203 total views, 1 views today

ریاستِ سوات کی تشکیل ہندوستان کی تاریخ میں بالعموم اور شمال مغربی ہندوستان کی تاریخ میں بالخصوص ایک انوکھا واقعہ ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سوات کی سابق ریاست اپریل 1915ء کو ایک عمرانی معاہدے کے ذریعے تشکیل دی گئی تھی۔ دریائے سوات کے دائیں کنارے سوات کے عمائدین نے ایک جرگہ کے ذریعے فیصلہ کیا کہ ان کو ایک ایسے حاکم کی ضرورت ہے جو ایک طرف انہیں قیادت مہیا کرے، تو دوسری طرف بیرونی دشمنوں کے حملوں کی صورت میں ان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ لہٰذا ستھانہ سے سید عبدالجبار شاہ کو حکمران بننے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سید عبدالجبار شاہ مشہور مذہبی اور صوفی بزرگ سید علی ترمذی کی نسل میں تھے جن کو “پیر بابا” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم، وہ زیادہ عرصے تک سوات میں ٹھہر نہیں پاتے، اور محض دو سالوں کے بعد ان کو سوات چھوڑنا پڑتا ہے۔ سوات میں اپنے مختصر قیام کے باوجود انہوں نے ریاست کو ابتدائی بنیاد فراہم کرنے کی سعی ضرور کی۔ ان کے بعد میاں گل عبدالودود المعروف “باچا صاحب” ستمبر 1917ء میں سوات کے حکمران بنتے ہیں۔ ریاستِ سوات پر ان کا اقتدار تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک یعنی 1917ء سے 1949ء تک محیط رہا۔ انہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود خود کو ایک کامیاب حکمران ثابت کیا، اور ریاست کو منظم، مضبوط اور ترقی یافتہ بنایا۔ ریاست کے استحکام کے لیے ان کے اقدامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ان کے اقدامات اور اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت 1926ء میں “ریاستِ سوات” کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرتی ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ریاستِ سوات کی حدود سے باہر، محمد علی جناح کی سربراہی میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ ملک کے قیام کی تحریک بھی چل رہی ہوتی ہے۔ یہ سوات کے حکمران کے لیے آزمائشی دور ثابت ہوتا ہے۔ انہیں یہ مشکل پیش آتی ہے کہ وہ انگریز حکومت کا ساتھ دیں، یا آل انڈیا مسلم لیگ اور اس کی قیادت کے مؤقف کی تائید کریں؟ لہٰذا میاں گل عبد الودود کو انگریز حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات کے علاوہ محمد علی جناح اور ان کی پارٹی سے بھی دوستانہ روابط رکھنا پڑتے ہیں۔ ان دونوں طاقتوں کے علاوہ اس علاقے میں اُس وقت موجود دیگر سیاسی لوگوں کے ساتھ تعلقات کا تعین اور توازن قائم رکھنا ایک نازک مرحلہ تھا۔ مسلمانانِ ہند کے اجتماعی مفاد کو دیکھتے ہو ئے باچا صاحب نے خود کو ایک الگ ملک کی جد و جہد سے دور نہیں رکھا، بلکہ آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت کو اخلاقی، سیاسی اور مالی مدد فراہم کی۔ ان کی طرف سے آل انڈیا مسلم لیگ کی تائید کی پالیسی اس وقت اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے جب برصغیر کی تقسیم اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی ہوتی ہے۔ باچا صاحب برصغیر پاک و ہند کا ایک جغرافیائی حصہ ہونے کے ناتے 1940ء کی دہائی کے آخر میں علیحدہ ملک کی جدوجہد کے لیے پیش آنے والے واقعات کا قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں، اور اپنی پالیسی کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ چناں چہ سوات کی طرف سے پاکستان کے قیام سے قبل اور بعد میں فراہم کی جانے والی مالی امداد تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے کہ جس پر ایک جامع علمی مطالعہ اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ راقم کی یہ تحریر صرف ایک واقعے کا احاطہ کرنے کی غرض سے لکھی گئی ہے۔ یہ واقعہ وفاق پاکستان اور اس کے استحکام کے لیے سوات کے حکمران کے اخلاص اور خیرخواہی کا ایک ناقابلِ تردید ثبوت ہے، جسے جھٹلانا یا اس سے صرفِ نظر کرنا کسی طور بھی ممکن نہیں۔
یہاں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاک فضائیہ کو دیے جانے والے ہوائی جہاز یا تو پرواز کے قابل ہی نہیں تھے، یا بہت پرانے تھے۔ اثاثوں کی تقسیم میں ملنے والے طیارے آپریشنل موڈ میں نہیں تھے، اور وہ جدید فضائیہ کی طلب کو پورا نہیں کرسکتے تھے۔ ایسے نازک مرحلے پر ریاستِ سوات نے پاک فضائیہ کے لیے پہلا لڑاکا طیارہ خریدا۔ ریاستِ سوات کا عطیہ کیا گیا لڑاکا طیارہ پاکستان ایئر فورس کے حوصلے میں اضافہ کا باعث بنا، اور فضائیہ کو مطلوبہ مہارت فراہم کی۔
مذکورہ فیوری لڑاکا طیارے کی خریداری سے قبل میانگل عبد الودود (باچا صاحب) اور وزارتِ دفاع، حکومت پاکستان کے مابین ایک طویل اور باضابطہ خط و کتابت کا تبادلہ ہوا۔ یہ خط و کتابت فیوری ہوائی جہاز کی خریداری کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں ایک اہم خط اسکندر مرزا نے 13 مئی 1949ء کو سوات کے آخری والی میاں گل عبدالحق جہانزیب کو ارسال کیا تھا۔ اسکندر مرزا کے خط کے مندرجات کچھ یوں تھے:
1:۔ مجھے وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے ہدایت کی گئی ہے کہ آپ نے دو لاکھ روپیہ کی جو فرا خ دِلانہ پیشکش کی ہے، مَیں حکومت پاکستان کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کروں۔
2:۔ آپ کی پیشکش پر رائل پاکستان ایئرفورس کے ایئرکمانڈر نے غور و خوض کیا ہے اور انہوں نے 12000 پاؤنڈ کی لاگت سے لڑاکا طیارہ خریدنے کی سفارش کی ہے۔ وزارتِ دفاع نے ایئر کمانڈر کی سفارش کو منظور بھی کرلیا ہے۔
3:۔ جب یہ لڑاکا طیارہ ہمیں موصول ہوجائے، تو ہماری خواہش ہوگی کہ اسے اُس شخصیت کے نام سے موسوم کریں جس نے یہ طیارہ ہمیں عطیہ کیا ہو۔ سو مَیں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ اس طیارے پر کیا نام لکھا جائے؟
4:۔ مَیں یہ بھی آپ سے پوچھنا چاہونگا کہ آپ مجوزہ رقم حکومتِ پاکستان کے خزانے میں جمع کروانا چاہتے ہیں، یا لڑاکا طیارے کے موجودہ مالکان کو براہِ راست ادائیگی کرنا چاہتے ہیں؟
5:۔ مَیں اس بات کا اضافہ بھی کرنا چاہوں گا کہ محترم وزیر اعظم نے آپ کی اس جذبۂ حب الوطنی اور اسلام سے محبت کو بہت سراہا ہے، جس نے آپ کو یہ اقدام اٹھانے پر آمادہ کیا ہے۔
مذکورہ بالا غور و فکر اور خط و کتابت کے بعد لڑاکا طیارہ خریدا گیا۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ کراچی (اُس وقت کا پاکستانی دارلحکومت) میں اس طیارے کو حکومتِ پاکستان کے حوالے کرنے کی غرض سے باضابطہ شمولیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر رائل پاکستان ایئر فورس کا ایئر کمانڈر بھی موجود تھا۔ ایئر کمانڈر، رائل پاکستان ایئر فورس نے اپنی مختصر سی تقریر میں کہا: “محترم خواتین و حضرات، مَیں تقریب کے آغاز میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم آج یہاں بیگم لیاقت علی خان کی موجودگی پر خوش ہیں اور یہ بات بھی ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ انہوں نے اس تقریب کو سرانجام دینے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ ہم آپ کو اپنے درمیان پاکر بہت خوش ہو رہے ہیں۔ اس فائٹر طیارے کو اس کے عطیہ کرنے والی شخصیت کے نام سے موسوم کرنے سے قبل یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ ہاکر فیوری (لڑاکا طیارے کا نام) اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے، جس کی رو سے یہ طیارے رواں سال دوسرے ہاکر ٹمپسٹس (Hawker Tempests) کی جگہ لیں گے۔ کچھ وجوہات کی بنا پر میں اس نئے طیارے کی کارکردگی کا انکشاف کرنے سے قاصر ہوں۔ لیکن مَیں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ اپنے پیش رو طیاروں سے بہت بہتر ہے، اور اس طیارے نے لندن سے کراچی تک کا فاصلہ صرف پندرہ گھنٹے میں طے کیا ہے اور موجودہ ریکارڈ کو توڑ ڈالا ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ پہلا طیارہ سوات کے حکمران نے بڑی فیاضی کے ساتھ پاکستان کو پیش کیا ہے۔ ریاستِ سوات کے حکمران کو وزیراعظم لیاقت علی خان نے کہا تھا کہ وہ خود اس تقریب میں شرکت کریں اور اس طیارے کو نام دیں، لیکن طویل مسافت کی وجہ سے وہ کراچی آنے سے قاصر رہے۔ البتہ انہوں نے اس طیارے کو اپنے بیٹے “جہانزیب” کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بیگم لیاقت علی خان سے گذارش کی ہے کہ وہ اس تقریب کو سر انجام دیں۔”
ائیر کمانڈر کے خطاب کے بعد بیگم رانا لیاقت علی خان اپنی تقریر میں ریاستِ سوات کے حکمران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتی ہیں: “ایئر وائس مارشل اٹچرلی، رائل پاکستان ایئر فورس کے آفیسرز اور خواتین و حضرات! میرے لیے یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ آج صبح یہاں آکر ہاکر فیوری ایئر کرافٹ کو نام دینے کی پہلی تقریب میں شریک ہوں، جو کہ پاکستان پہنچ چکا ہے۔ یہ طیارہ سوات کے حکمران نے پاکستان کو دیا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں ہر شخص ان کے اس فراخ دلانہ تحفے پر ان کا انتہائی مشکور ہوگا۔ اس طیارے نے پہلے ہی پندرہ گھنٹوں کے ریکارڈ وقت میں لندن سے کراچی کے لیے اڑان بھر کر تاریخ رقم کی ہے۔ یہ سہرا جہاز کے پائلٹ کی پیشہ وارنہ مہارت اور جہاز کی پائیداری کے سر ہے۔ سوات کے حکمران نے درخواست کی ہے کہ اس طیارے کو ان کے بیٹے اور ولی عہد جہانزیب سے موسوم کیا جائے۔ میرے خیال میں یہ نام بہت مناسب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ہوائی جہاز ان دوسرے تمام ہوائی جہازوں کی طرح جو R.P.A.F کے استعمال میں ہیں، کبھی کسی کے خلاف جارحیت کے آلہ کے طور پر استعمال نہیں ہوگا، بلکہ وہ ہمیشہ پاکستان کے تحفظ اور دفاع میں حصہ لینے کی خاطر بروئے کار لایے جائیں گے۔ میری خواہش ہے کہ یہ طیارہ مستقبل میں کارآمد کیرئر کا حامل ہو۔ مَیں اس طیارے کو جہانزیب کا نام دینے میں خو شی محسوس کر رہی ہوں۔ جہانریب کے معنی ہیں “دنیا کو سجانے والا!”
میاں گل عبدالحق جہانزیب نے اپنی سوانح عمری میں بھی اس فیوری طیارے کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: “1947ء میں پاکستان کی تشکیل کے ساتھ ہی ہم فوراً اس ریاست میں شامل ہوگئے۔ مَیں اور میرے والد محب وطن تھے۔ ہم نے آزادی سے قبل مسلم لیگ اور آزادی کی جد و جہد میں تعاون کیا۔ اگرچہ کچھ پاکستانی عام طور پر اس کو “آزادی” کے بجائے “تقسیم” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ہندوؤں سے علیحدگی ہمارے لیے انگریزوں کو یہاں بے دخل کرنے سے کہیں زیادہ اہم تھی۔ ہم نے مسلم لیگ کی مدد، رقم کی شکل میں کی تھی، اور اس کے علاوہ سیدو بابا کے مریدوں پر بھی اثر و رسوخ استعمال کیا جو کہ پورے صوبے میں پھیلے ہوئے تھے۔ ہم تقسیم کے بعد جلد از جلد پاکستان میں شمولیت کی خواہش رکھتے ہیں، اور تقسیم کے بعد ہم نے اپنی فوج کشمیر بھیج دی۔ سپاہیوں کا ایک دستہ ہزار آدمیوں پر مشتمل ہوتا تھا اور ہر دوسرے مہینے بعد اس نفری کو تازہ دم دستے کے ذریعے تبدیل کر دیا جاتا تھا۔ ہم نے مہاجرین کے لیے قائم فنڈ کے علاوہ دفاع کے لیے بنائے گئے تمام پاکستانی فنڈز میں اپنا حصہ ڈالا۔ میرے والد نے پاکستان کے لیے ایک لڑاکا طیارہ بھی خریدا تھا، اور اسے میرے نام سے منسوب کیا تھا۔”
اس ہوائی لڑاکے کا شکریہ اس وقت کے وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان نے بھی ادا کیا تھا۔ وہ 19 جولائی 1951ء کو ریاستِ سوات کے حکمران کے نام لکھے گئے خط میں رقم کرتے ہیں: “مَیں آپ کے ٹیلیگرام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جس میں پاکستان کے دفاع کے لیے سوات ریاست کی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اپنی صفوں میں اتحاد اور آزادی کے دفاع کے لیے عزم کے ذریعے ہم ان شاء اللہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرسکیں گے۔”
مذکورہ فیوری لڑاکے کی مالیت پاکستانی کرنسی میں 125,000 روپیہ تھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جب سن 1948ء میں سونے کی فی تولہ قیمت 60 روپے سے کم تھی۔ کچھ ذرائع کے مطابق اس وقت سونے کی قیمت 56 روپیہ تھی، جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قیمت 57 روپیہ تھی۔ آج سونے کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ سو یہ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ سوات کی ایک چھوٹی سی ریاست کی طرف سے یہ ایک اچھی خاصی رقم تھی۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے