78 total views, 1 views today

1935ء میں برطانوی حکومت نے نواب محمد شاہ جہان خان کی دستار بندی کی رسم بمقام چکدرہ ادا کی، اور ایک عہد نامے کی رو سے اس کو ریاستِ دیر کا نواب تسلیم کیا گیا۔ نواب موصوف کا طرزِ حکومت شخصی تھا، اور ریاستِ دیر کے فوجی اور ملکی نظم و نسق کا طریقِ کار بھی اکثر وہی رہا جو سابق نواب (1935ء سے پہلے) محمد اورنگزیب خان کے عہدِ حکومت میں تھا۔
اگرچہ ریاستِ دیر میں مختلف پرانے قومی رسم و رواج رائج تھے، لیکن وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ نوابِ دیر بھی آگے بڑھتا رہا۔ چناں چہ کئی دوسری رسوم سمیت انہوں نے ـ’’رسمِ حرب العید‘‘ پر بھی پابندی لگا دی۔
عید جہاں خوشیوں اور برکتوں کا تہوار ہے، وہاں ریاستِ دیر میں لوگ بازارِ حرب و ضرب میں مصروف رہتے تھے۔ حبیب الرحمان حبیب دیروی اپنی کتاب ’’ریاستِ دیر تاریخ کے آئینہ میں‘‘ (مطبوعہ 1962ء، صفحہ نمبر 145) پر لکھتے ہیں: ’’ ایامِ عید میں رواج یہ تھا کہ عید سے دو روز پہلے لڑکوں کے درمیان سنگ اندازی شروع ہوتی ( یعنی ایک دوسرے پر پتھر پھینکتے) جو آہستہ آہستہ لفنگ اندازی (جنگ و جدل) میں تبدیل ہوکر لڑائی کی صورت اختیار کرلیتی۔ آخرِکار بچوں کی یہ لڑائی قومی سطح پر پہنچ جاتی۔‘‘
سوات کے بزرگ لکھاری اور شاعر فضل رازق شہابؔ کے بقول یہ رسم ریاستِ سوات میں بھی رائج تھی۔ لڑکے ــ’’مخ چو غندہ‘‘ (پشتو زبان کا لفظ ہے۔یہ ایک طرح کا ہتھیار ہوتا تھا جس میں پتھر رکھ کر دور تک پھینکا جاتا تھا) سے ایک دوسرے پر پتھر پھینکتے تھے۔ بچوں کی یہ لڑائی مختلف اقوام کے مابین تنازعہ کا باعث بنتی، جس کی وجہ سے کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔
آمدم برسرِ مطلب، ریاستِ دیر کے اس وقت کے محمد شاہ جہان خان جیسے ہی نواب بنے، سب سے پہلے اس قبیح رسم کو قانوناً جرم قرار دے کر پابندی لگا دی۔
اگرچہ لوگوں کی اکثریت کا نوابِ دیر کے طرزِ حکومت سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس نے بعض امور و قوانین ایسے بنائے جس سے عام رعایا کو فائدہ پہنچا۔ ’’رسم حرب العید‘‘ پر پابندی ان میں سے ایک ہے۔
قارئین، کوشش کریں گے کہ ریاستِ دیر کے حوالے سے وقفہ وقفہ سے تاریخ کے صفحات سے گرد اُڑا کر کچھ نہ کچھ ضبطِ تحریر میں لاتے رہیں اور آپ کی نظر کرتے رہیں۔
…………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے