540 total views, 1 views today

اندرونِ لاہور جسے پرانا لاہور بھی کہا جاتا ہے، میں مغلیہ دورِ حکومت کے دوران دشمن کے حملوں سے بچاؤ کے لیے فصیل یا دیوار تعمیر کی گئی تھی جس میں بارہ دورازے بنائے گئے تھے۔ ان میں سے کچھ ابھی بھی موجود ہیں اور شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگائے ہوئے ہیں۔
پہلا، موچی دروازہ:۔ اس کا اصل نام بادشاہ اکبر کے دور کے ایک محافظ پنڈت موتی رام پر ’’موتی دروازہ‘‘ رکھا گیا تھا، تاہم رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت میں یہ نام بدل کر پہلے مورچی اور پھر موچی مشہور ہوگیا۔
دوسرا، لوہاری دروازہ:۔ اکبر کے عہد میں تعمیر کردہ شہر کی دیوار کا سب سے پرانا دروازہ لوہاری کہلاتا تھا۔ اس کا اصل نام لاہور دروازہ تھا جو بگڑ کر لوہاری ہوگیا۔ برطانوی عہد میں لاہور کے کئی دروازوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا، تاہم لوہاری واحد دروزہ تھا جو اپنی اصل شکل میں برقرار رہا۔
تیسرا، شاہ عالمی دروازہ:۔ شاہ عالم سے بگڑ کر شاہ عالمی کے نام سے مشہور ہوجانے والے اس دروازے کا نام اورنگزیب عالمگیر کے بیٹے شاہ عالم پر رکھا گیا تھا۔ اس کا پرانا نام بھیروالا دروازہ تھا۔
چوتھا، کشمیری دروازہ:۔ اس دروازے کا رُخ وادئی کشمیر کی جانب ہے، اس لیے اسے کشمیری دروازے کا نام دیا گیا۔
پانچواں، دہلی دروازہ:۔ دہلی دروازہ مغل بادشاہ اکبر نے تعمیر کرایا تھا، یہ شہر کی فصیل کے مشرق میں واقع ہے اور اس سے ملحق ہی کشمیری دروازہ ہے۔
چھٹا، اکبری دروازہ:۔ اکبری دروازے کا نام مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے نام پر رکھا گیا۔ یہاں لاہور کی سب سے بڑی مارکیٹ اکبری منڈی واقع ہے، جہاں اجناس کی تجارت ہوتی ہے۔
ساتواں، بھاٹی دروازہ:۔ کہا جاتا ہے کہ جب محمود غزنوی نے راجہ جے پال کو شکست دی، تو یہاں موجود دروازے کو راجپوت قبیلے بھاٹ یا بھٹی کا نام دیا گیا، جسے مغل بادشاہ اکبر نے اپنے عہد میں دوبارہ تعمیر کرایا۔
آٹھواں ، مستی گیٹ:۔ شاہی قلعے کی پشت میں واقع مستی گیٹ کا اصل نام مسجدی دروازہ تھا، جو بگڑ کر مستی ہوگیا۔ بادشاہ اکبر کی والدہ مریم میخانی کے نام سے منسوب مسجد اس دروازے میں واقع ہے۔
نواں، ٹکسالی گیٹ:۔ ٹکسالی گیٹ کا نام یہاں سکے ڈھالنے کے لیے موجود ٹکسال کی وجہ سے پڑا، تاہم آج یہ ٹکسال اور دروازہ دونوں ہی منہدم ہوچکے ہیں۔
دسواں، روشنائی دروازہ:۔ یہ دروازہ شاہی قلعے اور بادشاہی مسجد کے درمیان واقع ہے۔ یہ دروازہ دوسرے مغلیہ دور میں تعمیر شدہ دروازوں سے اونچا اور چوڑا ہے۔ شام کے وقت اس دروازے کو روشن کیا جاتاتھا جس کی وجہ سے اسے روشنائی دروازے کا نام دیا گیا۔
گیارہواں، خضری یا شیرانوالہ دروازہ:۔ اسے پہلے خضری دروازے کا نام دیا گیا جس کی وجہ معروف بزرگ حضرت خواجہ خضر الیاس تھے، جنہیں امیر البحر کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آبِ حیات دریافت کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
بارہواں، زکی یا یکی دروازہ:۔ ذکی دروازہ کا نام ایک شہید صوفی زکی کے نام پر رکھا گیا۔ تاریخ میں رقم ہے کہ اس صوفی بزرگ نے شمال سے آنے والے تاتاری حملہ آوروں کا بہت بہادری سے مقابلہ کیا تھا، جس کے دروان ان کا سر کاٹ لیا گیا۔ ان کا مزار اسی دروازے کے قریب موجود ہے۔
(ماہنامہ ’’جہانگیر ورلڈ ٹائمز‘‘، ماہِ دسمبر 2019ء کے صفحہ 96 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے