38 total views, 1 views today

1923ء سے پہلے وادئی چغرزئی بشمول بونیر، آزاد قبائلی دور کا حصہ رہی ہے۔ اس دور میں لوگ کسی ضابطے اور آئین کے روادار نہیں تھے۔ معاشرہ دو مختلف دھڑوں میں تقسیم تھا۔ ہر دھڑے کے لوگوں کا حاکم اور حکمران، ان کے گاؤں کا طاقتور خان اور ملک ہوتا تھا۔ البتہ عام لوگوں اور امرا میں وعدے کی پابندی، بلا کی مہمان نوازی اور شجاعت و دلیری اور راست گوئی کے اوصاف ضرور تھے۔ موجودہ دور میں بھی اس باوقار اور وفا شعار مٹی نے اپنے وہ اوصاف اور اقدار برقرار رکھی ہیں۔ 1917ء میں ریاستِ سوات، طویل جد و جہد اور اتار چڑھاؤ کے بعد معرضِ وجود میں آئی۔ سربراہِ ریاست نے عنانِ سلطنت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلی توجہ اپنی سرحدات کے تحفظ اور حدودِ سلطنت بڑھانے کی طرف دی۔ اس کے لیے اس نے کافی غور و خوض کے بعد ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے، مختلف علاقوں میں اپنے ہم نوا گروپوں کی تشکیل کے لیے دوڑ دھوپ کا آغاز کیا اور بہت ہی قلیل عرصہ میں وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ہر علاقے سے مضبوط اور خاندانی لحاظ سے طاقتور ٹولہ آپ کے ہاتھ آیا۔ اس طرح سربراہِ ریاست کی لشکری قوت اور قیادت میں ناقابلِ یقین حد تک اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس اسے معاشرے کے اس مضبوط دھڑے سے نبردآزما بھی ہونا پڑا، جو تینول کے دست و بازو بن کر کسی قدر ریاستی طوق کو گلے میں ڈالنے کے لیے تیار نہ تھے، لیکن رفتہ رفتہ ریاستی لشکری قوت اور بے پناہ مقبولیت کے سامنے تینول کو آخر میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا گیا۔
جب ریاستِ سوات کے حکمران کی لشکری قوت اور جنگی طاقت کا گراف بڑھتا گیا۔ تب اسے پتا چلا کہ حالات اس کی کامیابی کے لیے ساز گار ہیں، اور اب وہ پوری قوت سے نواب آمب کی طاقت کو پارہ پارہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تو آپ نے مختلف علاقوں کی طرف لشکر روانہ کیے اور باری باری بونیر علاقہ خدوخیل، کانا، غوربند اور کوہستان تک کے علاقوں پر اپنا تسلط جما کر ریاست کے دائرہ اختیار میں شامل کردیا۔ چغرزئی بہت وسیع اور بھاری زمینی رقبہ رکھنے والی وادی ہے، جو بہ یک وقت تین اضلاع کے طول وعرض پر پھیلی ہوئی ہے۔
1923ء کے دوران میں میاں گل عبدالودود نے نہ صرف پوری وادئی بونیر و چملہ کو قبضہ کیا بلکہ عملی طور پر سوات اور بونیر کے قبیلوں نے سوات اور دریائے سندھ کے درمیان تمام علاقے کو فتح کیا۔ اس فتح کی خوشی میں باچا صاحب نے آٹھ فروری 1923ء کو ایک بڑے جشن کا اہتمام کیا۔ اپنی فوج کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کے حوصلے بڑھائے۔ انہیں انعامات سے نوازا اور جنگ میں حصہ لینے والے پانچ میجروں کو کمان آفیسر کے عہدہ پر ترقی دی اور دوسرے نو کو میجروں کے عہدوں سے سرفراز کیاگیا۔
دسمبر1923ء میں میاں گل عبدالودود نے مارتونگ جو بسی خیل اور نصرت خیل قبیلوں نے قبضہ کیا تھا، پر لشکر کشی کرکے دوبارہ قبضہ کیا اور دریائے سندھ تک کے کناروں تک ملک کو روند ڈلا۔ سوات بونیر، علاقہ خدوخیل اور چغرزئی علاقے کے انتظامی امور کی انجام دہی اور دفاعی استحکام کی خاطر جہاں مناسب اور ضروری سمجھا، قلعوں، تحصیلوں اور پولیس چو کیوں کی تعمیر عمل میں لائی گئی اور وہاں ریاست کی مشنری نے اپنا کام شروع کیا۔
ٓ اس مقصد کے لیے آپ نے سب سے پہلے ریاستی انتظامی ڈھانچے کو چند حصوں میں تقسیم کیا۔ چار ہزار مربع میل اور سات لاکھ آبادی کو انتظامی لحاظ سے تین بڑے حصوں سوات، بونیر اور کوہستان میں تقسیم کیا اور انہیں مزید تینتیس تحصیلوں میں تقسیم کرکے ان پر دس حاکم مقرر کیے۔ ریاست میں حکیمی کے مقامات بریکوٹ، بابوزئی، کبل، مٹہ، خوازہ خیلہ، بحرین، چکیسر، پٹن، ڈگر اور طوطالئی خدوخیل قرار پائے گئے۔
موضع ڈگر کو ضلع بونیر کے دارالخلافہ کا مقام ملا اور یہ پوری ریاست کی ذیلی تحصیل کی حیثیت سے پہچانا جانے لگا۔ زمینی وسعت کے پیشِ نظر انتظامی اور عدالتی امور کی آسانی سے سنبھالنے کے لیے ڈگر اور طوطالئی کو حکیمی کے مقامات مقرر کیا گیا۔
ریاستِ سوات میں جہاں دوسرے علاقوں میں تحصیلوں، پولیس چوکیوں اور قلعہ جات کی تعمیر کی گئی تھی۔ وہاں چغرزئی میں بھی مختلف مقامات پر قلعہ جات اور چوکیاں قائم کی گئیں۔ مرادو ہائی اسکول سے ملحقہ ریاست کا قلعہ تھا، جو اونچائی پر واقع ہونے کی وجہ سے ’’سر قلعہ‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ ’’میرہ گئی‘‘ میں تھانہ کی تعمیر کی گئی تھی، جو بنج تھانہ کے نام سے مشہور تھا۔ ’’بانگیڑے‘‘ اور ’’بدال‘‘ کے مقام پر ریاستی چوکیاں قائم تھیں۔ ’’گلبانڈئی‘‘ کے مقام پر تحصیل کی تعمیر کی گئی تھی، اور اسے پورے چغرزئی کی سطح پر ہیڈ کوارٹر کی حیثیت حاصل تھی۔
1969ء تک ضلع بونیر، ریاستِ سوات کا مضبوط بازو رہا۔ اٹھائیس جولائی 1969ء میں ریاست سوات کا ادغام پاکستان میں ہوا اور اسے حکومت پاکستان نے ایک ضلع کی حیثیت دی۔ ضلع بونیر، ضلع سوات کا سب ڈویژن رہا اور اس طرح علاقہ چغرزئی کو بونیر سب ڈویژن کی ذیلی تحصیل قرار دے دیا گیا۔
…………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے