349 total views, 1 views today

’’اُستاد ناشناس‘‘ افغانستان کے اک بڑے غزل گو گلوکار ہیں، جنہوں نے اردو، درری (فارسی) اور پشتو زبانوں میں گلوکاری کی ہے۔ وہ اپنی سُریلی آواز سے ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے گائیکی کے لیے ہمیشہ پشتوکلاسیکل شعرا کے کلام کا انتخاب کیاہے۔
اُستاد ناشناس کے حوالے سے انٹرنیٹ پر دی گئیں معلومات کے مطابق وہ دسمبر 1935 ء کو قندہار میں پیدا ہوئے۔ نسلاً پشتون ہیں۔ اُن کا اصل نام ڈاکٹر محمد صادق فطرت ہے۔ ان کا تعلق افغانستان کے ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ اس بنا پر ان کی ابتدائی ترجیح مذہبی علوم ہی رہی۔ بدیں وجہ انہوں نے گھر سے چھپ کر ’’افغان ملی ریڈیو‘‘ سے گائیکی کا آغاز ’’ناشناس‘‘ کے فرضی نام سے کیا، تا کہ گھر والوں کی نظر سے اوجھل رہیں۔ بعد میں اسی نام (ناشناس) سے شہرت پائی۔
اُستاد ناشناس نے مذہبی علوم کے ساتھ موسیقی سے بھی دلی لگاؤ رکھا۔ یوں آہستہ آہستہ اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے راستہ ہموار کرتے رہے۔ انہوں نے ابتدائی جماعتوں کی تعلیم کے بعد ہندوستان میں ــ’’دِلی‘‘ اور ’’پونا‘‘ میں سیکنڈری تک تعلیم پائی۔ 1970 ء میں ’’ماسکو اسٹیٹ یونی ورسٹی‘‘ (روس) چلے گئے، اور وہاں پر پشتو اور روسی ادبیات کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس دوران میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ماسٹرز کے بعد تعلیمی سفر جاری رکھا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری ’’پشتو ادبیات‘‘ میں حاصل کرکے ہی دم لیا۔
اُستاد ناشناس نے اپنی جداگانہ آواز ہی سے شہرتِ دوام پائی ہے۔ ان کے فن کے حوالے سے گلوکار اور موسیقار ماسٹر علی حیدر کہتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان کے کلاسیکی گائیک ’’کے ایل سہگل‘‘ سے متاثر ہوکر غزل کی گائیکی میں نئے تجربات کیے۔ انہوں نے پشتو کلاسیکی شعرا کو نئے انداز کے ساتھ گایا، اور ان کے پیغام کو عوام تک پہنچایا۔ ’’اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ ناشناس نے اس وقت غزل گائیکی کا آغاز کیا،جس وقت ہر طرف لوک موسیقی اور گائیکی (یعنی گیت، چاربیتہ، ٹپہ اور بدلہ) کے رسیا موجود تھے۔ ناشناس نے اُس دور میں ادب کی صنف غزل کو اونچے سروں میں گایا۔ انہوں نے پشتو ادب کے کلاسیکی شعرا خوشحال خان خٹک اور عبدالحمید باباکی غزلوں کو بڑی خوبصورتی سے گایا ہے:
چی پہ خندا ورتہ د خوگ زڑہ پرہرونہ نہ شی
چری دے ہم ستا د خائستہ غوٹئی گلونہ نہ شی
مَیں فخر سے کہتا ہوں کہ ہمارے ایک ہنرمند ساتھی نے دوسرے گلوکاروں کو اعلیٰ معیار کی موسیقی کے نئے رنگ سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔ ناشناس پشتو غزل کی موسیقی میں ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی گائیکی کو پشتو موسیقی سے لگاؤ رکھنے والے اور ہنر مند قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘‘
استاد ناشناس کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ گائیکی کے لیے ایسے اشعار کا انتخاب کرتے ہیں جو ذہن کے ساتھ ساتھ روح پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ وہ کلام کو ایسی ہنرمندی سے گاتے ہیں کہ قاری کو ان الفاظ کے مفہوم تک پہنچادیتے ہیں۔ اس حوالہ سے گلو کار اور موسیقار ’’ماسٹر علی حیدر‘‘ کہتے ہیں کہ پشتو کے دو ہنر مند گلو کار ایسے ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر پختونوں کو غزل کی گائیکی کا رسیا بنایا، جن میں ناشناس کے ساتھ ساتھ خیال محمد بھی شامل ہیں۔
ماسٹر علی حیدر کے مطابق پشتو غزل کی گائیکی کو کمال تک پہنچانے میں ان دونوں گلوکاروں کا بڑا ہاتھ ہے۔ ’’اگر دیکھا جائے تو پشتو غزل کی گائیکی میں دو نام سرِفہرست نظر آتے ہیں۔ برپختون خوا (افغانستان) سے ناشناس اور لرپختون خوا (پاکستان) سے خیال محمد ہیں۔ آج جب بھی کوئی نیا گلوکار غزل گاتا ہے، تو اس میں ان دونوں استادوں کا رنگ نظر آتا ہے۔‘‘
استاد ناشناس نے تین زبانوں (پشتو، فارسی اور اُردو) میں فن کاری کا حق ادا کیا ہے۔ انہوں نے دورۂ پاکستان میں یہاں کے ٹیلی وِژن کے لیے علامہ اقبال کا اُردو اور فارسی کلام گایا، جب کہ پشتو میں رحمت سائلؔ کی غزلیں گا کر انہیں امر کر دیا۔
وہ اب لندن میں اہل و عیال کے ساتھ ایک خوشحال زندہ گزار رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں مغربی ممالک میں مختلف کنسرنٹ کیے ہیں، جہاں ان کی بے حد پذیرائی ہوئی۔
قارئین، جاتے جاتے استاد ناشناس کی چند مشہور غزلوں کا ذکر ہوجائے:
محبت اول آسانہ پہ نظر راغے
پہ آخر کی می نصیب خون جگر راغے
چی پہ خندا ورتہ دہ خوگ زڑہ پرھرونہ نہ شی
چری دے ہم ستا دہ خایست غوٹی گلونہ نہ شی
پہ جوند می نصیب نہ شوے جنازی تہ دی درزم
دَ یار دَ وصل خیالہ، ہدیرے تہ دی درزم
(نوٹ:۔ ہارون باچا کی کتاب ’’نہ ہیریگی نہ بہ ہیرشی‘‘ سے ’’ناشناس‘‘ کا ترجمہ)

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے