236 total views, 1 views today

ریاستِ سوات کا دور تو مَیں نے خود نہیں دیکھا، مگر اس کے بارے میں بڑوں سے سنا یا کتابوں میں پڑھا ضرور ہے۔ ریاستی دور کے کچھ ایسے نام اور کام ہیں جو کم لوگ جانتے ہیں۔ اسی طرح "چِرڑو سنیما” کے بارے میں، مَیں نے سنا تھا، لیکن حاصل شدہ معلومات میں کچھ حد تک تضاد تھا۔ اس کالم میں مذکورہ سنیما کے بارے میں معلومات شیرداد ٹھیکیدار صاحب کے فرزند، سوات میں پی ٹی وی کے نمائندہ شوکت علی صاحب، خونہ چم کے ہمارے قابلِ قدر بزرگ سیف الملوک طوطا اور قابلِ احترام حاجی رسول خان صاحب سے حاصل کی گئی ہیں، جو نذرِ قارئین ہیں۔
ریاستِ سوات کے دور میں شیرداد ٹھیکیدار صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سرخ پوش تھے۔ اس وقت ان کا خفیہ تعلق باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک سے تھا۔ ان کے بارے میں اس بابت کوئی ثبوت تو نہیں ملا، لیکن ریاستِ سوات کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ریاست مخالف افراد کو ضلع بدر کیا گیا، جن میں شیرداد ٹھیکیدار بھی شامل تھے۔ ضلع بدری کے بعد انہوں نے 16 سال مردان میں گزارے اور پھر لاہور منتقل ہوگئے۔ ریاست کی جانب سے ایسے افراد کے ساتھ نرمی کے بعد 1962ء میں وہ واپس سوات آئے، اور اپنے ساتھ سنیما بنانے کے لیے پراجیکٹر، پیرا شوٹ کپڑا، بڑے سپیکرز وغیرہ لے آئے۔ یوں انہوں نے مکان باغ میں (جس جگہ آج اباسین کارپٹس اور شہزاد پلازہ ہے، یہ اس وقت خوڑ کے کنارے ایک کھلا میدان تھا) ریاست سے اجازت لینے کے بعد پیرا شوٹ کپڑے سے ہال تیار کیا۔ اس میں پردہ (اسکرین) لگایا۔ پراجیکٹر کے لیے جگہ بنائی اور سنیما کا آغاز کیا۔
منگولتان کے نائب سپہ سالار صاحب کے فرزند طارق صاحب، شیرداد صاحب کے دوست تھے، اور یہ زمین بھی ان کی تھی۔ اس کے مدِمقابل موجودہ پارک ہوٹل اس وقت ’’طارق ہوٹل‘‘ کے نام سے ایک سہ منزلہ عمارت تھا۔ اس لیے شیرداد ٹھیکیدار نے مذکورہ سنیما کا نام ’’طارق سنیما‘‘ رکھ دیا۔ اس کی چھت پیرا شوٹ اور چار دیواری شامیانے کی طرح کپڑے سے بنائی گئی تھی، جس کی وجہ سے اس کا نام ’’چِرڑو سنیما‘‘ مشہور ہوا۔
سنیما میں بیٹھنے کے لیے لکڑی سے بینچ تیار کیے گئے تھے۔ چوں کہ یہ سوات کا پہلا سنیما تھا، اس وجہ سے آغاز ہی سے ہر شو کے لیے ہاؤس "فُل” رہتا تھا۔ سنیما میں دو سو تا ڈھائی سو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی تھی۔ عام ٹکٹ ساڑھے چھے آنے اور فرسٹ کلاس ٹکٹ بارہ آنے کا ہوتا تھا۔ چھت چوں کہ پیرا شوٹ کپڑے کی بنی تھی، جس کی وجہ سے سنیما ہال میں روشنی ہوتی تھی۔ نمازِ مغرب کے بعد اندھیرا چھاتے ہی پہلا شو شروع ہوتا، جس کے ختم ہونے کے بعد فوراً دوسرا شو شروع ہوجاتا۔ کبھی کبھار گہرے بادلوں میں سنیما انتظامیہ تیسرا شو بھی سہ پہر کے بعد چلا لیتی۔
دستیاب معلومات کے مطابق اس سنیما میں پہلی فلم ’’ہلاکو‘‘ چلائی گئی تھی، جس کے بعد "ایاز”، "بنجارن”، "شادی” اور نوکر سمیت ڈھیر ساری پاکستانی اور ہندوستانی فلمیں اس سنیما کے پردے پر اس وقت کے لوگوں نے دیکھیں۔ اُس وقت کی فلمیں چوں کہ آج کل کی طرح فحش نہیں ہوتی تھیں، اس لیے جوانوں اور نوجوانوں کو بھی گھر سے بآسانی اجازت مل جاتی تھی۔
کہتے ہیں کہ سنیما کی خبر جب ریاستِ سوات کے دیگر علاقوں شانگلہ، کوہستان اور بونیر تک پہنچی، تو وہاں سے بھی لوگ فلم دیکھنے مینگورہ آیا کرتے، اور طارق ہوٹل میں قیام کیا کرتے تھے۔ ریاستِ سوات اور دیر کے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر نہ ہونے کے باوجود بھی دیر سے لوگ چُھپ کر فلم دیکھنے مینگورہ آتے۔ کچھ عرصہ کے بعد والئی سوات نے اس جگہ سنیما پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی کہ یہ کھلی جگہ پر ہے، اور اس کے شور سے قریبی گھروں کے لوگوں کی نیند خراب ہوتی ہے، جس کے بعد شیرداد ٹھیکیدار صاحب نے موجودہ پارک ہوٹل اور اس وقت کے طارق ہوٹل کے پیچھے کچھ زمین کرایہ پر لی، اور سنیما کے پردہ، پراجیکٹر، بینچز وغیرہ کو وہاں منتقل کیا۔ وہاں چھت پر دستی چادر لگائے اور پراجیکٹر کے لیے طارق ہوٹل میں ایک کمرہ لے کر اس میں سوراخ کرکے پراجیکٹر نصب کر دیا۔ کچھ عرصہ تک وہاں سنیما چلنے کے بعد ٹھیکیدار صاحب نے سنیما کو اپنے بھائی عثمان علی کے حوالے کر دیا۔ اس دوران میں ڈاکٹر نجیب اللہ مرحوم کے بھائی وکیل صاحب نے ایک اور سنیما بنانے کا سوچا، اور والئی سوات سے معاہدہ کیا۔ اس معاہدے میں شامل تھا کہ مینگورہ میں بغیر چھت یا عمارت کے سنیما ہال نہیں ہوگا۔ وکیل صاحب نے جب سوات سنیما کی تعمیر مکمل کی، تو اس کے بعد ریاست نے چِرڑو سنیما کو بند کرنے کا نوٹس جاری کردیا، جس کے بعد عثمان علی صاحب نے اس کو بند کردیا۔ یوں 1966ء میں وکیل صاحب کے "سوات سنیما” کا آغاز ہوا، جو جدید عمارت اور سہولیات سے لیس تھا۔
سوات سنیما کی عمارت اُس وقت کی شاہکار تھی۔ ایسا جدید سہولیات والا سنیما ہال پورے صوبے میں نہیں تھا، جس کی وجہ سے اس میں فلم بینوں کا رش لگ گیا۔ سوات سنیما کے لیے عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ اس لیے وہاں پر دن کے اوقات میں بھی شو چلا کرتے تھے۔ آس پاس کے علاقوں کے لوگ دن کے وقت فلم دیکھنے کے بعد واپس گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔
قارئین، مَیں نے کالم کے آغاز میں کہا تھا کہ یہ کالم مَیں کچھ مشران سے لی گئیں معلومات کی بنا پر لکھ رہا ہوں۔ اگر اس وقت اس سنیما کے بارے میں جاننے والے کسی بزرگ کو مزید معلومات ہوں، یا مَیں نے کسی جگہ درست معلومات نہ دی ہوں، تو اس پر میں پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ چِرڑو سنیما پر اس کالم کا میرا مقصد اپنے نوجوانوں کو تاریخ کے اس نامعلوم گوشے سے آگاہ کرنا تھا۔
…………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے