699 total views, 1 views today

فیروز شاہ (شہید) اور ان کے خاندان کے دیگر افراد سے میرا کافی پرانا تعلق ہے۔ سب سے گہرا تعلق میرا (شہید) افضل خان صاحب المعروف ’’شاہ خان‘‘ کے ساتھ تھا۔
مجھے ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ کون سے سال کے انتخابات تھے، اور ٹکٹوں کی تقسیم ابھی نہیں ہوئی تھی۔ مَیں نے روزنامہ مشرق کے ’’سیاسی ایڈیشن‘‘ میں سوات کی ڈائری لکھی تھی، جس میں ایک جملہ کچھ یوں تھا: ’’امکان ہے کہ اس صوبائی حلقے کا ٹکٹ فیروز شاہ صاحب کو دیا جائے!‘‘ جو بعد میں نہیں دیا گیا۔ اس ڈائری میں، مَیں نے اپنی کم علمی کی بنا پر لکھا تھا کہ ’’فیروز شاہ صاحب کی سیاسی سرگرمیاں اتنی زیادہ نہیں، تاہم افضل خان کی وجہ سے لوگ ان کو ووٹ دیں گے۔‘‘ اس ڈائری کو شائع ہوئے کچھ ہی وقت گزر تھا کہ ایک دن مَیں مکان باغ چوک میں ’’سوات کانٹی نینٹل ہوٹل‘‘ کے سامنے چہل قدمی کر رہا تھا۔ فیروز شاہ صاحب نے آواز دی، اور حسبِ سابق خندہ پیشانی سے کہا: ’’فیاض، آپ کے ساتھ کچھ کام ہے۔‘‘ ہم ہوٹل کے اندر گئے، اور افضل خان صاحب کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ افضل خان صاحب نے چائے کا آرڈر دیا جو خالص دودھ سے بنی تھی۔ اس موقع پر فیروز شاہ صاحب نے ہنستے ہوئے کہا: ’’مَیں نے کچھ دن پہلے اخبار میں آپ کی سیاسی ڈائری پڑھی تھی۔‘‘ دوسرے ہی لمحے افضل خان صاحب کی طرف دیکھ کر ان سے پوچھا: ’’آپ نے پڑھی تھی؟‘‘ افضل خان صاحب نے جواباً ہنستے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ شاہ صاحب نے کہا کہ ’’مَیں نے سوچا تھا کہ فیاض سے بات کروں گا، لیکن اُس وقت جب افضل خان بھی موجود ہو۔‘‘ اس دوران میں انہوں نے کہا:’’فیاض، تم نے لکھا تھا کہ مجھے لوگ افضل خان کی بدولت ووٹ دیں گے۔ مَیں آپ کے اس جملہ سے اتفاق نہیں کرتا۔ اگر کبھی افضل خان انتخاب لڑنے جائے گا، تو میری وجہ سے لوگ اسے ووٹ دیں گے۔‘‘ اس دعویٰ پر افضل خان صاحب نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہا: ’’شاہ صاحب بجا فرما رہے ہیں۔‘‘ اس دوران میں بھاپ اڑاتی چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے گپ شپ کی یہ محفل اختتام کو پہنچی۔
قارئین، سوات میں جب حالات خراب تھے، تو ایک غیر ملکی صحافی جو سوات میں مقیم تھا، نے فرمائش کی کہ مجھے مولانا فضل اللہ کے علاقہ میں کسی کا انٹرویو کرنا ہے۔ میرے ذہن میں شہید فیروز شاہ آئے۔ انہیں فون کیا۔ انہوں نے ملنے کے لیے وقت دیا۔ جب ہم وقتِ مقررہ پر ان کے حجرے پہنچے، تو انہوں نے پُرتکلف چائے کا اہتمام کیا تھا۔ سوجی سے بنی سوات کی خصوصی سوغات جس کو مقامی طور پر ’’چُری‘‘ کہا جاتا ہے، بھی ہمارے میز پر موجود تھی۔ انٹرویو کے بعد اُس غیر ملکی صحافی نے ان کی مہمان نوازی اور خاکساری کی بے حد تعریف کی۔
شاہ صاحب سے اکثر ملاقات سوات بار یا سیاسی تقاریب میں ہوتی تھی۔ مَیں جب بھی ’’سوات بار‘‘ جاتا، تو اُن کا ہنستا چہرہ طبیعت بحال کردیتا۔ اکثر اوقات چائے کی پیالی کے بہانے سوات کے حالات پر محفل جما دیتے۔ جب اکثر میں کہہ دیتا کہ ’’سوات کے حالات بہتر ہونے والے ہیں!‘‘ تو یہ بات ان کے لیے کسی خوشخبری سے کم نہ ہوتی۔
پچھلے بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ نے ضلع میں اکثریت حاصل کی، تو ضلع ناظم کے لیے امیدوار کا چناؤ خفیہ رکھا گیا، تاکہ ممبران ناراض نہ ہوں۔ مجھے ذرائع سے تین نام ملے کہ ان میں سے کسی ایک کو ضلع ناظم بنایا جائے گا۔ اگلے دن میں نے ایک خبر لکھی جس کی سرخی تھی: ’’ضلع ناظم سوات، تین شاہوں میں سے ایک کا انتخاب ہوگا۔‘‘ خبر شائع ہونے کی دیر تھی کہ شاہ صاحب نے مجھے کال کی، اور ہنستے ہوئے پوچھا کہ ’’بھئی، آپ کی خبر پڑھی، یہ تین شاہ کون کون ہیں؟‘‘ مَیں نے بھی ہنستے ہی جواب دیا: ’’محمد علی شاہ، فیروز شاہ اور افضل شاہ۔‘‘ انہوں نے قدرے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’اس فہرست میں مجھ ناچیز کا نام کس نے شامل کیا ہے؟‘‘
قارئین، اس طرح کچھ سال قبل مَیں ایک دوست کے ساتھ انگلینڈ جا رہا تھا۔ دبئی ائیر پورٹ پر جہاز تبدیل کرنا تھا۔ جہاز سے نکل کر جب ہم ائیر پورٹ پہنچے، تو شاہ صاحب نے مجھے آواز دی۔ خیریت پوچھنے کے بعد ان سے پوچھا کہ ’’آپ کہا جا رہے ہیں؟‘‘ تو انہوں نے جواباً کہا، ’’اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ امریکہ جارہا ہوں۔ وہاں مقیم میرا بیٹا بار بار کہہ رہا ہے کہ آپ امریکہ شفٹ ہوجائیں، سوات میں حالات خراب ہیں۔ مَیں نے بیٹے سے کہا، چی کمہ شپہ پہ گور ئی ھغہ پہ کور نہ ئی! (یعنی جو رات قبر میں گزارنا لکھی ہو، وہ گھر پر نہیں بتائی جاسکتی) بیٹے نے مجبور کیا ہے، اس لیے کچھ دنوں کے لیے جا رہا ہوں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا، ’’اور تم کہا جا رہے ہو؟‘‘ میں نے جواباً کہا کہ ’’انگلینڈ!‘‘، ’’اچھا،ا نگلینڈ میں میرا بیٹا ہے۔ مَیں اس کو فون کرکے آپ کے آنے کا کہہ دیتا ہوں‘‘۔ مَیں نے انہیں کہا کہ تکلف سے کام نہ لیں، ہمارا انتظام وہاں ہوچکا ہے۔ ائیر پورٹ پر انہوں نے مجھے اور میرے دوست کی خاطر تواضع کرنا چاہی، لیکن ہم نے صاف انکار کیا اور کہا کہ کچھ کھانے پینے کا ابھی موڈ نہیں ہے۔ اس دوران میں انہوں نے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ ڈالرز نکالتے ہوئے مجھے دینے کی کوشش کی۔ مَیں نے مذکورہ رقم شکریہ کے ساتھ واپس کی۔
قارئین، مگر گذشتہ روز جب ان پر اولاً فائرنگ اور ثانیاً شہادت کی خبر ملی، تو مجھے ذاتی طور پر صدمہ ہوا، جس طرح افضل خان کی شہادت پر بھی ہوا تھا۔ دونوں شخصیات کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں تھی۔ ان کے حجرے سب کے لیے کھلے تھے۔ ان کے جنازوں سے پتا چلتا ہے کہ لوگ ان سے کتنا پیار کرتے تھے۔ شورش کے دوران میں شدت پسندوں کی نشانی لمبے بال، لمبی داڑھی اور ہاتھ میں بندوق ہوتی تھی، لیکن امن کے بعد اب قاتلوں نے حلیہ تبدیل کرلیا ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ قاتل اپنے ہاتھ سے قتل کرنے والے کی نمازِ جنازہ میں بھی شریک ہو، کہ کسی کو شک نہ ہو۔
وزیر اعظم بننے سے پہلے عمران خان صاحب کے وہ ’’تاریخی الفاظ‘‘ مجھے اب تک یاد ہیں کہ ’’جس کا قاتل نامعلوم ہو، ریاست اس کا قاتل ہوتی ہے۔‘‘ تحریکِ انصاف کے ایم این اے محمد علی خان نے بھی یہ قول اسمبلی کے فلور پر منھ سے جھاگ اُڑاتے دہرایا ہے۔ خاں صاحب، اب جب آپ وزیر اعظم ہیں، تو ریاست اپنے آپ کو مدعی بنا کر قاتلوں کو گرفتار کرے، اور ان سے صرف یہ پوچھے کہ فیروز شاہ کو کس وجہ سے شہید کیا گیا، تاکہ شاہ صاحب یا ان کی طرح دیگر شہدا کا جرم ہمیں بھی معلوم ہوسکے، جو ان کے زندہ ہونے تک کم از کم ہمیں معلوم نہ تھا۔

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے