314 total views, 1 views today

ریاستِ سوات کی مشاورتی کونسل کا اجلاس جو کہ 8 جون 1967ء کو منعقد ہوا تھا، کا ذکر کرنے سے پہلے چند نِکات پر مختصر بحث کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ اس کا ذکر کیے بغیر قارئین کے لیے مشاورتی کونسل کو سمجھنا مشکل ہوگا۔
مشاورتی کونسل (Swat State Advisory Council) کا قیام سن 1954ء کو عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کے کل ممبران کی تعداد 25 تھی۔ ان 25 نمائندگان میں سے دس والیِ سوات کے نامزد کردہ ہوتے تھے، جب کہ بقایا 15 نمائندگان کو باقاعدہ انتخابات کے ذریعے اس کونسل میں شامل کیا گیا تھا (الیکشن کے انعقاد، حلقہ بندیاں اور طریقۂ کار کے متعلق راقم کے دو کالم نو جولائی اور یکم اگست 2019ء کو روزنامہ آزادی میں شائع ہوچکے ہیں، انہیں www.lafzuna.com پر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔)
مذکورہ مشاورتی کونسل میں نمائندگان اپنے اپنے علاقوں کے مسائل اور اُن کے حل کے لیے تجاویز پیش کرتے تھے۔ والیِ سوات اُن مسائل کو توجہ سے سنتے تھے اور موقع پر ہی اس کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔ یہ ایک نیم منتخب (Semi Elected) ادارہ تھا، اور اس کے ایک سال میں دو اجلاس ہوا کرتے تھے۔ ہر سال جون کے مہینے میں اسی کونسل سے ریاست کا بجٹ منظور کروایا جاتا تھا۔ ان اجلاسوں کی کارروائی کو پڑھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ ممبران میں سے کچھ بہت تیاری کے ساتھ آتے تھے، اور اپنے اپنے علاقوں کے مسائل والی صاحب کے سامنے رکھتے تھے، جب کہ کچھ ممبران محض حاضری لگوانے کے لیے آتے تھے۔ والی صاحب نے اپنی سوانح عمری میں بھی اس مشاورتی کونسل کا مختصراً ذکر کیا ہے (ملاحظہ ہو ’’دی لاسٹ والی آف سوات‘‘ صفحہ 110۔)
اس مختصر تعارف کے بعد اب آتے ہیں، اُس اجلاس کی طرف جو جون 1967ء کو منعقد ہوا اور جس کا تحریری ریکارڈ ٹرائبل ریسرچ سیل پشاور (Tribal Research Cell)میں دیکھا جاسکتا ہے۔
آج بمورخہ 8 جون1967ء کو مشاورتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں تمام ممبرانِ کونسل حاضر تھے۔ اجلاس کی کارروائی کے لیے حضور والی صاحب 8 بجے تشریف لائے۔ اجلاس کی کارروائی تلاوتِ کلام پاک سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد صاحب حضور نے ممبرانِ کونسل سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ بجٹ کی کاپیاں تمام ممبران کو 6 تاریخ کو مہیا کی گئی ہیں۔ اُمید ہے کہ ہر ایک نے بخوبی مطالعہ کیا ہوگا۔ ہر ایک ممبر کو اختیار ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔ اس کونسل میں کسی قسم کی تجویز پیش کرنی ہو، تو کریں۔ صاحب صدر کی اس تقریر کے بعد درجِ ذیل اصحاب نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں:
1:۔ عبدالرحیم سکنہ باجکٹہ (بونیر)، ’’یخدرہ گاؤں کے لوگوں کو پینے کے پانی کی سخت تکلیف ہے۔ گاؤں کے قریب ایک پہاڑ پر ایک چشمہ ہے۔ اگر اُس سے ایک نل کے ذریعے گاؤں تک پانی لایا جائے ،تو گاؤں کے لوگوں کو سہولت مہیا ہوجائے گی۔‘‘ اس کے جواب میں صاحب حضور (والیِ سوات) نے فرمایا کہ تمام گاؤں والے اجتماعی طور پر درخواست پیش کریں۔ اس کے بعد وہاں پر ایک آفیسر حالات کا جائزہ لینے کے لیے حکومت کی طرف سے بھیجا جائے گا اور اُس کی رپورٹ دینے پر پھر عملی کارروائی ہوگی۔
2:۔ عبداللہ خان سکنہ طوطالئی نے فرمایا: ’’علاقہ خدوخیل کے رقبہ قبلہ میرہ میں تقریباً 20 ہزار ایکڑ زمین قابلِ کاشت ہے۔ حکومتِ پاکستان کے ساتھ یہ علاقہ نزدیک ہے۔ اس لیے اگر حضور والی صاحب حکومتِ پاکستان کو سفارش فرمائیں اور وہاں پر ٹیوب ویلز لگائے جائیں، تو اس سے یہ زمین سر سبز و شاداب ہوجائے گی۔‘‘ صاحب صدر نے جواباً فرمایا کہ بجلی کا محکمہ، حکومتِ پاکستان کے ما تحت ہے۔ البتہ جہاں تک میری سفارش کا تعلق ہے، تو اس بارے میں قوم کی استدعا پر ضرور سفارش کروں گا۔ آگے حکومت پاکستان کی مرضی ہے۔
3:۔ سید حسین شاہ سکنہ تندوڈاگ نے اسرائیلی جارحیت کی مزمت کی اور عرب ممالک کے حق میں اظہارِ ہمدردی کے تاثرات بیان کیے۔ ساتھ یہ تجویز پیش کی کہ تمام ممبرانِ کونسل اسرائیلی حملے کی مزمت کرتے ہیں اور حکومتِ پاکستان کے ذریعے ہم ہر قسم کی امداد (مالی و جانی) دینے کو تیار ہیں۔
4:۔ سید سکندر شاہ صاحب سکنہ ملکا نے کہا: ’’موجودہ وقت میں جو ظالمانہ، وحشیانہ و جارحانہ حملہ اسرائیل نے عرب ممالک پر کیا ہے، ہم سب اس جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔ سب دعاگو ہیں کہ اللہ پاک اپنے فضل و کرم سے اسلامی ممالک کو متحد رکھے، اور خدا اُن کو کامیاب کرے۔‘‘ ان دو حضرات کی تقاریر کے بعد حضور صاحب نے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: ’’آپ سب پر واضح ہے کہ حکومتِ پاکستان کُل ہے اور سوات سٹیٹ اس کا جزو۔ ہم وہ کارروائی کریں گے جو حکومت پاکستان کو منظور ہو۔ عرب ممالک کے ساتھ ہماری اور حکومتِ پاکستان کی ہمدردی ضرور ہے۔ اس بارے میں ہم اپنی جانی و مالی قربانی حکومتِ پاکستان کے توسط سے پیش کریں گے، اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے جو کارروائی ہوگی، اُس پر عمل بھی کریں گے۔‘‘
اس کے بعد ڈائریکٹر محکمہ تعلیم نے سب سے مخاطب ہوکر کہا: ’’حاضرین! آپ سب پر عیاں ہے کہ حضور والی صاحب کی علم پروری ضرب المثل ہے۔ انہوں نے کمال مہربانی سے ریاست بھر میں سکولوں کا جال بچھایا، تاکہ سواتی قوم زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی علم پروری کو دیکھتے ہوئے پشاور یونیورسٹی کی طرف سے اُن کو اعزازی ڈگری ’’ڈاکٹر آف لا‘‘ دی گئی ہے۔ اُن کی تعلیمی خدمات کو حکومتِ پاکستان نے بھی سراہا ہے۔ آپ کو حکومتِ پاکستان کی طرف سے ’’ہز ہائی نس‘‘ کا اعزاز بھی ملا ہے۔ والی صاحب تعلیم پر بلامبالغہ بے دریغ رقم خرچ کرتے رہے ہیں۔ آپ سب نے بجٹ میں تعلیم کا مکمل گوشوارہ مطالعہ کیا ہوگا کہ اِمسال کئی پرائمری سکولوں کو لوئر مڈل، اور لوئر مڈل کو مڈل کا درجہ دیا گیا ہے۔ مقامی اساتذہ کو ٹریننگ کے لیے ریاست سے باہر بھیجا جاتا ہے۔ اساتذہ کو اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر صلہ میں انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ قومی ضروریات کی خاطر دو انٹرمیڈیٹ کالج عنقریب کھولے جائیں گے۔ اس طرح اِمسال والی صاحب نے یہ مزید مہربانی فرمائی کہ اساتذہ اور اُن کے اہل و عیال کے لیے علاج و معالجہ کی منظوری سرکاری طور پر فرمائی ہے۔ علاوہ ازیں نہ صرف اساتذہ بلکہ دیگر محکموں کے لیے بھی یہ رعایت دی گئی ہے۔‘‘
اس کے بعد ڈائریکٹر محکمۂ صحت نے اظہارِ خیال فرماتے ہوئے کہا: ’’حاضرین! آپ سب کو بجٹ کی کاپیاں دی گئی ہیں۔ انہیں پڑھ کر آپ سب کو معلوم ہوا ہوگا کہ ریاست میں سوائے کوہستانی دشوار گزار علاقہ کے باقی تمام مناسب مقامات پر 16 ہسپتال، 42 ڈسپنسریاں، ایک عدد میٹرنٹی ویلفیئر برائے زچہ و بچہ، ایک عدد ہسپتال برائے جزامیان، 2 عدد ہسپتال برائے حیوانات اور ہسپتالوں میں بستروں کی موجودہ تعداد 601 ہے۔ مجھے یہ فخر سے کہنا پڑتا ہے کہ میں نے ادویہ یا دیگر سامان کی منظوری میں حضور والی صاحب سے کسی قسم کی دشواری محسوس نہیں کی، اور نہ انہوں نے کوئی تجویز نامنظور ہی کی۔ والی صاحب فی الحقیقت علاج معالجے کی سہولیات بڑھانے میں کافی دلچسپی لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے فضل و کرم اور والی صاحب کی پُرخلوص ہمدردی سے یہ محکمہ روز افزوں ترقی کر رہا ہے۔ اس بار 1966ء کے آخر میں حکومتِ پاکستان کے تعاون سے خاندانی منصوبہ بندی کا کام بڑی تیزی سے شروع ہوگیا ہے۔ یہ بالکل نیا محکمہ ہے۔ اس میں ایک ایگزیکٹیو آفیسر، ہر ایک حاکمی میں ایک فیملی پلاننگ آفیسر اور 66کی تعداد میں ’’دائی‘‘ موجود ہیں۔ اُمید ہے کہ اس محکمہ کے کام سے لوگ آہستہ آہستہ واقف ہوجائیں گے اور اس سے فائدہ اُٹھائیں گے۔ مجھے اُمید ہے کہ والی صاحب کی خصوصی توجہ سے سواتی قوم ایک صحت مند قوم شمار ہوگی۔ دعا ہے کہ خداوندِ کریم اس مہربان حکمران کو سلامت رکھے۔‘‘
اس کے بعد صاحب صدر (والیِ سوات) کے تاثرات ملاحظہ ہوں۔ صاحب صدر نے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: ’’آپ سب پر واضح ہوگیا کہ ڈائریکٹر محکمۂ تعلیم اور ڈائریکٹر محکمۂ صحت نے اپنی اپنی رپورٹ میں اپنے محکموں کا پورا خاکہ پیش کیا، جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، تو مَیں نے عہد کیا ہے کہ خدا کی مخلوق کے حقوق کی بجا آوری میں پوری محنت صرف کروں گا۔ قومی خدمت میرا اولین فرض ہے اور میرے ذہن میں قومی تعمیر کے لیے جو بھی خیال آتا ہے، اُس پر فوراً عمل کرتا ہوں۔ بجٹ بھی آپ سب کے سامنے ہے اور اس کو متوازن رکھنے کے لیے بھی کوشش کی گئی ہے۔ آپ لوگوں کا بھی فرض ہے کہ آپ سب میرے شانہ بشانہ قومی خدمت میں حصہ لیں، اور وہ تجاویز بھی پیش کریں جو قوم کی فلاح و بہبود کے لیے موزوں ہوں۔ آپ بھی کوشش کریں اور مَیں بھی کوشش کروں گا کہ قوم کا یہ بیڑا صحیح معنوں میں پار ہوجائے۔‘‘
اس موقع پر خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق صاحب صدر کی وضاحت بھی ملاحظہ ہو۔ سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے صاحب صدر نے خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق فرمایا: ’’یہ سوات میں ایک نیا محکمہ ہے۔ یہ سلسلہ ہندوستان اور پاکستان دونوں میں رائج ہے۔ افزائش نسل کی کثرت سے قومی معیشت پر برا اثر پڑتا ہے اور شرعاً اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔ اگر قوم کے زن و مرد دونوں راضی ہوں اور وہ بخوشی اس منصوبہ سے مستفید ہونا چاہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حکومت کی طرف سے کسی پر جبر و تشدد روا نہیں رکھا جائے گا۔ قومی معیشت کی خاطر اگر خاندانی منصوبہ بندی سے استفادہ کیا جائے، تو اس میں کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ اُمید ہے کہ کونسل کے ممبران تصویر کا بہتر رُخ دیکھ کر اپنے اپنے علاقوں میں اس کی اِفادیت بیان کریں گے، تاکہ لوگ اس سے بجا طور پر فائدہ حاصل کریں۔‘‘
اس کے بعد حضور والی صاحب نے فرمایا کہ ’’بجٹ کے بارے میں آپ اظہار خیال کرسکتے ہیں۔‘‘
سید حسین شاہ کی بجٹ پر تقریر:۔ سید حسین شاہ نے بجٹ پر کچھ یوں تقریر کی: ’’میرے خیال میں زیرِ نظر بجٹ ایک عمدہ بجٹ کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ یہ بہت اطمینان بخش اور قابلِ قبول بجٹ ہے۔ باوجود ترقیاتی اخراجات کے اس میں عوام پر کسی قسم کے ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے۔ سب ممبرانِ کونسل سے استدعا ہے کہ اس مثالی بجٹ کو منظور کریں۔‘‘
سید سکندر شاہ کی تقریر:۔ سید سکندر شاہ نے سید حسین شاہ کی تقریر کی روشنی میں کہا: ’’یہ بجٹ یقینا مثالی ہے اور اس دور اندیش حکمران کی اعلیٰ ذہنیت کا مرقع ہے۔ میری بھی یہ استدعا ہے کہ تمام ممبران اس بجٹ کو منظور کریں۔‘‘
چناں چہ تمام ممبران کونسل نے ہم آواز ہوکر اس ہمہ گیر بجٹ کو منظور کیا۔
صاحب صدر کی اختتامی تقریر:۔ والی سوات نے تمام ممبران کونسل کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’آپ سب آج بجٹ کے سلسلے میں جمع ہوئے تھے اور آپ نے اتفاق رائے سے اس کو منظور بھی کرلیا۔ جہاں تک قومی ترقی کا تعلق ہے اور وطن جس سے زینت حاصل کرتا ہے، وہ جذبۂ محبت ملی ہے۔ اگر ہر ایک فرد قومی جذبہ سے سرشار ہو، تو کوئی وجہ نہیں کہ قوم سرفرازی حاصل نہ کرے۔ مَیں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ قومی فریضہ سے ہم تب سبک دوش ہوسکتے ہیں، جب صحیح معنوں میں قوم کی خدمت کریں۔ آپ مجھے مفید مشورے پیش کیا کریں۔ تاکہ مَیں اُس پر عمل کرسکوں۔ آپ اپنی مدد آپ کا جذبہ پیدا کریں اور سارا کام حکومت پر نہ چھوڑیں، بلکہ خود بھی آگے راہِ عمل پر گامزن ہوجائیں۔ آیئے، ہم سب دعا کریں کہ خداوند کریم اس پُرآشوب دور میں عرب ممالک کو فتح نصیب کرے۔ خدا، اسرائیل کو نیست و نابود کرے۔ ہماری تمام تر ہمدردی عرب ممالک کے ساتھ ہے اور حکومتِ پاکستان کے توسط سے جو بھی جانی اور مالی قربانی ہوگی، اُس سے دریغ نہیں کریں گے۔ ہم حکومتِ پاکستان کے استحکام کے لیے دعاگو ہیں کہ خداوند تعالیٰ اس کو استحکام بخشے اور خداوند کریم ہمیں بھی لازوال خوشی سے ہم کنار کرے، آمین!
حکومت پاکستان زندہ باد، حکومت سوات پائندہ باد!
…………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے