669 total views, 1 views today

ڈاکٹر گیان پرکاش ان شخصیات میں سے ایک ہیں جن کا آرتی اُتارنے کو دل چاہتا ہے۔ سوات کا شائد ہی کوئی گھرانا ایسا ہو، جس کے بچے ڈاکٹر صاحب کے مریض نہ رہے ہوں۔ ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ ان پر قلم اٹھاؤں، مگر کوئی ایسا لنک نہیں مل رہا تھا، جس کی مدد سے ڈاکٹر صاحب تک رسائی حاصل ہوتی۔ خوش قسمتی سے فیاض ظفر صاحب کی اُن کے ساتھ ایک عرصہ سے عقیدت مندی چلی آ رہی ہے۔ فیاض صاحب سے درخواست کی کہ اگر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا جائے، تو دعا گو رہوں گا۔ انہوں وعدہ کیا اور وفا بھی کیا۔ یہی نہیں بلکہ اُس روز ڈاکٹر صاحب کو کرید کرید کر ایسی مفید معلومات ریکارڈ کرائیں جو شائد میرے بس کا کام نہ تھا۔ زیرِ نظر سطور کا کریڈٹ فیاض ظفر صاحب کو جاتا ہے، مَیں تو بس ریکارڈ شدہ گیانی آواز کو الفاظ کا جامہ پہنا رہا ہوں۔




سینئر صحافی فیاض ظفر، ڈاکٹر گیان پرکاش اور سینیٹر (ر) امرجیت ملہوترا کی ایک یادگار تصویر۔ (فوٹو: سحابؔ)

ڈاکٹر گیان پرکاش 2 جنوری 1954ء کو ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدِ بزرگوار سیوک رام، شلبانڈئی بونیر میں پیدا ہوئے تھے اور کپڑے کی پرچون دکان چلایا کرتے تھے۔ کہتے ہیں: ’’مَیں نے ہائی سکول نمبر ایک بنڑ سے میٹرک کیا جس میں پورے سکول میں اول پوزیشن حاصل کی۔‘‘ پاس ہی بیٹھے ان کے ایک ہمدمِ دیرینہ (جن کا نام نوٹ نہ کرپایا) کے بقول: ’’مَیں نے سکول کے آنر بورڈ پر ڈاکٹر صاحب کا نام جلی حروف میں درج دیکھا ہے۔‘‘
ڈاکٹر گیان پرکاش اسلامیات میں اُس وقت کے تمام مسلمان طلبہ کو پیچھے چھوڑ دیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں: ’’مجھے آج بھی یاد ہے ایک بار نوماہی امتحان میں، اسلامیات کے پرچے میں سب سے زیادہ نمبر (100 میں سے 95) مَیں نے ہی لیے تھے۔‘‘
ڈاکٹر صاحب نے ایف ایس سی جہانزیب کالج سے کیا، جس میں پورے کالج میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 1972ء کو سوات کی اقلیتی برادری کے لیے مخصوص نشست پر خیبر میڈیکل کالج میں داخلہ ملا۔ کہتے ہیں، ’’ایم بی بی ایس میں کوئی تیر مارنے (یعنی پوزیشن لینے) میں کامیاب نہ ہوسکا۔‘‘
خیبر میڈیکل کالج کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کی یادیں وابستہ ہیں۔ کہتے ہیں: ’’اُن دنوں یحییٰ خان نے ایک عجیب قانون نافذ کیا تھا۔ میڈیکل کالج سے فارغ ہوتے ہی ڈاکٹروں کو آرمی میں جانا پڑتا تھا، جہاں پورے دو سال گذارنا پڑتے تھے۔ اس وقت ہماری کلاس میں 98 میں سے 96 ڈاکٹروں کو جبراً لے جایا گیا، دو بندے جانے سے رہ گئے تھے جن میں سے ایک مَیں بھی تھا۔‘‘
ڈاکٹر صاحب طبعاً راست گو واقع ہوئے ہیں۔ دورانِ گفتگو انہوں نے اپنی ذات کو بھی معاف نہیں کیا۔ آرمی سے کس طرح خود کو دور رکھا؟ اس حوالہ سے کہتے ہیں: ’’لیفٹیننٹ جنرل فہیم نامی ایک سائیکاٹرسٹ تھے، بڑے زبردست قسم کے انسان تھے۔ اُس روز وہ امتحان لینے آئے تھے۔ ہمارے کالج کے ایک پروفیسر نے مجھے سمجھایا کہ بندہ خدا ترس قسم کا ہے، بس جھوٹ کا سہارا لے لو، اگر چھوٹ گئے، تو تمہاری سروس میرے ذمے۔ جیسے ہی جنرل فہیم سے میرا آمنا سامنا ہوا، تو انہوں نے پہلا سوال یہی کیا: ’’بولو بھئی، آپ کی پوسٹنگ کدھر کی جائے؟‘‘ مَیں چوں کہ پہلے سے ذہنی طور پر تیار تھا، اس لیے گڑگڑانے کے انداز میں انہیں کہا کہ سر، ہم اقلیتی برادری سے ہیں، ہمارے کھانے اور رہن سہن کا مسئلہ ہوتا ہے، اس لیے اگر آپ صاحبان ہمیں خود سے دور رکھیں، تو دعا گو رہیں گے۔ انہوں نے لقمہ دیتے ہوئے کہا: ’’یہ تو کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ ہماری آرمی میں سکھ برادری کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔‘‘ مَیں نے شکل تھوڑی روہانسی بنائی اور اگلے قدموں پر کھیلتے ہوئے گڑگڑانے کے ساتھ ہاتھ بھی جوڑ دیے۔ اس عمل سے ان کے دل میں دریائے رحم موجزن ہوا اور تھوڑے سے توقف کے بعد کہا: ’’چلو، نکلو پتلی گلی سے۔‘‘ مجھے انہوں نے ایک سرٹیفکیٹ تھمایا جس پر رقم تھا:”He is hereby exempted from the Army.” سرٹیفکیٹ لے کر ڈَگ بھرتے ہوئے مَیں پروفیسر اشفاق کے پاس گیا۔ انہوں نے وہاں سے سیکرٹری ہیلتھ کو فون کیا: ’’ایک ڈاکٹر ہے جس کی پوسٹنگ خیبر میں کرنی ہے۔ دراصل مجھے اُس کی ضرورت ہے۔‘‘ چوں کہ پروفیسر صاحب کے ان کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے۔ اس لیے میری سروس باآسانی شروع ہوئی۔ نتیجتاً خیبر میں ڈھائی سال گذارنا پڑے۔‘‘
ڈاکٹر گیان پرکاش وہاں سے ایک سال کے لیے نوشہرہ ٹرانسفر کیے گئے۔ 1982ء کو سوات آئے۔ کہتے ہیں، اُس وقت ڈاکٹر روشن صاحب ایکٹنگ ایم ایس تھے۔ان کی زیرِ نگرانی مخلوقِ خدا کی خدمت کی خاطر کمر کس لی۔
تب سے اب تک بقولِ منیرؔ نیازی
اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈاکٹر صاحب 1998ء کو سبک دوش ہوئے۔
1982ء کو سوات آتے ہی پرائیویٹ کلینک بھی کھولا۔ آپ کی فیس فی مریض کے عوض 20 روپیہ رکھی گئی۔ اُس وقت پورے سوات میں ڈاکٹر گیان پرکاش کے علاوہ ایک اور محترم ڈاکٹر صاحب (نام صیغۂ راز میں رکھا جاتا ہے) بھی پرائیویٹ کلینک چلایا کرتے تھے، ان کے کلینک میں ایک مریض کے عوض 50 روپیہ فیس لی جاتی تھی۔ آج بھی گیان صاحب اُسی روش کو اپنائے ہوئے ہیں، آج جب دیگر ڈاکٹرز کی نارمل فیس سات آٹھ سو روپیہ ہے، تو گیان صاحب 300 لیتے ہیں۔

امجد علی سحابؔ کی ڈاکٹر گیان پرکاش کے ساتھ ایک یادگار تصویر۔ (فوٹو: ڈاکٹر روی کمار)

طالبانائزیشن کے دور میں جب کان محلہ کے عام عوام پر گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شیلنگ کی گئی، تو اُس دورِ ناگوار میں سرکاری ہسپتال تک بند تھے۔ اُس روز ڈاکٹر صاحب اہلِ سوات کے لیے ایک سچا مسیحا ثابت ہوئے۔ ایک دوست کہتے ہیں کہ اُس روز مَیں نے پہلی بار ڈاکٹر صاحب کو زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے وقت روتے ہوئے دیکھا تھا۔ جب کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو پہلی بار عظیم مادرِ علمی ہائی سکول نمبر 1 (بنڑ) کی ڈھائی جانے والی عمارت کے ملبہ پر کھڑے ہوکر زار و قطار روتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ واضح رہے کہ مذکورہ سکول کی تاریخی عمارت کو شورش کے ایام میں بارود سے اُڑایا گیا تھا۔
ڈاکٹر گیان پرکاش کے تین بیٹے ہیں۔ ڈاکٹر روی کمار (ایف سی پی ایس اِن پراگریس)، سمت کمار جرمنی سے سولر انرجی میں ماسٹرز کر رہے ہیں اور کپل ملہوترا کار و باری شخصیت ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کے دیرینہ دوست ان کی حسِ مزاح کے قائل ہیں۔ جیسا کہ ایک بار فیاض ظفر صاحب نے اُن کے ساتھ تصویر کھینچی اور سوشل میڈیا پر اس کیپشن کے ساتھ شیئر کی کہ ’’وِد انکل ڈاکٹر گیان پرکاش‘‘، تو ڈاکٹر صاحب نے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’وِد ینگ ہینڈسم فرینڈ‘‘ لکھتے ہوئے انگلیاں دُکھتی تھیں کیا؟
سڑسٹھ سال کی عمر میں بھی ڈاکٹر صاحب اپنے پرائیویٹ کلینک میں دس بارہ گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں۔ سوات اور آس پاس کے اضلاع تو ہیں ہی، مگر اس کے علاوہ اُن کے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان، پنجاب یہاں تک کہ کراچی سے بھی لوگ اپنی ننھی کلیوں کا معائنہ کرانے آتے ہیں۔ جاتے جاتے احمد فرازؔ کے یہ دو اشعار آپ کے نام کرتا چلوں کہ
سنا ہے ایسا مسیحا کہیں سے آیا ہے
کہ جس کو شہر کے بیمار چل کے دیکھتے ہیں
اُس ایک شخص کو دیکھوں، تو آنکھ بھرتی نہیں
اُس ایک شخص کو ہر بار چل کے دیکھتے ہیں
………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے