111 total views, 1 views today

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہے، تو اخبار نکالو
اکبر الہ آبادی کے اس شعر سے اخبار کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اخبار کی اہمیت کے بارے میں نپولین کا یہ قول بھی قابلِ ذکر ہے: ’’ہزار سنگینوں سے زیادہ چار مخالف اخباروں سے ڈرنا چاہیے۔‘‘ سوات کے پہلے اخبار کے بارے میں لکھنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اخبار نویسی کے ارتقا کا سر سری جائزہ لیا جائے۔
اخبار کی تاریخ انسان کی بیشتر ایجادوں کی طرح کافی پرانی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی 751 برس پہلے رومن راج میں روزانہ ایک خبرنامہ جاری کیا جاتا تھا، جس میں سرکاری اطلاعات اور میدانِ جنگ کی خبریں ہوتی تھیں۔ اس قلمی خبرنامے کو ’’اکٹا ڈیو رینا‘‘ کہتے تھے۔ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جو “Acta” اور “Diurna” سے مرکب ہے۔ اول الذکر کے معنی ہیں کارروائی اور مؤخر الذکر کے معنی روزانہ کے ہیں۔ یہ ایک قلمی اخبار ہوتا تھا۔ پہلا مطبوعہ خبرنامہ 1609ء میں جرمن سے جاری کیا گیا۔ اس کا نام “Avisa Relation Oderzeitung” تھا۔ اس کے دوسال بعد اس طرح کا ایک چھپا ہوا خبرنامہ انگلستان میں پہلے پہل 1611ء میں “News from Spain” کے نام سے شائع ہوتا رہا۔ پہلا باضابطہ اخبار انگریزی زبان میں 1620ء میں شائع ہوا۔ اس کا نام “Weekly News” تھا۔ اس کا ایڈیٹر “Nathaniel Buttler”تھا۔ 1631ء میں فرانس سے “Gazzette de France” کے نام سے اخبار جاری ہوا۔ امریکہ کا پہلا اخبار “Public Occurances” تھا، جس کا 1690ء میں بوسٹن سے اجرا ہوا۔ ملکۂ الزبتھ کے عہد میں (انگلستان میں وہی زمانہ تھا جو ہندوستان میں اکبر کا تھا) اخبار نویس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اور اسی کے عہد میں اخباروں کی آزادی کے حق کو 1641ء میں قانوناً تسلیم کیا گیا۔ انگلستان میں اخباروں کی آزادی کے حق کو قانوناً تسلیم کیے جانے کے بعد بھی اخباروں کی ترقی کی راہ میں دشواریاں پیدا ہوئیں۔ چناں چہ سترہویں اور اٹھارویں صدی میں برطانوی اخبار نویسی کے ارتقا کی رفتار سست رہی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ پارلیمنٹ اور کلیسا دونوں، اخباروں کی آزادی کی رفتار کو معاندانہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ فرانس جہاں پہلا اخبار 1631ء میں شائع ہوا تھا، وہاں بھی دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح اخبار نویسی پر شدید پابندی عائد تھی۔ 1789ء میں جب فرانس میں انقلاب آیا، تو عوام کو اخباروں میں لکھنے اور تقریروں کی پوری آزادی دی گئی۔ مغرب میں صحافتی ارتقا سے برصغیر پاک و ہند میں بھی اخبارات شروع ہوئے۔ انگریزوں کی سرپرستی میں کلکتہ سے 1822ء میں پہلا اردو ہفت روزہ اخبار ’’جامِ جہاں نما‘‘ کے نام سے نکالا گیا۔ ایڈیٹر کا نام منشی ’’سدا سکھ‘‘ تھا۔ اسی سال کلکتہ سے پہلا فارسی اخبار ’’مرأۃ الاخبار‘‘ کے نام سے نکلا۔ اس کے بانی اور مدیر ’’راجہ رام موہن رائے‘‘ تھے۔
سوات سے سب سے پہلے جو اخبار نکلتا تھا، اکثر مؤرخین نے اس کا نام ’’اسلام‘‘ بتایا ہے۔ اس اخبار کے بارے میں سلطان محمد صاحب لکھتے ہیں: ’’1854ء میں فرنگی استعمار کے خلاف سیدو کے باباجی حضرت عبدالغفور صاحب نے ’’اسلام‘‘ کے نام سے ایک اخبار جاری کیا، جو اس خطے کا سب سے پہلا باطل شکن اخبار تھا اور جو حضرت کے خلیفہ عبدالغفار پشاوری کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ چوں کہ اخبار مخفی طریقے سے بغیر کسی اجازت، بغیر کسی تاریخ، متعین دن اور کسی نامعلوم جگہ سے بلا قیمت قبائلی لوگوں میں تقسیم ہوتا تھا، اس لیے انگریز اسے روکنے میں ناکام رہے۔ جریدے کے تمام اخراجات سوات سیدو کے حضرت بابا جی صاحبؒ ادا کرتے تھے۔ غالباً یہ جریدہ یا اخبار…… لاہور یا امرتسر کے کسی حریت پسند کے پریس میں چھپتا تھا۔ یہ جریدہ کب تک جاری رہا، اس کے حوالے سے تاریخ خاموش ہے۔ البتہ اس نے اسلام، پشتو اور جذبۂ حریت کے فروغ میں نمایاں اور قابل ستائش کردار ادا کیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر محمد ہمایون ہماؔ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ 1857ء کی جنگ آزادی سے پہلے 1854ء میں جو دینی اور نیم ادبی جریدہ سامنے آتا ہے، وہ ’’ماہنامہ اسلام‘‘ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ ہمایون ہماؔ آگے لکھتے ہیں کہ ’’عمر عامر‘‘ سرحدی صوبہ کے ایک ممتاز صحافی الحاج غلام غوث صحرائی کے حوالے سے ’’ماہنامہ اسلام‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبدالغفور المعروف بہ سیدو بابا جی نے 1854ء میں اس جریدے کا اجرا کیا تھا۔ اس ماہنامہ جریدے کے مدیر سیدوبابا جی کے ایک خلیفہ عبدالغفار پشاوری تھے۔ اس مذہبی رسالے میں عیسائی مبلغین کی طرف سے اسلام کی خلاف کیے گئے پروپیگنڈوں کے جواب میں مضامین شائع ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ اس میں سکھوں اور فرنگیوں سے اپنے وطن کی آزادی حاصل کرنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ اس جریدے کی طباعت اور اشاعت خفیہ طریقے سے کی جاتی تھی اور اس کا سارا خرچ حضرت عبدالغفور سیدو باباجی برداشت کرتے تھے۔ فارغ بخاری کے کہنے کے مطابق ’’ماہنامہ اسلام‘‘ بنیادی طور پر پشتو زبان کا مجلہ تھا۔ اس جریدے میں ایک ایک صفحہ اردو اور فارسی کے لیے مخصوص تھا۔ تبلیغی نوعیت کی تحریروں کے علاوہ اردو اور فارسی کلام اور فارسی کے کلاسیکی ادب سے اردو اور پشتو کے ترجمے خصوصاً حکایاتِ سعدی تسلسل کے ساتھ شائع ہوتی تھیں۔ ماہنامہ اسلام سرحدی صوبہ (موجودہ خیبر پختون خوا) میں علمی اور ادبی صحافت کی پہلی نشانی ہے۔
ان بیانات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اخبار یا ایک چھوٹا رسالہ ہوتا تھا جو بنیادی طور پر پشتو میں لکھا جاتا تھا اور اس میں ضمنی طور پر فارسی اور اردو کے صفحات بھی ہوتے تھے۔ محمد پرویش شاہین صاحب اس اخبار کے پریس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ اخبار ایک ایسے مصالحہ سے چھاپا جاتا تھا جس کو حلوہ پریس کہتے تھے۔ جب اخبار کی کاپی کو اس حلوہ کے ساتھ چپکایا جاتا، تو کاپی کے حروف اس حلوہ پر نمودار ہوتے تھے اور پھر جب زور سے اس پر سفید کاغذ رکھا جاتا، تو وہ کتابت اس کاغذ پر منتقل ہوجاتی اور اس طرح مطلوبہ مواد کی طباعت ہوتی۔
اجمل ملک اور شمس الرحمان شمس نے اپنی کتابوں میں اس اخبار کا نام ’’الجہاد‘‘ لکھا ہے۔ اجمل اپنی کتاب ’’صحافتِ سرحد‘‘ کے صفحہ 149پر لکھتے ہیں: ’’صوبہ سرحد میں پشتو صحافت کا آغاز ’’الجہاد‘‘ سے ہوا۔ پشتو زبان کے ایک صفحہ کا پرچہ جو عبدالغفار پشاوری نے نکالا…… ادارت کے فرائض والئی سوات عبدالغفور سرانجام دیتے تھے، جو ایک مجاہد درویش تھے۔‘‘ اسی طرح شمس الرحمان شمس بھی اپنی کتاب “The Poets of Malakand” کے صفحہ نمبر 26 پر لکھتے ہیں: “Al-Jihad, a Pashto Daily which was to be supervised by Abdul Ghafoor, Wali of Swat, and edited by Abdul Ghaffar Peshawari of Toro, Mardan district, was the beginning of Journalism in the area before partition. The Paper was being printed on a spices called Halwa Press.”
سوات سے شائع ہونے والا اخبار ’’اسلام‘‘ یا ’’الجہاد‘‘ کے بارے میں محولہ بالا کتابوں کے علاوہ ادبیات اور صحافت کی دیگر کتب میں بھی ذکر ملتا ہے۔ ان سے پتا چلتا ہے کہ اس اخبار کو ’’الجہاد‘‘ اور ’’اسلام‘‘ دونوں ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ اس اخبار کے مدیر حضرت عبدالغفور المعروف بہ سیدو بابا اور نائب مدیر اس کے خلیفہ حضرت عبدالغفار پشاوری تھے۔ یہ دونوں نام تقریباً تمام مؤرخین نے لکھے ہیں۔ بعض مؤرخین نے اس کو ’’ماہنامہ‘‘ اور بعض نے ’’روزنامہ‘‘ لکھا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے صفحات کے بارے میں بھی مختلف آرا ہیں، بعض نے ایک صفحہ لکھا ہے اور بعض نے ایک سے زیادہ۔ یہ اخبار یا رسالہ کس زبان میں شائع ہوتا تھا، اس بارے میں بھی مختلف آرا ہیں، لیکن اکثریتی رائے یہ ہے کہ بنیادی طورپر یہ پشتو زبان میں شائع ہوتا تھا، اور ضمنی طور پر اردو اور فارسی کے صفحات بھی اس میں شامل ہوتے تھے۔ اس کے پریس کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ لاہور یا امرتسر کے کسی حریت پسند کے پریس سے شائع ہوتا تھا، جب کہ بعض لکھتے ہیں کہ یہ مقامی حلوہ پریس میں چھپتا تھا۔
ان تمام سوالات اور تضادات کا مسئلہ اس وقت حل ہو جائے گا، جب اس اخبار؍ رسالہ کا ایک شمارہ مل جائے گا۔ کیوں کہ ابھی تک ایسا حوالہ نہیں ملا ہے کہ کسی نے یہ اخبار ؍ رسالہ خود دیکھا ہے، لیکن یہ دلیل اخبار کی غیر موجودگی پر صاد نہیں۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے، تو پھر مؤرخین نے یہ بات کہاں سے لکھی ہے؟
……………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے