388 total views, 1 views today

26 دسمبر 2019 ء کو خیبر پختون خوا میں پشتو ادب کے نامور ادیب، شاعر، مترجم اور انسان دوست شخصیت ڈاکٹر خالق زیارؔ کی تیسری برسی منائی گئی۔ خالق زیارؔخیبر پختون خوا کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی یکساں طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ اُن کی سادگی، منکسرالمزاجی اور ملن ساری ہے۔ وہ جتنے بڑے شاعر اور ادیب تھے، اتنا ہی گمنام رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ پختونوں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار ذیل میں دیے جانے والے شعر میں کچھ یوں کرتے ہیں :
چی خاپیری دَ کوہِ قاف ورتہ سلام نہ کوی
دابہ وی بل سوک، دا زما دَ وطن خکلی نہ دی
پختون قوم کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کو ایک اور شعر میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
چرتہ چی ہم دَ پختون سپکہ کیگی
زما لہ داسی زایہ کرکہ کیگی
ان کے شعری مجموعے ’’تلوسی‘‘ اور ’’خپل رباب خپلہ نغمہ ‘‘ کا ہر شعر پشتو، پشتون اور پختون خوا کی امن اور ترقی کے لیے لکھا گیا نغمہ ہے۔
خالق زیارؔ صاحب کی شخصیت ڈھیر ساری خوبیاں کا مجموعہ تھی، جن میں کسی کام کو ذمہ داری کے ساتھ پورا کرنا سب سے اہم ہے۔ وہ ہر کام کو خلوص اور شوق سے انجام دیتے۔ کبھی کوئی فرض ادا کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر شکن نہیں پڑتی تھی۔ اس طرح دوسرے کے ذمہ حوالہ شدہ کام کی کما حقہ پوچھ تاچھ کرتے تھے، اور اس میں کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔ ان کے بقول
وایم بہ ئے ہر سہ چی پہ خولہ رازی
ما لہ سہ دَ چا دَ کورہ نہ رازی
آج کی معاشرتی زندگی میں سچ بولنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ اگر کوئی اس محاورہ کے مصداق ایسا کر بھی لے، تو اپنا نقصان خود کر لیتا ہے اور اکیلا رہ جاتا ہے۔ جیسا کہ زیارؔ کہتے ہیں:
یو زل بہ وی چی سر بہ وخورم پکے
کلہ نا کلہ می ناشنا خبری خولی لہ رازی
یا یہ شعر کہ
زہ دَ ہر سڑی پہ مخکی رختیا وایم
دا زما نہ چی دَ ہر سڑے گلہ دہ
ایسی باتوں کا فہم رکھنے کے باوجود پھر بھی اپنی بات کہتے رہتے ہیں، خاموش نہیں ہوتے۔
اوس ہم مکان ہم زمان نہ پیجنی
پختون سرسامہ دے، زان نہ پیجنی
یا یہ کہ
دا دَ جہل جالے، دا وہمی خلق
نہ دی، خو بس ھسی وایو، دی خلق
خیبر پختون خوا کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کے لیے کچھ یوں گویا ہیں:
چی پختون خوا دہ، درد ئے یو دے
پہ دی کی سہ بہ لر او بر کوم
چی گٹے لوٹے می وطن شی نو بیا
سہ بہ دَ امن پہ کونتر کوم
ڈاکٹر خالق زیارؔ نے دو نثری کتابوں ’’مات سانگونہ‘‘ اور ’’دا خاورہ او دا خلق‘‘ کے تراجم کرکے پشتو ادب کے نثری گلدستہ میں دو اہم پھولوں کا اضافہ کیا، جس کے بغیر پشتو نثر اَدھوری تھی۔
ڈاکٹر خالق زیارؔ نے اپنی زندگی پشتو، پشتون اور پختون خوا کے امن اور ترقی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے تمام زندگی انسان اور انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے گزاری۔ انہوں نے انسانیت کی خدمت گزاری پر کبھی تھکن محسوس کی اور نہ کبھی اس سے پیچھے ہٹے۔ وہ اس کام میں یوں مگن تھے کہ انہوں نے اپنی بیماری تک کی پروا نہ کی، اور اپنے کام میں اس قدر مصروفِ عمل رہے کہ اپنا آپ تک بھول گئے۔ اُن کے بقول
اے دَ جانان غمہ خپہ نیولے شہ لگ مہ رازہ
ڈیرہ مودہ پس می چرتہ زان راپہ یاد شوے دے
(’’پختون مجلہ‘‘،دسمبر2019 ء، صفحہ 44 سے ’نور الوہاب ہیروشوال‘ کے مضمون کا ترجمہ)

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے