194 total views, 1 views today

ان آخری دو صدیوں میں ایسے پشتون راہنما پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے سکھوں اور انگریزوں کے خلاف جنگیں لڑیں۔ خان عمرا خان اُن میں سے ایک تھے۔ آپ 1860ء میں خان آف جندول کے گھر پیدا ہوئے۔ 1892ء تک آپ کے قبضہ میں دیر، باجوڑ، ملاکنڈ، سوات اور بونیر کے کچھ علاقے تھے۔ سلیمان شاہد اپنی کتاب ـگمنام ریاست میں لکھتے ہیں کہ ’’1895ء میں ریاستِ جندول کے زوال کے وقت سخاکوٹ اس کی آخری حد تھی۔‘‘
اس وقت چترال کے اندرونی حالات بھی ٹھیک نہیں تھے۔ شیر افضل خان نے چترال پر قبضہ کیا تھا، تو دوسری طرف جندولی لشکر اور انگریزوں کے درمیان ایک لڑائی میں دو انگریز لیفٹیننٹ ایڈورڈ اور لیفٹیننٹ پاولر گرفتار ہوئے، جنہیں ریاست جندول کے صدر مقام باڑوہ (ثمر باغ) میں قید کیا گیا۔ چترال پر شیر افضل خان کا قبضہ اور دو انگریز آفیسروں کا قید ہونا، اس معاملات نے برطانیہ کو ملاکنڈ پر قبضہ کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ انہی حالات کو دیکھتے ہوئے یکم اپریل 1895ء کو برطانوی حکومت نے ملاکنڈ پر حملہ کی اجازت دے دی۔ تین بریگیڈ پر مشتمل ’’چترال ریلیف فورس‘‘ تشکیل دی گئی، جو پشاور سے ملاکنڈ روانہ ہوئی۔

چرچل پیکٹ کی تاریخی جہاں سے نیچے دریائے سوات کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔

امجد علی اتمان خیل اپنی کتاب سر تور فقیر میں لکھتے ہیں کہ ’’3 اپریل 1895ء کو برطانوی سامراج نے ملاکنڈ پر یلغار کی۔‘‘
یہی وہ پہلا موقع تھا جب ملاکنڈ میں انگریز داخل ہوئے۔ خان عمرا خان کی فوج اور برطانوی فوج میں سخت جنگ چڑھ گئی، جس کے نتیجے میں خان عمرا خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
چترال ریلیف فورس نے ملاکنڈ کو فتح کرکے سوات کے پار جانے کا ارادہ کیا۔ چکدرہ کے مقام ’’پل چوکی‘‘ پر پانچ سو گز پل تعمیر کیا گیا، اور اس کے شمال کی جانب ایک پہاڑی پر قلعہ تعمیر کیا گیا، جو اب چکدرہ قلعہ کے نام سے مشہور ہے۔
چکدرہ قلعہ کے مغرب کی طرف دم کوٹ پہاڑی پر ایک سگنل ٹاؤر تعمیر کیا گیا، جو اب ’’چرچل پیکٹ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے ساتھ اس وقت مزید پانچ حفاظتی پیکٹ تعمیر کیے گئے۔

چرچل پیکٹ کی حالیہ تصویر۔ (عکاسی: محمد وہاب سواتی)

چکدرہ قلعہ کی تعمیر 1895ء میں کی گئی۔ یہ قلعہ دفاعی لحاظ سے کمزور تھا۔ یہاں سے ادینزئی، بٹ خیلہ، تھانہ اور سوات کے کچھ علاقوں کو آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے، لیکن دم کوٹ پہاڑی پر واقع پیکٹ سے قلعہ پر حملہ کیا جاسکتا تھا۔
ملاکنڈ رائیزنگ 1897ء میں لکھا گیا ہے کہ چکدرہ قلعہ کی کمزوری دم کوٹ پہاڑی ہے۔ اس پہاڑی سے قبائل آسانی سے براہِ راست قلعہ کے اندر حملہ کرسکتے ہیں۔
سر ونسٹن چرچل اپنی کتاب جنگِ ملاکنڈ (ترجمہ: دی سٹوری آف ملاکنڈ فیلڈ فورس) میں لکھتے ہیں کہ ’’ چکدرہ کا قلعہ ایک چٹان پر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کے ایک طرف میدان ہیں اور دوسری طرف پہاڑ۔ اس کا دفاع قدرتی چٹانیں کرتی ہیں، لیکن تعمیر کے وقت اس کو دفاعی لحاظ سے تعمیر نہیں کیا گیا تھا۔ قلعے پر باہر سے گولہ باری کرنا آسان ہے۔ اس قلعہ کو فتح کرنا مشکل نہیں۔‘‘
اُس وقت چکدرہ قلعہ میں برطانوی فوج کی 45ویں سکھ رجمنٹ کو تعینات کیا گیا۔ بعد میں 1897ء میں سر تور فقیر کی سربراہی میں قبائل جمع ہوئے، اور 27 جولائی 1897ء کو چکدرہ قلعہ پر حملہ کیا۔ سخت جنگ لڑی گئی جو کئی دنوں تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ قبائل اپنے ساتھ سیڑھیاں بھی لائے تھے، تاکہ قلعہ میں اندر جانے کے لیے استعمال ہو سکیں۔ امید تھی کہ سر تور فقیر یہ جنگ جیت جاتے۔ ان کو پختہ یقین تھا کہ فتح انہیں کو نصیب ہوگی۔ اُس وقت قبائل، چکدرہ گاؤں کی مسجدوں میں نماز اور نوافل پڑھتے، اور قلعہ پر حملہ آور ہوتے۔




چکدرہ پل پر حملہ کے وقت کی تصویر۔

بعد میں اگست 1897ء کو چکدرہ اور ملاکنڈ قلعوں کی مدد کے لیے برٹش انڈین رجمنٹس بھیجی گئیں، جس کے ساتھ ہی قبائل منتشر ہوئے اور اس جنگ کا خاتمہ ہوا۔
دم کوٹ پہاڑی پر واقع سگنل ٹاؤر سے ہیلیوگراف کے ذریعہ ملاکنڈ قلعہ تک پیغام بھیجا جاتا تھا۔ ہیلیوگراف میں ایک آئینہ لگا ہوتا تھا، اور سورج کی روشنی میں پیغام کی ترسیل ہوتی تھی۔ اس وجہ سے چرچل پیکٹ کو ’’شیشو پیکٹ‘‘ (شیشہ بمعنی آئینہ پشتو زبان میں) بھی کہا جاتا ہے۔
چرچل پیکٹ سے جو آخری پیغام ملاکنڈ قلعہ تک بھیجا گیا تھا وہ “Help us” تھا، جس کی وجہ برٹش انڈین رجمنٹس یہاں پر بھیجی گئیں۔ پیریم سنگھ نامی سپاہی نے قبائل کے حملہ کے باوجود پیغام ملاکنڈ قلعہ تک پہنچا دیا تھا۔ اس وقت پیکٹ پر جو سپاہی موجود تھے، وہ قبائل کی گولہ باری سے محصور ہوگئے تھے۔


کیپٹین رائٹ کے سربراہی میں 11 ویں بنگال فورس چکدرہ قلعہ کے طرف رواں دواں۔

اس پیکٹ کو بعد میں برطانوی وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل کے نام سے منصوب کیا گیا۔ چرچل پیکٹ تک بیس پچیس منٹ میں باآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔ تقریباً تین میٹر کی اونچائی والا یہ پیکٹ دم کوٹ پہاڑی پروا ضح نظر آتا ہے۔ پیکٹ کے بالکل سامنے سفید پتھروں سے ’’چرچل پیکٹ‘‘ لکھا ہوا ہے، جسے دریائے سوات کے پار سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سگنل ٹاؤرکو سر ونسٹن چرچل کا نام اس وجہ سے دیا گیا کہ 1897ء کی جنگ میں چرچل بذاتِ خود شریک تھا۔ حالاں کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ اُس وقت وہ ہندوستان میں تھا ہی نہیں۔ کہیں بعد میں وہ ملاکنڈ فیلڈ فورس کے ساتھ بطور ایک نامہ نگا ر کے آیا تھا۔ اس حوالے ڈاکٹر سلطان روم لکھتے ہیں:
ـ’’سر بنڈن بلڈ اس وقت ملاکنڈ فورس کا سربراہ تھا۔ اس کے عملے میں اس کے لیے کوئی آسامی نہیں تھی۔ چناں چہ بنڈن بلڈ نے اسے بطورِ نامہ نگار آنے کی دعوت دے دی۔چرچل کی ماں لیڈی رینڈولف چرچل نے ڈیلی ٹیلی گراف کے ایڈیٹر سے انتظام کروایا کہ ان کے فی کالم کی پانچ پاونڈ ادائیگی کرکے شائع کریں گے۔‘‘

چکدرہ قلعہ کی شمال کی طرف کا منظر۔

قارئین، چرچل پیکٹ ایک خوبصورت سیاحتی مقام پر واقع ہے۔ اس سے ایک طرف دریائے سوات تو دوسری طرف ضلع ملاکنڈ کا پورا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ سیاحوں کے لیے یہ جگہ منفرد ہوگی، مگر حفاظتی اقدامات اور چکدرہ قلعہ میں پاکستان سکاؤٹ اور آرمی کی موجودگی کے تناظر میں چرچل پیکٹ سیاحت کے لیے بند ہے۔ اس کو سیاحت کے لیے کھول کر یہاں کی تاریخی اور سیاحتی اہمیت اجاگر کی جا سکتی ہے۔
ملاکنڈ کی پہاڑیوں میں بنی سڑک پر گاڑی دوڑاتے اور سوات کی طرف جاتے ہوئے اس تاریخی مقام کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر اسے واقعی سیاحتی بنیادوں پر کھولا گیا، تو یہ نہ صرف اس علاقے کی معاشی تقدیر بدل سکتا ہے، بلکہ یہ پورے ملک کی معیشت میں ایک اچھا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس حوالہ سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر اعظم عمران خان سے خصوصی اپیل کی جاتی ہے کہ چرچل پیکٹ کو سیاحوں کے لیے کھولنے کے احکامات صادر کیے جائیں۔
حوالہ جات:
“The central campaign a narrative of events in chitral, swat and bajour. By H.C Thomson, P# 57,62.”
’’سر تور فقیر‘‘ از امجد علی اتمان خیل۔
www.britishbattles.com/ malakandrising1897
’’جنگ ملاکنڈ، ترجمہ ’’دی سٹوری آف ملاکنڈ فیلڈ فورس‘‘ ، سر ونسٹن چرچل۔
’’پہ سویلی لوندیز ہند کے دہ پشتونو بغاوتونہ‘‘ از خالق زیار۔
’’ریاست سوات 1915ء تا 1969ء‘‘از ڈاکٹر سلطانِ روم۔
…………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے