146 total views, 1 views today

28 جون 1961ء کو جناب والی صاحب نے مجھے ریاست کے محکمہ تعمیرات میں تقرری کا پروانہ دیا، اور یکم جولائی کو میں نے ڈیوٹی کے لیے حاضری دی۔ اگلے ہی دن ہمیں اپنے سربراہ کے ساتھ پورن جانا پڑا۔ اس طرح اگلے دس پندرہ دن نہایت ہیجان خیز گزرے اور مجھے پوری ریاست کا کونہ کونہ دیکھنے کا موقع ملا۔ ہمارے افسر کو ریاست کی طرف سے ایک ’’فورڈ پک اپ‘‘ دی گئی تھی۔ پورن کے دورے کے دوران میں ہمیں بارش اور طوفان کی وجہ سے رات ’’یخ تنگے ریسٹ ہاؤس‘‘ میں گزارنا پڑی، تو حضور والی صاحب نے فوری طور پر ایک فور بائے فور پک اَپ خرید کر محکمۂ تعمیرات کے حوالے کی۔ جس سے ہمیں پٹن کوہستان اور دیگر پہاڑی علاقوں میں محفوظ سفر کی سہولت مل گئی۔ ریسٹ ہاؤس یخ تنگی کی وہ طوفانی رات ابھی تک یاد ہے۔ بیرہ تو ہمیں ریسٹ ہاؤس کی چابیاں دے کر گھر چلا گیا۔ قریبی پولیس چوکی کے انچارج نے ایک بکرا کہیں سے لاکر ہمیں خود پکانے کے لیے دیا۔ بارش اتنی خوفناک گڑ گڑاہٹ کے ساتھ برس رہی تھی کہ دل دہل کر رہ جاتے۔ بہر حال رات کسی نہ کسی طرح سے گزار دی صبح یک دم آسمان کھل گیا۔ نکھری نکھری دھوپ پھیل گئی اور دُھلے دھلائے جنگل سے چیڑھ کی خوشبو پھیلنے لگی۔ ہم شام سے پہلے واپس گھر آگئے۔ واپسی میں الپورئی اور لیلونئی کا بھی دورہ کیا۔
میں بہت پُرجوش محسوس کر رہا تھا۔ ملازمت کے پہلے دو دن بہت حیران کن تھے۔ اُن دنوں ترقیاتی کاموں کی رفتار اتنی تیز تھی کہ ہمیں روز ریاست کے کسی نہ کسی جگہ پر نئے سکول یا ڈسپنسری وغیرہ کے ’’لے آؤٹ‘‘ کے لیے جانا پڑتا۔ مَیں نئے علاقے دیکھنے کے ساتھ کام بھی سیکھ رہا تھا اور بتدریج اپنے فرائض سے متعلق امور بھی سمجھ رہا تھا۔
کوئی ایک دن آرام کے بعد ہمیں بونیر جانے کا حکم ملا۔ بونیر دیکھنے کا یہ میرے لیے پہلا موقع تھا۔ ڈگر قلعہ پہنچنے پر وہاں کے صوبیدار محمد ایوب خان کے ہاں دوپہر کا کھانا کھایا۔ موصوف کا تعلق طوطالئی تحصیل کے گاؤں ڈاگئے سے تھا اور عبداللہ خان کے بھائی تھے۔ کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کے لیے ڈگر ریسٹ ہاؤس آگئے جو قلعہ کے بالکل قریب ایک چٹان کے اوپر بنا ہوا تھا۔ یہ ایک بہت خوبصورت، مختصر اور پُرآسائش عمارت تھی۔ دو بیڈ رومز اور ایک ڈرائنگ روم پر مشتمل یہ ہر لحاظ سے ایک آرام دہ اور پُرشکوہ عمارت لگ رہی تھی۔ یہ ریسٹ ہاؤس 1928ء اور 1930ء کے درمیان بنی تھی۔ صحیح تاریخ تو مجھے یاد نہیں، لیکن بونیر میں ریاستی تعمیرات کے لیے جس شخص کو بطورِ انچارج موضع ’’شیرہ غونڈہ‘‘ صوابئی سے لایا گیا تھا، ان کا نام عبید اُستاد تھا اور اس کی تاریخِ آغازِ ملازمت 1928ء درج ہے۔ یہ بہت ماہر کاریگر تھا۔ کورا اَن پڑھ تھا، مگر اپنے فرائضِ منصبی میں طاق تھا۔ ڈگر ریسٹ ہاؤس اُن کی فنی مہارت کا مجسم شاہکار ہے۔ اُن کی نگرانی میں امبیلہ اور طوطالئی کے ریسٹ ہاؤسز بھی بنے تھے، لیکن ڈگر ریسٹ ہاؤس کی شان ہی الگ ہے۔ شاید اپنی محلِ وقوع کی وجہ سے اس کو انفرادیت حاصل ہے۔ ریسٹ ہاؤس کے غسل خانوں میں برطانیہ کے “SHANKS”کے بنے ہوئے کموڈ اور واش بیسن لگے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بلجیم کے لوکنگ گلاس تھے۔ دونوں کمروں اور ڈرائنگ روم میں قالین بچھے ہوئے تھے۔ غرض ہر لحاظ سے یہ ایک شاہی آرام گاہ لگ رہا تھا۔
80ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں، مجھے صحیح طور پر یاد نہیں، مگر اطلاع ملی کہ صدر ضیاء الحق ایک دن کے لیے بونیر آئیں گے۔ڈگر ریسٹ ہاؤس میں تھوڑی دیر کے لیے آرام کریں گے اور شل بانڈئی بابا سے ملاقات کریں گے۔ افسروں کی دوڑیں لگ گئیں اور شامت ڈگر ریسٹ ہاؤس کی آگئی۔ کم ظرفوں نے کمروں سے ایرانی قالین اٹھواکر مصنوعی قالین بچھوائے۔ انگریزی سینٹری فٹنگ اکھاڑ کر دیسی لگوائے۔ ’’تجدید‘‘ کے نام پر ریسٹ ہاؤس کا حلیہ بگاڑ دیا گیا۔ نہایت بازاری شوخ رنگوں کے پینٹ استعمال کیے گئے جو ایک مختصر مدت کے بعد اُتر گئے۔ اس طرح ریسٹ ہاؤس کا شاہانہ رنگ و روپ بگاڑ کر رکھ دیا گیا اور وہ ایک سال خوردہ میک اپ زدہ عورت نظر آنے لگا۔ اب غیر ملکی کموڈ وغیرہ افسروں نے آپس میں بانٹ لیے۔ یہی حشر پرانے قالینوں اور فرنیچر کا ہوا۔ نیا فرنیچر اُس پرانے فرنیچر کے مقابلے میں نہایت کم تر لگ رہا تھا، اور ساری تگ و دو اور محنت کا اینٹی کلائمکس (ANTI CLIMAX) یہ ہوا کہ صدر کا دورہ منسوخ ہوا۔
آج ریسٹ ہاؤس کو تعمیر ہوئے کم از کم 85 سال یا زائد کا عرصہ گزر گیا ہے، لیکن آج بھی یہ اُسی شان سے کھڑا ہے۔ ہمیں اس سے اس لیے بھی پیار ہے کہ ادغام کے بعد پہلا ’’بلڈنگ اینڈ روڈ سب ڈویژن‘‘ بونیر میں ہم نے شروع کیا۔ یہ دسمبر 1971ء کی بات ہے، اور ہمیں اسی ریسٹ ہاؤس میں کئی راتیں گزارنے کا موقع مل گیا۔ 16 دسمبر کو سقوط ڈھاکہ کی خبر میں نے آل انڈیا ریڈیو سی اسی ریسٹ ہاؤس کے مغربی بیڈروم میں رات ساڑھے آٹھ بجے سنی تھی، اور میں بالکل اکیلا تھا۔ رات بھر روتا رہا، روتا رہا، روتا رہا۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے