106 total views, 1 views today

سوات کی سرزمین اپنے قدرتی حسن، آثارِ قدیمہ اور دیگر بہت سے عوامل کی وجہ سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔ سکندرِ اعظم نے 327 قبل مسیح میں وادی میں داخل ہوکر بازیرا (بریکوٹ) اور اورا (اڈیگرام) کے علاقوں پر قبضہ کیا۔ سوات، بدھ مت اور گندھارا تہذیب کا مرکز بن کر ابھرا۔ گیارہویں صدی میں محمودِ غزنوی کی افواج نے سوات کا رُخ کیا اور یہاں کے زیادہ تر علاقوں میں اسلام کی روشنی پھیلی۔ یو سف زئی قبیلے کی سولہویں صدی میں سوات آمد ہوئی اور یہاں کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔ سوات کی مذہبی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی میں چینی زائرین نے سوات کا رُخ کیا اور اپنے سفرناموں میں سوات کا ذکر کیا۔ اس سے قبل یونانیوں نے بھی سوات پر قابلِ قدر تحریری مواد فراہم کیا۔ ہندوستان پر قابض انگریز حکومت بھی سوات کے امور میں دلچسپی لیتی رہی، اور گاہے بگاہے اپنے اہلکار اور ایجنٹس سوات بھیجتی رہی، تاکہ اس سرزمین اور اس کے باسیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرسکے اور مستقبل میں اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکے۔
بیسویں صدی کے تیسرے عشرے تک سوات بیرونی دنیا اور خصوصاً سیاحوں کے لیے ناقابلِ رسائی تھا۔ سوات کی حیثیت خود مختار علاقے کے طور پرقائم رہی، اور انتظامی کنٹرول کے لحاظ سے مختلف قوتوں بشمول برطانوی حکومت کے دائرۂ اختیار سے یہ باہر رہا۔ حتی کہ گو رے بھی ریاستِ سوات آنے سے گریزاں رہے۔ تاہم 1926ء میں جب ریاستِ سوات کو انگریزوں نے باضابطہ تسلیم کیا، تو ریاست کے طرزِعمل اور طریقۂ کار میں واضح تبدیلی آئی۔ ریاست کو بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور ترقی کا ابتدائی مرحلہ میاں گل عبدالودود (باچا صاحب) کے دور میں ممکن ہوا۔ جب ان کے بعد اقتدار سوات کے آخری والی میاں گل جہانزیب کے ہاتھ آیا، تو انہوں نے ریاست کی ترقی اور مواصلات کے حوالے سے غیرمعمولی اقدامات کیے۔ انہوں نے سوات کو پوری دنیا کے سیاحوں کے لیے کھول دیا۔ ان کی حکومتِ پاکستان کے عہدیداروں کے ساتھ خط و کتابت ریکارڈ کا حصہ ہے۔ یہ خط و کتابت ان کی اس خواہش کا منھ بولتا ثبوت ہے کہ سوات میں سیاحت کو فروع حاصل ہو۔ ان کی رائے تھی کہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے سیاحوں کی سوات آمد پر کوئی روک ٹوک اور بے جا مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ کیوں کہ اس طرح کی شرائط سے سیاحوں کا وقت اورر توانائی ضائع ہوتی ہے، اور وہ سوات آنے کا ارادہ ترک کر دیتے ہیں۔
سیاحت کے فروغ میں میاں گل جہانزیب کی یہ کوشش کارگر ثابت ہوئی۔ انہوں نے لیاقت علی خان کو سنہ 1949ء اور ملکہ الزبتھ دوم کو سنہ 1961ء میں ریاستِ سوات مدعو کیا۔ اس اقدام سے ان لوگوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا جو سوات آنے کی خواہش رکھتے تھے۔
سابق صدرِ پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ایوب خان کے ساتھ والیِ سوات کے قریبی خاندانی تعلقات نے بھی ریاست میں سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ فروری 1961ء میں ملکہ الزبتھ اور اس کے شوہر کے دورے کو میڈیا پر خاصی کوریج ملی، اور اس طرح اندرون اور بیرونِ ملک سیاحت کے امکانات مزیدبڑھ گئے۔ لکھاری محمد زاہد اس دورے کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’سوات کے سابقہ حکمران کی پوتی زیبو جیلانی یاد کرتی ہے کہ ’’مَیں شائد آٹھ سال کی تھی، جب ملکہ، سوات کے دورہ پر آئی تھی۔ یہ ایک بہت خوشگوار لمحہ تھا۔ اگرچہ میرے دادا غیر ملکی معززین جن میں ملایشیاکی ملکہ بھی شامل تھی، کا وقتاً فوقتاً ریاست میں استقبال کر تے رہتے تھے، لیکن اس مخصوص دورے پرسب کو خوشی تھی کہ برطانوی ملکہ تشریف لارہی ہے۔ ہم سب نے اس دن اپنے بہترین کپڑے پہن رکھے تھے۔‘‘ ملکہ کے دورے سے قبل، برطانیہ سے ایک وفد نے سوات کا دورہ کیا، تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ یہ سوات ان کے دورے کے لیے موزوں جگہ ہے یا نہیں۔ جب بالآخر وہ دن آیا، تو شاہی مہمانوں کی بہت مہمان نوازی کی گئی۔ زیبو جیلانی کا کہنا ہے کہ ’’مَیں اور میرے بڑے کزن نے ملکہ اور اس کے شوہر شہزادہ فلپ کو سیدو میں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ انہوں نے ہم سے مصافحہ کیا اور ہمارے نام پوچھے اور یہ کہ ہم اسکول جاتے ہیں یانہیں؟‘‘
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فروری 1961ء میں سوات انتہائی سخت سردی کی لپیٹ میں تھا۔ ہزاروں افراد ملکہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے سڑک کے کنارے کھڑے تھے۔ ملکہ کا ملاکنڈ پاس سے لے کر سوات تک استقبال کیا گیا۔ ملاکنڈ وہ جگہ ہے، جہاں 1897ء میں سر ونسٹن چرچل ایک نامہ نگار کے طور پر تعینات تھے، اور جنگی رپورٹس اخبارات کے لیے لکھتے رہے۔ اس مخصوص جگہ کو اب ’’چرچل پیکٹ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ملکہ کو سوات جاتے ہوئے یہ مشہور پیکٹ دکھایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملکہ نے وہاں سے سر ونسٹن چرچل کو فون کیا اور بتایا کہ وہ ملا کنڈ کی وادی میں چرچل پکٹ کا دورہ کررہی ہے۔
ملکہ، سوات کے حکمران کی ملکیتی امریکی گاڑی میں سفر کر رہی تھی جو کہ بغیر چھت کی تھی۔ ملکہ بہت پُرجوش تھی اور اس نے ہاتھ لہرا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ڈیوک آف ایڈنبرا اور ملکہ الزبتھ کا جس طریقے سے استقبال کیا گیا، وہ تاریخی تھا۔ سوات کے بالائی علاقوں میں شدید برف باری کی وجہ سے سڑکیں بند تھیں اور اسی وجہ سے ملکہ دور دراز اور قدرتی خوبصورتی کے حامل علاقوں کا دورہ کرنے سے قاصر رہی۔
ایک انگریز مصنف کے مطابق اُس دن سخت سردی تھی، اور رات کے وقت ہونے والی بارش نے متعدد دیہات سے شاہی راستے تک رسائی مشکل بنا دی تھی۔ پھر بھی لوگ شاہی جوڑے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اپنے گھروں سے نکلے۔ پشاور سے سیدو شریف جانے والے راستے کو محرابوں سے سجایاگیاتھا۔ ان محرابوں پر کچھ دلچسپ ڈیزائن بنائے گئے تھے۔
عبدالقیوم بلالہ اپنی تصنیف ’’داستانِ سوات‘‘ میں ملکہ برطانیہ کی سوات آمد کے متعلق لکھتے ہیں: ’’فروری 1961ء میں ملکہ الزبتھ سوات تشریف لائیں۔ یہاں نوبہار آنے کے آثار پیدا ہوگئے تھے۔ ان دنوں سوات میں بہار کی آمد آمد تھی۔ سڑک کے دونوں طرف کھیتوں میں سرسوں کے سنہرے نیم کشادہ پھول مستی سے جھوم رہے تھے۔ چاروں طرف پہاڑ برف سے ڈھکے ہوئے تھے، اور بادل کی وجہ سے سورج دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ملکۂ عالیہ شکارکے لیے سویگلئی جا رہی تھیں، جہاں سٹیٹ کی شکارگاہ تھی۔ سیدو شریف سے شکارگاہ تک سڑک محرابوں سے سجائی گئی تھی۔ بعض جگہوں میں محرابوں کا درمیانی فاصلہ مصنوعی پھولوں اور پتوں سے ڈھانکا گیا تھا۔ آپ کی گاڑی کالی مرسیڈیز بڑی آہستہ رینگتی ہوئی حرکت کر رہی تھی۔ ہم ہائی سکول کبل کے طلبہ نفیس کپڑوں میں ملبوس ایک ہاتھ میں پاکستان کی جھنڈی اور دوسرے ہاتھ میں برطانیہ کی جھنڈی پکڑے سڑک کے دونوں جانب قطار میں کھڑے تھے۔‘‘
ملکہ اپنے شوہر شہزادہ فلپ کے ہمراہ وائٹ پیلس بھی گئی۔ اپنے دورے کے دوران ملکہ نے سوات کو ’’مشرق کا سوئٹزرلینڈ‘‘ کہتے ہوئے اپنا مشہور تبصرہ کیا۔ وائٹ پلیس نے رائل سویٹ، سوات کا بیڈ روم جہاں ملکہ الزبتھ نے تین دن قیام کیا تھا، محفوظ کیا ہے۔
میاں گل جہانزیب ( والیِ سوات) جو کہ شاہی جوڑے کے میزبان تھے، اپنی سوانح عمری میں اس کے متعلق یوں لکھا ہے: ’’صدر، فیلڈ مارشل ایوب، 1960ء میں انگلینڈ کے غیر سرکاری دورے پر گئے تھے۔ ونڈسر میں کھانا کھاتے ہوئے صدر ایوب خان نے ملکۂ برطانیہ کو تجویز دی کہ وہ پاکستان کا سرکاری دورہ کریں۔ اچانک شہزادہ فلپ نے کہا: ’’بہ شرط یہ کہ آپ ہمیں سوات لے جائیں!‘‘ یہی وجہ تھی کہ وہ 7 فروری 1961ء کو یہاں آئے تھے۔ اس دورے کے دوران مَیں نے محسوس کیا کہ ملکہ، شہزادہ فلیپ سے بے حد محبت کرتی ہے۔ شہزادے نے بھی مردانہ انداز میں برتاؤ کیا اور وہ کسی طرح بھی ملکہ کے منصب سے مرعوب نہیں تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت مخلص تھے، جو کہ بہت اچھی بات ہے۔ خدا ان کو سلامت رکھے۔ وہ ایک دوسرے کے فیصلے کا احترام کرتے تھے۔ دس فروری کو میرے ساتھ تین دن گزارنے کے بعد رُخصت ہوئے۔‘‘
…………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے