163 total views, 1 views today

ہر سال 19 جنوری کو ملک بھر خصوصاً پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بڑے بوڑھے اور بزرگ شائقینِ فلم پاکستان انڈسٹری کے کہنہ مشق اداکار اور جنگجو ہیرو لالہ سدھر (مرحوم) کا تذکرہ کرکے حسین یادوں کو تازہ کرتے ہیں جنہوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی بہادری کی داستانوں پر مبنی فلموں میں بہ طورِ ہیرو اور جنگجو کردار میں پیش ہوکر اپنے وقت کے فلم بینوں سے زبردست خراج تحسین وصول کیا، بلکہ اس قابل ہیرو نے پٹھان ہوکر بھی پنجاب کی ثقافت کو صحیح انداز میں پیش کرکے پنجابیوں سے اپنی اداکاری کا لوہا منوالیا۔ دوسرے الفاظ میں لالہ سدھیر ایسے کرداروں کے حامل تھے کہ اُن جیسا اداکار آج تک پیدا ہوا نہ آئندہ پیدا ہوگا۔
لالہ جی (مرحوم) ہماری فلمی صنعت کا نہ صرف معروف نام تھے بلکہ اپنے وقت میں وطنِ عزیز کے کروڑوں پرستاروں کے ہر دلعزیز جنگجو ہیرو، سٹار اور فلم انڈسٹری کی معزز شخصیت تھے۔
لالہ سدھیر 25 جنوری 1922ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شاہ زمان خان آفریدی تھا۔ ان کے والد کو انگریزوں نے حریت پسند ہونے کی پاداش میں تختۂ دار پر لٹکادیا تھا۔ لالہ جی نے 1947ء میں ایک بھارتی فلم ’’فرض‘‘ سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا تھا۔ ان کی پہلی کامیاب فلم ’’ہچکولے‘‘ تھی۔ ان کی اُردو زبان میں بننے والی فلم ’’سسی‘‘ نے گولڈن منائی۔ 1956ء میں ’’دُلابھٹی‘‘، ’’ماہی منڈا‘‘ اور ’’یکے والی‘‘ نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔
لالہ سدھیر نے یہ ثابت کیا کہ جنگجو ہیرو کے علاوہ وہ ہر قسم کے کرداروں کو بہ خوبی ادا کرسکتے ہیں، جس کی عمدہ مثالیں ’’حاتم‘‘، ’’انارکلی‘‘، ’’مرزا صاحباں‘‘، ’’سوہنی مہیوال‘‘ اور ’’غالب‘‘ جیسی یادگار فلمیں ہیں۔ ان فلموں میں اس خوبرو اور قابل ہیرو نے انوکھے اور مثالی کردار ادا کیے، جس سے ان کی شہرت میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔
جب بھی کوئی مؤرخ پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ لکھے گا، تو لالہ سدھیر (مرحوم) سے متعلق لکھے بغیر ادھورا ہوگا۔ لالہ جی کی فلم ’’باغی‘‘ نے چین کے فلمی میلے میں خصوصی ایوارڈ حاصل کیا۔ اسی طرح سدھیر (مرحوم) نے 1964ء میں ’’فرنگی‘‘، 1961ء میں ’’عجب خان‘‘، 1965ء میں ’’جی دار‘‘ اور 1970ء میں ’’کرتارسنگھ‘‘ جیسی شاہکار فلموں میں غضب کی اداکاری کی، اور پاکستان فلم انڈسٹری کو تاریخ میں نمایاں حیثیت دے دی۔ ان فلموں نے اندرون و بیرونِ ملک خاصی پذیرائی حاصل کی۔ اسی طرح ’’عجب خان‘‘ اور ’’فرنگی‘‘ جیسی تاریخی اور جنگجو فلموں نے پٹھانوں سے بے پناہ داد وصول کی۔
یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ’’عجب خان‘‘ میں جو کردار عجب خان کا تھا، تاریخ میں وہ آفریدی قبیلے کا ایک بہادر شخص تھا، تو سدھیر کا تعلق بھی پٹھانوں کے مشہور اور بہادر آفریدی قبیلے سے تھا۔
لالہ جی نے اپنی ذاتی فلمیں بھی پروڈیوس کیں۔ ان میں فلم ’’ساحل‘‘ کے لیے شیر کے ساتھ لڑائی کے سین کو حقیقی بنانے کے لیے زندہ شیر سے لڑکر سین فلم بند کرایا۔ اس سین کے لیے لالہ جی نے ایک شیر خریدا تھا۔ پھر اس سے واقفیت کراتے رہے۔ الغرض، لالہ جی نے اپنے ہر کردار پر خوب محنت کرکے اسے زندہ کردیا۔
تاریخی کہانیوں پر مبنی فلموں میں مسلمان سپہ سالار کا کردار ہو، یا کافروں کے معاشرے میں گھرے ہوئے مسلمان کمیونٹی کے لیڈر کا، فرنگی حکومت کے خلاف باغی کا رول ہو یا کسی ظالم چوہدری یا جابر جاگیردار کے خلاف آواز اُٹھانا ہو، سماجی کارکن کا کردار ہو یا غریبوں کی حمایت کرنے والے کا، یا پھر رومانی کردار ہو، لالہ جی نے ہر کردار کے ساتھ پورا انصاف کیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فلموں میں انگریزوں سے بغاوت اور اُن سے انتقام لینے کے پس پردہ ان کی انگریزوں سے خاندانی نفرت اور رقابت تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کی فلمیں عوامی حیثیت حاصل کرچکی تھیں۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ لالہ جی جب پردہ سکرین پر نمودار ہوتے، تو تماشائی اور پرستار چیختے چلاتے، انہیں خوش آمدید کہتے اور ہر شارٹ میں انہیں خراج تحسین پیش کرتے، بلکہ اس وقت کے لڑکے بالے اور جوان، لالہ جی کے فلموں والے گیٹ اَپ اپناتے اور گلی کوچوں، میدانوں اور چھتوں پر لالہ جی کی فلموں میں غیرت، بہادری اور حب الوطنی پر مبنی ادا کیے ہوئے مکالمے بولتے اور محظوظ ہوتے۔
لالہ جی (مرحوم) عام زندگی میں نہایت شریف النفس اور کم گو انسان تھے۔ پشتون ہونے کے ناتے ہر قسم کے سکینڈل سے پاک رہے۔ چھوٹے بڑے، امیر غریب سب کے ساتھ نہایت خوش اخلاقی سے پیش آتے۔ یہی وجہ ہے کہ فلم انڈسٹری کے علاوہ عام لوگ بھی انہیں لالہ جی کے نام سے پکارتے۔ اپنے بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی۔ ان کے دو بیٹے پاک آرمی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔
لالہ جی کو شہرت زیادہ پسند نہیں تھی۔ اس لیے نہ تو انہیں کوئی ایوارڈ جیتنے سے دلچسپی تھی، اور نہ آج کل کے ایکٹروں کی طرح ہر وقت میڈیا میں اِن ہونے کی خواہش تھی، اور نہ انہوں نے کسی اداکارہ کے پیچھے ڈانس کرنے، دوڑنے اور بھاگنے کی سین فلم بند کرائی۔ انہوں نے ہمیشہ عزت، غیرت اور برد باری کی زندگی گزاری۔ آج ہالی ووڈ، بالی ووڈ اور لالی ووڈ میں بڑے بڑے اداکار مصروفِ عمل ہیں، لیکن ہمارے خیال میں لالہ سدھیر (مرحوم) جیسا عظیم فنکار بہ مشکل ملے گا۔
اپنے وقت کا یہ عظیم اور جنگجو ہیرو 19 جنوری 1997ء کو لاہور اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے