450 total views, 1 views today

غالباً یہ سنہ 1994ء یا 95ء کی بات ہے جب مَیں ساتویں یا آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ہمارے چھوٹے دادا (ہمارے دادا حاجی محمد المعروف بزوگر کے چھوٹے بھائی) احمد بابا (مرحوم) پشاور سے گرمیوں کی چھٹیوں میں سوات آئے تھے۔ وہ اسلامیہ کالج پشاور میں ایک بیرے کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ آج اُن کے بڑے صاحبزادے محمد ساجد ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے سیکڑوں طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے بابا نے مجھے ساتھ لیتے ہوئے کہا تھا، ’’چلو ’’کُمبڑ‘‘ چلتے ہیں۔‘‘ چوں کہ یہ نام میں پہلی بار سن رہا تھا، اس لیے میری بھنویں سکڑتی دیکھ کر بابا کہنے لگے، ’’یار عجیب آدمی ہو، سوات کے باسی ہوکر کُمبڑ کے بارے میں نہیں جانتے۔ یہ جس مقام کا نام آپ لوگوں نے ’’قضا گٹ‘‘ رکھا ہے، یہ ہمارے بچپن کا کُمبڑ ہے۔‘‘
قارئین کرام! دراصل بابا مجھے اپنے ساتھ’’فضا گٹ‘‘ لے جانا چاہتے تھے، جسے ہم اپنے بچپن میں ’’قضا گٹ‘‘ کہتے تھے۔ سوات میں ایسی کئی جگہیں ہیں، جن کے پرانے نام آج بھی جب سامنے آتے ہیں، تو دل مچل سا جاتا ہے۔ ان میں کئی نام ایسے ہیں جو تیس پینتیس سال قبل تبدیل کیے گئے ہیں جیسے ’’گل کدہ‘‘ جس کا اولین نام ’’بُت کڑہ‘‘ تھا۔ آئیے، آج کی نشست میں ایسے ہی ناموں کا ذکر کرتے ہیں۔ اگر تحریر میں املا کا تضاد محسوس ہو رہا ہو، تو اس کے لیے پیشگی معذرت، کیوں کہ استادِ محترم ڈاکٹر سلطانِ روم کے بقول: ’’تاریخی حوالہ جات کو من و عن تحریر کیا جاتا ہے، چاہے اس میں املا، گرامر یا رموزِ اوقاف کی غلطی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
ابتدا ڈاکٹر سلطانِ روم کی کتاب ’’ریاستِ سوات‘‘ سے کرتے ہیں، جس میں انہوں نے ’’سوات‘‘ کے پرانے ناموں کا مفصل ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد سوات کے اندر اُن جگہوں کا ذکر کریں گے جن کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنی کتاب ’’ریاستِ سوات‘‘ کے صفحہ نمبر 25 پر سوات کے ’’جغرافیائی اور تاریخی تناظر‘‘ کے حوالہ سے لکھتے ہیں: ’’اس سلسلہ میں مختلف نظریئے پیش کئے گئے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ یہ نام سواستو یا سواستوس سے ماخوذہے۔ یہ دونوں نام اس وادی میں سے گزرنے والے دریا کے لئے قدیم سنسکرت اور یونانی زبانوں میں باالترتیب استعمال ہوئے ہیں۔ ایک اور دعویٰ یہ ہے کہ اس نام کا ماخذ لفظ ’’سویٹا‘ ‘ ہے جو سفید کو کہتے ہیں۔ جس سے مراد دریائے سوات کا صاف و شفاف پانی ہے۔ ایک اور دعویٰ یہ کیاگیا ہے کہ پانی کی بُہتات کی وجہ سے اس وادی کا بیش تر میدانی علاقہ دلدلی ہونے کی وجہ سے چمک دار اور سفید نظر آتا تھا، اس لئے اُسے ’’سوُاَدَت‘‘کہا جاتا تھا جو ہوتے ہوتے سوات بن گیا۔‘‘
ڈاکٹر صاحب چوں کہ ثقہ محقق ہیں، اس لیے انہوں نے اس حوالہ سے مفصل روشنی ڈالی ہے۔ ہم مذکورہ تفصیلی بحث سے ایک اور پیراگراف یہاں نقل کرتے ہیں، جس کے بعد اپنے اصل مقصد کو بیان کرنے واپس آئیں گے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:’’ ایک اور خیال یہ ہے کہ یہ لفظ عربی لفظ ’ ’صوت‘‘سے مشتق ہے جس کے معنی آواز اور گونج کے ہیں۔ چونکہ یہاں گرد و پیش کے اونچے پہاڑوں سے ٹکراکے آوازیں گونج کی شکل میں لوٹتی ہیں، اس لئے اسے یہ نام دیا گیا ہے۔ اس خیال کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اُن دیہاتوں میں جو دریا کے کنارے واقع ہیں، دریا کے پانی کی آواز رات کو مسلسل سنائی دیتی ہے، باالخصوص موسمِ بہار اور گرما میں جب پانی چڑھتا ہے۔ چاہے اس کی بنیاد کچھ بھی ہو ریاست کے وجود میں آنے سے پہلے اور بعد کی مقامی تحریروں میں اس کا نام ’’صوات‘‘ ہی لکھا جاتا رہا ہے۔ بہر حال حقیقت یہ ہے کہ سوات پر حملہ کرنے والے مسلمان عرب نہیں تھے، اور نہ ہی اُن کی زبان عربی تھی۔ ان کا تعلق افغانستان سے تھا اور ان کی اپنی اپنی زبانیں تھیں۔ اس لئے اس بات کا امکان نہیں کہ انہوں نے اپنی مفتوحہ سرزمین کو ایک عربی نام دے دیا ہوجب کہ نہ تو انہیں عربی زبان پر کوئی عبور حاصل تھا اور نہ ہی وہ اُسے اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے تھے۔ اس نام کا عربی الفاظ ’ ’صوت‘‘ اور ’’اسود‘‘سے اشتقاق کا خیال بہت بعد میں پیش کیا گیا۔‘‘
آگے ڈاکٹر صاحب ایک اور حوالہ دیتے ہوئے رقم کرتے ہیں: ’’زمانۂ قدیم کے ماخذ میں اس جگہ کے نام املا کے کچھ فرق کے ساتھ ’’ادھیانہ‘ ‘اور ’’سواستو‘‘ ملتے ہیں۔ پہلے میں اس وادی کے قدرتی حسن کی طرف اشارہ ہے جبکہ دوسرے میں یہاں بہنے والے دریا کا حوالہ ہے۔ مزید برآں ویدوں اور پانینی نے جہاں ’’سواستو‘‘ کا ذکر کیا ہے تو وہاں اُس سے مراد رہنے کی اچھی جگہیں ہیں۔ ہیون سانگ نے دریائے سوات کو سو۔پو۔فا۔سو۔تو، جوکہ دراصل سبھاواستو ہے۔ یعنی آج کا دریائے سوات جسے اریان نے سوستوس کا نام دیا۔ سیموئل بیل نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ اسے ایک باغ کی شکل رکھنے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے ۔ڈاکٹر عبدالرحمان نے البتہ اپنی ایک تازہ تحقیق میں یہ نقطۂ نظر اپنایا ہے کہ’’ اوڈیز گندھارا میں ایک حکمران قبیلہ کانام ہے۔ ان کا عہد چارسو قبلِ مسیح ہے جب کہ سکندر اعظم کے مؤرخین نے ’’اورا‘‘ کے نام سے ان کا پہلی بار ذکر کیا ہے۔ سٹائن نے اُس کی سوات کے اوڈیگرام کے ساتھ بالکل ٹھیک شناخت کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اوڈیز اتنے طاقتور تھے کہ اس پورے علاقہ کو اُن کے نام پر ’’ادھیانہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔‘‘
اب آتے ہیں سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کی طرف جسے استادِ محترم فضل ربی راہیؔ اپنی کتاب ’’سوات سیاحوں کی جنت‘‘ میں ’’منگورہ‘‘ رقم کرتے ہیں۔ مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 54 اور 55 پر راہیؔ صاحب رقم کرتے ہیں:’’منگورہ کا قدیم نام’’ منگ چلی‘‘ ہے جس کا کوئی واضح اور متعین مفہوم معلوم نہیں، تاہم اس نام کا ذکر پہلی دفعہ چین کے بُدھ مذہب کے مقدس زائر ہیون سانگ، فاہیان اور سنگ یون نے اپنے سفر ناموں میں کیا ہے۔ ان سیاحوں کی آمد کا سلسلہ 403ء میں شروع ہوا تھا جنھوں نے بعد میں اپنے مشاہدات، سفرناموں کی شکل میں قلم بند کئے تھے۔ قدیم زمانے میں سوات بدھ مذہب کا مقدس مرکز رہا ہے۔ یہیں سے یہ مذہب چین، تبت اور بھوٹان وغیرہ کی طرف پھیل گیا تھا۔ اس لئے ان ممالک بالخصوص چین کے بُدھ زائرین سوات میں بدھ مت کے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے بہت بڑی تعداد میں آتے تھے۔ علاوہ ازیں مشہور محقق اور مستشرق میجر راورٹی نے منگورہ کا ذکر اپنی تحریروں میں ’’منگوڑا‘‘ اور’’ منگراوڑہ‘‘ کے ناموں سے بھی کیا ہے۔ چناں چہ بعد میں یہ نام ہوتے ہوتے’’ منگورہ‘‘ کے روپ میں ڈھل گیا۔‘‘
مینگورہ کے نواح میں امانکوٹ واقع ہے جس کا پرانا نام ’’کاٹیلئی‘‘ تھا۔ یہ نام مَیں نے اپنی دادی مرحومہ سے سنا تھا۔ وہ اپنی ہم عمر سہیلی کو ’’کاٹیلئی بی بی‘‘ جو وقت کے ساتھ بگڑ کر ’’کاٹیلئی بی‘‘ پڑگیا، پکارا کرتیں۔ جواباً ’’مرحومہ‘‘ میری دادی کو ’’فتح پور بی‘‘ پکارتیں۔ کیوں کہ میری دادی مرحومہ ’’شین فتح پور‘‘ سے بیاہی گئی تھیں۔ ہمارے محلہ (امان اللہ خان، مینگورہ) میں ایک مرحومہ ’’بانڈئی بی‘‘ بھی تھی، جس نے سو سال کی لمبی عمر پائی تھی۔ وہ چودہ سال کے بالغ لڑکے سے بھی پردہ کرتی تھی۔
اس طرح غالباً مَیں نے اپنی دادی سے سنا تھا کہ فتح پور (بر سوات) کا پرانا نام ’’پیتئی‘‘ تھا۔
کاٹیلئی کے حوالہ سے فیاض ظفرؔ صاحب کہتے ہیں: ’’کاٹیلئی دو برابر حصوں میں تقسیم ایک جگہ تھی، یعنی ’’عامہ کاٹیلئی‘‘ اور ’’خرو کاٹیلئی۔‘‘ عامہ کاٹیلئی میں لوگ رہائش پذیر تھے، جب کہ خرو کاٹیلئی ایک غیر آباد جگہ تھی، اس لیے یہاں مال مویشی بطورِ خاص گدھے چرا کرتے۔‘‘
اس طرح گل کدہ کا پرانا نام بُت کڑہ تھا، جس کا ذکر راہیؔ صاحب نے اپنی کتاب ’’سوات سیاحوں کی جنت‘‘ میں بھی کیا ہے۔ جتنا مجھے یاد پڑتا ہے۔ سنہ 1995ء تک گل کدہ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ میرے ناناجی ہیڈ ماسٹر (ر) حاجی غلام احد میرخیل نے بچپن میں ہمیں بتایا تھا کہ اول اول بُت کڑہ کا نام ’’بُت کدہ‘‘ تھا۔ چوں کہ یہاں اب بھی بدھ مت اور ہندوشاہی دور کے آثار پائے جاتے ہیں، اس لیے اس جگہ کا نام ’’بُت کدہ‘‘ یا ’’بُت کڑہ‘‘ پڑ گیا تھا۔ مگر ڈاکٹر سلطانِ روم کا مؤقف نانا جی سے مختلف ہے۔ کہتے ہیں: ’’اٹالین آرکیالوجیکل مشن نے 1958ء میں جو رپورٹ یہاں موجود آثارِ قدیمہ کے حوالہ سے مرتب کی ہے، اس میں ’’بُت کڑہ‘‘ نام درج ہے۔‘‘ آج اس کا نام ’’گل کدہ ‘‘ رکھا گیا ہے جہاں ڈھونڈے سے بھی پھول نظر نہیں آتے۔
سلام پور اور اسلام پور کا قضیہ آج تک حل نہیں ہوپایا۔ ہم نے اول اول جب وہاں کے رہائشی حاضر گل کے سامنے غلطی سے اس جگہ کا نام ’’اسلام پور‘‘ پکارا تھا، تو انہوں نے برہم ہوکر ہماری تصحیح فرماتے ہوئے کہا تھا، ’’بھئی، ہمارے علاقہ کا نام نہ بگاڑیں۔‘‘ یہ الگ بات ہے کہ سرکاری دستاویزات میں ’’سلام پور‘‘ کی جگہ ’’اسلام پور‘‘ لکھا گیا ہے۔ ککڑئی کے دوراہے پر کھڑے ہوکر جو بورڈ آپ کی راہنمائی کرتا ہے، اس پر بھی ’’سلام پور‘‘ نہیں بلکہ ’’اسلام پور‘‘ ہی لکھا ہے۔ ڈاکٹر سلطانِ روم صاحب اس تابوت میں آخری کیل ٹھونکتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’1858ء میں میجر راورٹی نے ایک قندہاری کو یہاں بھیجا تھا۔ اس نے اپنی رپورٹ میں اس جگہ کا نام ’’اسلام پور‘‘ لکھا تھا، نہ کہ سلام پور۔‘‘
یہی مسئلہ ’’مام ڈھیرئی‘‘ اور ’’امام ڈھیرئی‘‘ کا ہے۔ جسے ملا فضل اللہ اپنے دور میں ’’ایمان ڈھیرئی‘‘ رائج کرنے میں کلی طور پر ناکام رہے۔ ڈاکٹر سلطانِ روم صاحب کے مطابق اسے ’’امام ڈھیرئی‘‘ کہنا چاہیے۔ ’’ریونیو ریکارڈ 1980ء کے مطابق اس علاقہ کا نام ’’امام ڈھیرئی‘‘ ہے نہ کہ ’’مام ڈھیرئی۔‘‘
اس سے ملتا جلتا نام شاہ ڈھیرئی (تحصیلِ کبل) ہے جس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ اس کا پرانا نام ’’چاچو ڈھیرئی‘‘ تھا۔
گاڈی اور ڈاگی کے درمیان ایک چھوٹا سا گاؤں ’’شریف آباد‘‘ کے نام سے آباد ہے، جس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اس کا پرانا نام ’’سخَرے‘‘ (’’س‘‘ ساکن، ’’خ‘‘ متحرک، ’’ر‘‘ متحرک اور ’’ے‘‘ ساکن)۔
سپل بانڈئی کے حوالہ سے ہمارے رفیقِ کار مولوی لطیف اللہ کہتے ہیں کہ اس کا پرانا نام ’’اسلام بانڈئی‘‘ تھا۔
سیدو شریف سے ملحقہ علاقہ عقبیٰ (جسے مقامی اخبارات ’’عقبہ‘‘ اور ’’عقبا‘‘ بھی رقم کرتے ہیں) کا پرانا نام ’’بڑینگل‘‘ تھا۔ اس حوالہ سے محترم فیاض ظفر کہتے ہیں کہ بڑینگل صرف علاقہ میں موجود پہاڑی کا نام تھا۔ ڈاکٹر سلطانِ روم سے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے 1939ء میں لکھی گئی تاریخ کی مشہور کتاب ’’تاریخِ ریاستِ سوات‘‘ (پشتو) از عبدالغفور قاسمی میں دی گئی ایک تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’کتاب میں بادشاہ صاحب کے محل کی ایک تصویر دی گئی ہے جس کا کیپشن کچھ یوں ہے : ’’شاہی عمارات بڑینگل کا منظرِ عمومی۔‘‘ بڑینگل کے حوالہ سے ڈاکٹر صاحب کا مزید کہنا تھا: ’’کانجو کے انعام الرحمان اور اکرام الرحمان کے والد آج بھی ’’بڑینگل قاضی صیب‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔‘‘
دیگر علاقوں میں مینگورہ کے ساتھ ملحقہ علاقہ ’’رحیم آباد‘‘ کا پرانا نام ’’سَرکنئی‘‘ تھا۔ اس طرح ’’کبل‘‘ کا ’’چیندا خورہ‘‘، ’’گل جبہ‘‘ کا ’’غم جبہ‘‘، ’’مرغزار‘‘ کا ’’مینہ‘‘ (م، ے، ن، ہ)، ’’چتوڑ‘‘ کا ’’پُل کلے‘‘، ’’بریکوٹ‘‘ کا ’’بازیرہ‘‘، ’’مٹہ‘‘ کا ’’توتکے‘‘، ’’مدین‘‘ کا ’’چُرڑئی‘‘ اور ’’بحرین‘‘ کا ’’برانیال تھا۔
………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے