ جو انہوں نے اپنی کتاب ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ میں تحریر کیا ،مجھے اس روز یاد آرہا ہے جب پنجاب کے عظیم شہید احمد خان کھرل کا یوم شہادت ایک بار پھر خاموشی سے گزر گیا ۔گزشتہ سال لاہور میں کچھ این جی اوز کی جانب سے شہید کی یاد آوری میں پروگرامات کا انعقاد کیا گیا لیکن امسال ایسے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔شہید احمد خان کھرل کو 21ستمبر کو جنگ آزادی کی جنگ میں انگریز سامراج نے غداروں کی مدد سے شہید کیا تھا ۔
وکیل انجم اپنی کتاب’’ سیاست کے فرعون‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جب 10جون 1857 میں مجاہدین نے انگریز سامراج سے بٖغاوت کی، تو ملتان میں پل شوالہ پر معروف سیاست دان مخدوم شاہ محمود قریشی کے لکڑدادا مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں مریدوں کے ہمراہ مجاہدین کو گھیرے میں لے لیا اور تین سو کے لگ بھگ نہتے مجاہدین کو شہید کیا۔ انگریزوں کے کچھ باغیوں کو دربار شیر شاہ کے مریدوں نے گھیرے میں لیا اور قتل کیا ۔ مجاہدین نے قتل عام سے بچنے کے لئے دریائے چناب میں چھلانگ لگا دی۔ کچھ ڈوب کر جاں بحق ہوئے اور کچھ دریا کے اس پار پہنچے تو سید سلطان احمد قتال بخاری کے سجاہ نشین دیوان آف پیر والہ نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کر دیا۔مجاہدین کی ایک ٹولی حویلی کورنگا کی طرف نکل گئی جہاں مہر شاہ جو سید فخر امام کے پرداد کے سگے بھائی تھے، نے مریدوں کی مدد سے قتل عام کیا ۔




جب درگاہوں کے سجادہ نشینوں نے مجاہدین پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے تو شہید احمد کھرل نے بچنے والے مجاہدین کو پناہ دی اور انگریزوں کے خلاف جنگ بھی لڑی۔ جنگ کا آغاز ہوا تو راوی بار میں قبائل قومی اسّی سالہ احمد کھرل کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف برسرپیکار تھے تو دوسری جانب سجادگان و مخدومین حق نمک ادا کرتے ہوئے انگریز کی فوج کے ہمراہ تھے

جب درگاہوں کے سجادہ نشینوں نے مجاہدین پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے تو شہید احمد کھرل نے بچنے والے مجاہدین کو پناہ دی اور انگریزوں کے خلاف جنگ بھی لڑی۔ جنگ کا آغاز ہوا تو راوی بار میں قبائل قومی اسّی سالہ احمد کھرل کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف برسرپیکار تو دوسری جانب سجادگان و مخدومین حق نمک ادا کرتے ہوئے انگریز کی فوج کے ہمراہ تھے

اس قتل عام پر انگریز سامراج نے انعامات سے نوازا ۔مجاہدین کو شہید کرنے کے عوض بیس روپے فی مجاہد کے حساب سے نقد انعام دیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ ایک مربع اراضی عطا کی گئی ۔جبکہ مخدوم شاہ محمود کو تین ہزار روپے نقد جاگیر سالانہ معاوضہ مبلغ ایک ہزار سات سو اسّی روپے اور وائسرائے ہند نے بیگی والا باغ عطا کیا ۔مخدوم آف شیر شاہ مخدوم شاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے عوض وسیع جاگیر ملی۔جب درگاہوں کے سجادہ نشینوں نے مجاہدین پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے تو شہید احمد کھرل نے بچنے والے مجاہدین کو پناہ دی اور انگریزوں کے خلاف جنگ بھی لڑی۔ جنگ کا آغاز ہوا تو راوی بار میں قبائل قومی اسّی سالہ احمد کھرل کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف برسرپیکار, تو دوسری جانب سجادگان و مخدومین حق نمک ادا کرتے ہوئے انگریز کی فوج کے ہمراہ تھے۔اکیس ستمبر کو احمد خان کھرل کو نماز عصر ادا کرتے ہوئے شہید کیا گیا ۔جنگ آزادی کے اس عظیم شہید کو نہ جانے کیوں فراموش کر دیا گیا؟




تبصرہ کیجئے