214 total views, 3 views today

ماؤزے تنگ (1976-1893) چین کے کمیونسٹ راہنما اور چین کی تحریک آزادی کے عظیم قائد، وسطی چین کے صوبے ’’ہونان‘‘ کے ایک گاؤں ’’شاؤ شان‘‘ میں پیدا ہوئے۔ والد ایک مفلوک الحال کسان تھے۔ 1911ء میں ’’ڈاکٹر سن یات سن‘‘ کی تحریک مین شامل ہوگئے جس کا مقصد چین کی مانچو شاہی کو ختم کرکے چین میں جمہوریت قائم کرنا تھا۔ 1917ء میں روس میں کمیونسٹ انقلاب رونما ہوا تو ماؤزے تنگ بھی اس سے متاثر ہوئے۔ 1918ء میں گریجویشن کرنے کے بعد بیجنگ یونیورسٹی میں لائبریرین مقرر ہوئے، یہاں انقلاب پسندوں کا خفیہ حلقہ قائم تھا۔ ماؤ بھی اس کے رکن بن گئے۔ 1918ء تا 1919ء ایک انقلابی جریدہ ہیانگ چیانگ کی ادارت کی۔ 1921ء میں شنگھائی میں کمیونسٹ پارٹی قائم ہوئی، تو انہیں ’’ہونان‘‘ شاخ کا سیکرٹری منتخب کیا گیا۔
1924ء میں کمیونسٹ پارٹی نے ڈاکٹر سن یات سن کی جماعت ’’کو منتانگ‘‘ سے مل کرمتحدہ محاذ بنا دیا۔ 1927ء میں جب کومنتانگ کی قوم پرست حکومت قائم ہوئی، تو اس پر چیانگ کائی شیک اور اس کے ٹولے کا قبضہ ہوگیا۔ اس کے خلاف ماؤ نے ہونان کے کسانوں کی قیادت کی۔ 1928ء میں ماؤ نے ریڈ آرمی تشکیل دی۔ اسی آرمی کے ساتھ ماؤ نے 1936ء میں لانگ مارچ کی تھی، اور چھے ہزار میل کا فاصلہ طے کرکے وسیع علاقے پر قبضہ کرلیا تھا۔ 1945ء تک کمیونسٹ، چین کا تقریباً تین چوتھائی علاقہ فتح کرچکے تھے۔ 1946ء میں ریڈ آرمی نے چیانگ کائی شیک کی حکومت کے خلاف ایک فیصلہ کن حملہ کیا اور 1947ء میں شنگھائی اور کئی دوسرے بڑے شہر ان سے لے لیے۔ 1949ء میں چیانگ کائی شیک ’’فاموسا‘‘ فرار ہوگیا اور یکم اکتوبر کو ماؤ زے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی آزادی کا اعلان کردیا۔ ماؤ اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ 1959ء کو انہوں نے چین کی صدارت سے استعفا دے دیا مگر کمیونسٹ پارٹی کے صدر رہے۔ 1965ء میں انہوں نے عظیم ثقافتی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ وہ کمیونسٹ نظریات پر مبنی کتابوں کے بھی مصنف تھے۔
(’’تاریخِ عالم کی ڈکشنری‘‘ از ’’جان جے بٹ‘‘، تحقیق و ترجمہ ’’اخلاق احمد قادری‘‘، سنِ اشاعت 2019ء کے صفحہ نمبر 396 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے