492 total views, 1 views today

جب کبھی سوات کے حوالے سے کوئی نئی کتاب یا کوئی اور تحریر راقم کے سامنے آتی ہے، تو وہ ایسی خوشی اور اطمینان کا باعث بنتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اس قسم کی نئی اور آنکھوں سے اُوجھل تحریریں اگر ایک طرف تاریخ کے حوالے سے پیاس کو بجھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، تو دوسری طرف اس تجسس میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے کہ کسی طرح مصنف کی ذاتی زندگی کے متعلق مستند معلومات حاصل کی جائیں۔ ان مصنفین کے بارے میں قابل بھروسا معلومات تک رسائی بلاشبہ ایک کٹھن مرحلہ ہوتی ہے۔ یہ مشکل اس لیے پیش آتی ہے کہ سوات کی تاریخ پر ایسی ڈھیر ساری شخصیات کی تحریریں بھی موجود ہیں جو سوات کے نہ تو رہائشی رہے ہیں اور نہ اُن کا سوات سے کوئی براہِ راست نسبت ہی رہا ہے۔ یہ فہرست بہت لمبی ہے اور اس میں نہ صرف ملکی ؍ پاکستانی حضرات شامل ہیں بلکہ متعدد ایسے بھی ہیں جو کہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی تناظر میں راقم ارادہ رکھتا ہے کہ سوات پر ماضی میں جتنی بھی قابلِ ذکر شخصیات نے لکھا ہے، اُن کے بارے میں معلومات اکٹھی کروں اور پھر گاہے گاہے پڑھنے والوں کے سامنے پیش کرتا رہوں۔ اس نوع کی تحریریں ان شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔
ایسی ہی قابل ذکر شخصیات میں ایک نام ’’محمد اسماعیل ذبیح‘‘ صاحب کا ہے۔ محمد اسماعیل ذبیح صاحب سوات کے باسی نہیں تھے، لیکن سوات کے حوالے سے ایک مختصر مگر جامع کتاب کے خالق ضرور ہیں۔ یہ کتاب سن 1954ء کو ’’مناظرِ سوات’’ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب 69 صفحات پر مشتمل تھی، اور اس کی ایک خوبی یہ تھی کہ یہ تاریخی تصاویر سے بھی مزین تھی۔ علاوہ ازیں ’’مناظرِ سوات‘‘ انگریزی زبان میں بھی شائع ہوئی اور “Glimpses of Swat” کے نام سے شہرت پائی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ کتاب اُس وقت محض تین روپے اور آٹھ آنے کے عوض خریدی جاسکتی تھی۔




محمد اسماعیل ذبیح کی لکھی گئی تاریخی کتاب “مناظرِ سوات” کا ٹائٹل۔

محمد اسماعیل ذبیح صاحب کی سوات آمد کے بارے میں لکھنے سے پہلے اُن کا مختصر تعارف اور اُن کے کارہائے نمایاں پر مختصراً لکھنا چاہوں گا۔ ذبیح صاحب کی ولادت سن 1913ء کو متحدہ ہندوستان کے شہر گوالیار میں ہوئی، لیکن وہ کانپور میں پلے بڑھے۔ انہوں نے ’’جامعہ الہیات‘‘ کانپور، دارالعلوم دیوبند اور جامعہ ملی دہلی سے تعلیم حاصل کی۔ ان کے والدِ بزرگوار مولانا غلام یحییٰ ہزاروی بھی ایک بہت بڑے عالمِ دین تھے، اور مولانا اشرف تھانوی کے بعد جامعہ الہیات کے منتظم مقرر ہوئے۔
محمد اسماعیل ذبیح کم عمری ہی میں سیاست کی طرف راغب ہوئے، اور متحدہ ہندوستان میں جاری ’’سول نافرمانی تحریک‘‘ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ ’’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘‘ میں بھی خاصے سرگرم رہے۔ لکھنے لکھانے کی طرف اُن کا رجحان بچپن ہی سے تھا۔ انہوں نے مذہبی موضوعات کے علاوہ سفرنامے کی صنف میں بھی طبع آزمائی کی۔ تاریخ میں بھی اُن کی دلچسپی رہی اور فارسی زبان کی کلاسیکی کتاب ’’مرقع دہلی از نواب درگاہ علی خان، وزیراعظم دکن‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ صحافتی زندگی کا آغاز انہوں نے بمبئی شہر سے کیا اور ’’بمبئی پنچ ‘‘ (Bombay Punch) کے نام سے ایک جریدہ نکالا جو کہ طنز و مِزاح کی تحریروں پر مبنی ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں انہوں نے کانپور سے ایک اور ماہانہ میگزین ’’عارف‘‘ بھی شائع کروایا۔ وہ ہندوستان کے صحافتی اور سیاسی اُفق پر تب چمکے، جب انہوں نے سن 1931ء میں کانپور فسادات پر ایک تاریخی رپورٹ لکھی۔ یہ رپورٹ ’’کانپور رائٹس‘‘ (Kanpur Riots) کے عنوان سے شائع ہوئی، اور بہت جلد ایک ایسی مستند تاریخی حوالے کی حیثیت حاصل کی، جس کا ذکر تواتر کے ساتھ ہوتا رہا۔
محمد اسماعیل ذبیح کی قربت آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ مجلسِ احرار سے بھی تھی۔ وہ سن 1938ء میں مجلسِ احرار کے پبلسٹی سیکرٹری بھی رہے، اور جب مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کو گرفتار کیا گیا، تو وہ احرار کے عارضی صدر کے طور پر فرائض سرانجام دینے لگے۔
محمد اسماعیل ذبیح صاحب کے اس مختصر سے تعارف کے بعد اب اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں، جو کہ ذبیح صاحب کے والیِ سوات سے قریبی تعلق، اُن کی سوات آمد اور پھر سوات سے رخصت ہونے کے متعلق ہے۔ اسی تناظر میں راقم نے ایک مختصر سوالنامہ محمد اسماعیل ذبیح صاحب کے فرزند ضیاء الرحمان ذبیح کو ارسال کیا۔ یہ سوالنامہ کچھ بنیادی قسم کے سوالات پر مشتمل تھا۔ ضیاء الرحمان صاحب کے پرسنل سٹاف آفیسر عبدالستار صاحب نے اگلے دن کال کرکے اطلاع دی کہ ای میل (email)کے ذریعے آپ کو ایک تفصیلی جواب نامہ ارسال کیا گیا ہے۔ مذکورہ ای میل جو کہ 25 نومبر 2019ء کو موصول ہوئی، کا اردو ترجمہ قارئین کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ یہ ای میل خود وضاحتی (self explanatory) ہے اور ضروری معلومات فراہم کرتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’محترم جلال الدین یوسف زئی صاحب! مولانا محمد اسماعیل ذبیح صاحب، قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے قریبی رفقائے کار میں سے تھے۔ ان کی صحافتی اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان نے ان کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ایک روزنامے؍ سرگذشت (Chronicle) کا اجرا کریں۔ ان شخصیات کی خواہشات کی تکمیل کرتے ہوئے انہوں نے کراچی سے ’’روزنامہ خورشید‘‘ کا آغاز کیا اور پھر انگریزی زبان کے پہلے کرانیکل “Voice of Sindh” بھی شائع کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ چوں کہ وہ پاکستان بننے کے بعد ایک نامی گرامی شخصیت گردانے جاتے تھے، لہٰذا ایک ملاقات میں والیِ سوات میاں گل عبدالحق جہانزیب نے انہیں ریاستِ سوات آنے کی دعوت دی۔ والیِ سوات کی دعوت کو انہوں نے قبول کیا اور وہ بالترتیب 1950ء اور 1951ء کو سوات تشریف لائے۔ رفتہ رفتہ تعلق مضبوط ہوتا گیا اور علم دوست والی نے انہیں سوات میں مستقل رہائش کی پیشکش کر دی۔ یہ بتاتا چلوں کہ اسماعیل ذبیح صاحب ایبٹ آباد کے مضافات سے تعلق رکھتے تھے۔ والیِ سوات کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے انہوں نے کراچی اور حیدر آباد میں اپنے کاروبار کو بھی سمیٹ لیا۔ سوات میں ان کا استقبال گرمجوشی سے کیا گیا اور جہانزیب کالج کے قریب انہیں بہترین رہائشی سہولیات فراہم کی گئیں۔ سوات میں محمد اسماعیل ذبیح کا قیام تقریباً دو سال (1953-54) پر محیط رہا۔اس دوران ہماری ضرب المثل مہمان نوازی (Proverbial Hospitality) کی گئی اور انتہائی درجے کا احترام دیا گیا۔ ذبیح صاحب ہمیشہ والی سوات کا ذکر بہت عقیدت کے ساتھ کرتے تھے۔ وہ والیِ سوات کی عجز و انکساری، انصاف پسندی، غیر معمولی انتظامی قابلیت اور ریاست کے شہریوں کے ساتھ محبت کو بہت سراہتے تھے۔ وہ اُن کی تعلیمی ترجیحات اور سواتیوں کو تعلیمی میدان میں آگے لانے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ اکثر والیِ سوات کی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کوششوں کا ذکر کرتے تھے کہ کس طرح وہ خواتین کو اُن کا جائز مقام دلوانے کے خواہاں ہیں۔ والیِ سوات ذبیح صاحب کے مشوروں کو بہت غور سے سنتے تھے اور اُنہیں سراہتے تھے۔ چوں کہ ذبیح صاحب کے کاروبار کا بڑا حصہ پشاور میں قائم تھا اور وہ اُسے بھی توجہ دینا چاہتے تھے، تو اسی وجہ سے انہوں نے پشاور منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اُن کا یہ فیصلہ والی صاحب کو پسند نہ آیا۔ کیوں کہ وہ چاہتے تھے کہ ذبیح صاحب سوات کو اپنا ٹھکانہ بنالیں اور ہمیشہ کے لیے یہیں کے ہو کر رہ جائیں، لیکن بادلِ نخواستہ اُنہیں ذبیح صاحب کی بات ماننا پڑی، اور وہ سوات سے پشاور منتقل ہوگئے۔ ’’مناظرِ سوات‘‘ نامی کتاب ذبیح صاحب کی سوات، سواتیوں اور والی کے ساتھ لگاؤ کا ایک ایسا ثبوت ہے کہ جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ بدقسمتی سے میرے ساتھ دونوں شخصیات کی اکٹھی لینے والی تصاویر نہیں ہیں۔ کیوں کہ ہماری رہائش گاہیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ علاوہ ازیں اسلام آباد میں زیادہ بارشوں کی وجہ سے ہمارے گھر میں پانی زیادہ مقدار میں داخل ہوا تھا جس کی وجہ سے ذبیح صاحب کی لائبریری کا بیش قیمت مواد پانی کے نذر ہوگیا تھا۔ یہ ایک ایسا نقصان تھا جس کی تلافی کبھی بھی نہیں ہوسکتی۔ والیِ سوات کی شخصیت پر میرے والد محترم نے ایک قلمی خاکہ بھی لکھا تھا۔ اُردو زبان میں لکھی گئی اس تحریر کا عنوان ’’والی سوات کی قلمی تصویر‘‘ تھا۔ یہ قلمی خاکہ اب میاں گل اورنگزیب کے بیٹے میاں گل عدنان اورنگزیب کے پاس محفوظ ہے۔ اگر آپ چاہیں، تو میاں گل عدنان اورنگزیب سے اس سلسلے میں مل سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ قلمی خاکہ آپ کے لیے باعث دلچسپی ہوگا۔ ای میل کے آخر میں یہ ذکر کرنا چاہوں گا کہ مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ آپ نے اس موضوع پر مجھ سے رابطہ کیا۔‘‘
کالم کے آخر میں یہ بتاتا چلوں کہ محمد اسماعیل ذبیح کی دیگر تصانیف میں ’’ہم ایک قوم ہیں‘‘، ’’قرآن کریم کے انقلابی فیصلے‘‘، ’’اسلام آباد کیسے بنا‘‘، ’’اسلام آباد تاریخ، تعمیر اور شمالی علاقے‘‘، ’’1954ء اور 1956ء کے آئینوں کا تجزیہ اور ’’نئی قوم، نئی حکومت، نئے فرائض‘‘ شامل ہیں۔
ذبیح صاحب 27 ستمبر 2001ء کو وفات پائے۔ سوگوران میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ محمد اسماعیل ذبیح صاحب کی مغفرت فرمائے۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے