147 total views, 1 views today

کہتے ہیں کہ ایک ’’فارغ البال‘‘ مریض، ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا اور انہیں اپنا دُکھڑا یوں سنایا: ’’ڈاکٹر صاحب، جب کسی کے ہاتھ میں کنگھی دیکھتا ہوں اور وہ اُس کی مدد سے اپنی زلفِ گیرہ گیر کو سنوارتا ہے، تو حسرت سے میری آنکھیں ڈَبڈبا جاتی ہیں اور کسی کونے میں جاکر، رو دھو کر اپنے من کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہوں۔ ایسا کوئی نسخہ تجویز فرمائیے، جس کی مدد سے میرے بال اُگ آئیں، اور مَیں بھی آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر گا سکوں کہ
لٹ اُلجھی، سلجھا جا رے بالم!
مَیں نہ لگاؤں گی ہاتھ رے
ڈاکٹر صاحب نے مریض کا سر تا پاجائزہ لیا اور اپنے بالوں سے خالی سر کو کھجاتے ہوئے ایک کاغذ پر دوا کا نام لکھ کے دے دیا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ اسے مکمل ایک ماہ استعمال کرنا ہے۔ مریض شکریہ کے ساتھ پرچی ہاتھ میں تھامے یہ جا وہ جا۔
ٹھیک ایک ماہ بعد مذکورہ مریض اُسی پرچی کے ساتھ واپس کلینک آیا، اور ڈاکٹر صاحب سے شکایت کی کہ 30 دن بلاناغہ آپ کی تجویز کردہ دوا استعمال میں لائی، مگر مجال ہے کہ ایک بال بھی اُگا ہو۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک بار پھر اپنی کھوپڑی کھجاتے ہوئے کہا: ’’برخوردار، اُس روز بھی مَیں نے آپ کو سگنل دیا تھا کہ میرا اپنا کھیت خالی ہے۔ آج بھی آپ اس اُجڑے چمن کا حال دیکھ سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے مَیں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں، مگر آپ ہیں کہ اُس وقت بھی سگنل سمجھ نہیں پائے اور آج بھی کور چشم ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔‘‘
اس زبردست جواب کے بعد مریض اپنا سا منھ لے کر واپسی پر مجبور ہوا۔
ایک اور واقعہ ہمارے سوات سکاؤٹس اوپن گروپ کے بانی رکن اور ہمدمِ دیرینہ امجد علی جوہر صاحب یوں بیان کرتے ہیں: ’’ایک دفعہ بچپن میں مجھے ڈاکٹر صاحب کے کلینک لے جایا گیا۔ مَیں تھوڑا “Haptic” سا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی میز پر مختلف چیزوں کے ساتھ کھیلتا رہا۔ انہیں بتایا گیا کہ بچہ بیمار ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ پہلے اس کے کیڑے کا علاج کرتے ہیں۔ اس کے بعد کسی اور بیماری کو تشخیص کریں گے۔‘‘
قارئین کرام! ڈاکٹر رشید احمد، سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں مشہور تاجر حاجی عبدالرزاق کے ہاں 12 مئی 1935ء کو پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر روشن ہلال کے چھوٹے بھائی ہیں۔
سوات کے بزرگ لکھاری، شاعر اور ریاستی دور کے اوورسیئر (Overseer) فضل رازق شہابؔ صاحب کے مطابق، ڈاکٹر رشید احمد نے میڈیکل کی تعلیم کنگ ایڈورڈز میڈیکل کالج (کے ای ایم سی) لاہور سے حاصل کی۔ گھر سے تین بھائی (ڈاکٹر روشن ہلال، ڈاکٹر ریاض، ڈاکٹر رشید احمد) شعبۂ طب سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اول اول سٹیٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ (ریاستِ سوات) سے کچھ عرصہ کے لیے وابستہ رہے۔ پھر استعفا دیا اور پرائیویٹ پریکٹس کی خاطر کلینک کا آغاز کرلیا۔
قارئین کرام! مَیں بچپن میں اپنے نانا جی ہیڈماسٹر (ر) غلام احد اور ماموں خورشید علی میر خیل سے ٹیوشن لیا کرتا تھا۔ ساتھ انہوں نے مجھے اور برادرِ خورد اجمل کو مسجدِ شیرزادہ خان (میر خیل) تاج چوک کے مدرسہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی خاطر بھی بٹھایا تھا۔ سنہ 1986ء تا 1995ء ہفتہ کے چھے دن (سوائے جمعہ کے) ہم محلہ وزیر مال سے تاج چوک اُس مارکیٹ سے روزانہ دو بار گذرا کرتے جہاں ڈاکٹر رشید احمد صاحب کا کلینک قائم تھا۔ مارکیٹ میں کلینک کے عین سامنے ان کی لیبارٹری بھی تھی جس کے عملہ کے ہاتھ میں اکثر سوئی یا ٹیسٹ سیمپل دیکھ کر ہم سہم جاتے۔ ڈاکٹر صاحب کو صدربین (Stethoscope) گردن میں ڈالے کئی بار کلینک کے سامنے یا لیبارٹری جاتے دیکھ کر ہمارے سینے میں ان کے لیے احترام کا جذبہ موجزن ہوتا۔ آج بھی اس مارکیٹ سے گذرتا ہوں، تو بچپن کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب کو جاننے والے بتاتے ہیں کہ وہ حد درجہ حاضر دماغ اور خوش طبع واقع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر رشید احمد کا شمار اُن ڈاکٹروں میں ہوتا ہے، جن کی کوئی باقاعدہ فیس مقرر نہیں تھی۔ مریض کو جو دوا تجویز ہوتی، کلینک کے پاس ہی موجود میڈیکل سٹور سے خریدی جاتی اور یوں اُس میں ہاتھ آنے والی رقم سے ڈاکٹر صاحب کام جاری رکھتے۔ دوا زیادہ سے زیادہ دو قسم کی اور ٹیسٹ حسبِ ضرورت تجویز کرتے۔ جو ٹیسٹ ان کی لیبارٹری میں کیا جاتا، اسی سے کلینک کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کی جاتی۔ میری والدہ صاحبہ بھی ان کی مریض رہ چکی ہیں، بتاتی ہیں کہ جب بیماری طول پکڑتی اور ڈاکٹر صاحب کی دوا بے اثر جاتی، تبھی ٹیسٹ تجویز کرتے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اپنے کام سے اتنے مخلص تھے کہ دوپہر کی روٹی بھی کلینک ہی میں تناول فرماتے تھے۔ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ خاص کر بنڑ، باغ محلہ، وتکے، تاج چوک، محلہ وزیر مال، محلہ امان اللہ خان وغیرہ کے مریض کلینک آیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ مرغزار، سلام پور، کوکارئی، مدین، بحرین خاص کر کوہستان کے علاقوں کے مریضوں کی تان یہاں آکر ٹوٹتی تھی۔ کوہستان کے مریضوں کے کلینک آنے اور اُن سے رغبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ان کے ساتھ پشتو کے بجائے ان کی مادری زبان میں بات کیا کرتے تھے۔
ان کے مریض کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی بخار کے لیے اپنی بنائی ہوئی ایک دوا ہوتی تھی، جسے نزلہ، زکام اور بخار میں مبتلا مریضوں کو تجویز کیا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مذکورہ دوا کئی دواؤں کا مرکب ہوتی تھی جس کا رنگ گلابی ہوا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ مذکورہ دوا کو حلق سے اتارنا بڑا دل گردے کا کام ہوا کرتا تھا۔ ہمارے ایک رفیق جو عمر میں ہم سے بڑے ہیں، ازراہِ تفنن کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی وہ گلابی دوا حلق سے اترتی، تو ایڑھی تک جس جس جگہ سے گذرتی، شدید کڑواہٹ کا احساس دلاتی۔
ڈاکٹر صاحب کو جاننے والے کہتے ہیں کہ سفید لباس پہننا پسند کرتے ہیں۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں۔ آج بھی کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں۔ اخبار بینی ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ اردو اخبارات میں ’’مشرق‘‘ اور انگریزی میں ’’ڈان‘‘ پڑھتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی خوش طبعی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دفعہ کسی نے ’’چائینہ گندگی‘‘ (مصنوعی گندگی جو اُس وقت عام تھی اور ربڑ کی بنی ہوئی تھی) لا کر گاڑی کی چھت پررکھ دی۔ ڈاکٹر صاحب جیسے ہی دروازہ کھولنے آگے بڑھے اور گندگی پر نظر پڑی، تو ان کی بھنویں سکڑ گئیں۔ دوسرے ہی لمحے کسی کو آواز دی کہ آکر یہ گندگی ہٹاؤ اور گاڑی کو دھو لو۔ اس نے آتے ہی ڈاکٹر صاحب کو سمجھایا کہ کسی نے آپ کے ساتھ فولنگ کی ہے۔ یہ انسانی گندگی نہیں بلکہ ربر کی بنائی ہوئی گندگی ہے۔ ڈاکٹر صاحب جواباً متبسم ہوئے اور کچھ کہے بنا گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے۔
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی
………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے