447 total views, 1 views today

’’ٹی ہاؤس‘‘ کا نام سنتے ہی ذہن میں اک کوندا سا لپکتا ہے اور دفعتاً ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ کا خیال ذہن کی ہنڈیا میں کھد بد شروع کر دیتا ہے۔ سرِ دست ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ (لاہور) کا مختصر سا تعارف ملاحظہ ہو، اس کے بعد سوات ٹی ہاؤس پر روشنی ڈالی جائے گی:
’’لاہور میں شعرا، ادیب اور دانشور احباب مختلف ریسٹورنٹس میں اپنی محافل سجایا کرتے تھے، جن میں عرب ہوٹل، نگینہ بیکری، کافی ہاؤس اور ٹی ہاؤس شامل تھے۔ مختلف وجوہات کی بنا پر باقی ریسٹورنٹس یکے بعد دیگرے بند ہوتے گئے، تو ادیبوں کا آخری ٹھکانا ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ رہ گیا۔ قیامِ پاکستان سے پہلے بھی یہ عمارت ایک معروف چائے خانہ تھی۔ جسے 1932ء میں ایک سکھ فیملی نے بنایا تھا۔ اس جگہ کو بعد میں ’’ینگ مینز کرسچن ایسوسی ایشن‘‘ (Young Men’s Christian Association, YMCA) کو دیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جناب سراج الدین نے ’’وائی ایم سی اے‘‘ سے جگہ کرایہ پر لے کر اس کا نام ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ رکھا۔ اس طرح پاکستان بننے کے بعد بھی یہ چائے خانہ نہ صرف قائم رہا بلکہ یہاں لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں سے آنے والے ادیب، شاعر اور دانشور چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرتے تھے۔یہاں شاعروں، ادیبوں، دانشوروں کی مستقل بنیادوں پر محافل سجتیں۔ طویل عرصہ تک ادبی تنظیم ’’حلقۂ اربابِ ذوق‘‘ کا یہاں باقاعدہ اجلاس ہوتا رہا۔ یہاں ہونے والی تربیت نے بہت سی گمنام ہستیوں کو وقت کا نامور شاعر اور ادیب بنایا۔ یہ چائے خانہ فیض احمد فیضؔ، آغا شورش کاشمیری، ابنِ انشاؔ، احمد فرازؔ، سعادت حسن منٹو، میرا جیؔ، ناصرؔ کاظمی، منیرؔ نیازی، استاد امانت علی خان، صادقین، اے حمید، حمید اختر اور کمال احمد رضوی جیسی نادر ہستیوں کا میزبان رہا۔ اس کے مالکان نے کاروباری نقصان کی وجہ سے یہ ٹی ہاؤس بند کرکے ’’وائی ایم سی اے ‘‘ کو واپس دے دیا۔ فروری 2012ء میں ’’وائی ایم سی اے ‘‘ سے یہ بلڈنگ لے کر سرکاری تحویل میں دے دی گئی۔ کچھ عرصے کے لیے پاک ٹی ہاؤس بند ہوگیا، تو یہ اہلِ ادب کے لیے ایک سانحہ تھا۔ الحمرا ہال میں ادیبوں کے لیے بیٹھک بنائی گئی، مگر چند وجوہات کی بنا پر اس کو بھرپور پذیرائی نہ مل سکی۔ 8 مارچ 2013ء کو سابقہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے سات سال بند رہنے والے پاک ٹی ہاؤس کا چائے پی کر دوبارہ افتتاح کیا۔ پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے ادیبوں، شعرائے کرام اور دانشوروں کی تصاویر دیواروں پر آویزاں کی گئی ہیں۔ ان میں سے اکثر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ پاک ٹی ہاؤس کو اب ضلعی حکومت کے زیرِ انتظام چلایا جا رہا ہے۔‘‘ (کتاب ’’لَہور، لَہور ہے ‘‘ از عبدالمنان ملک، صفحہ نمبر 80)

فیض احمد فیضؔ، آغا شورش کاشمیری، ابنِ انشاؔ، احمد فرازؔ، منٹو و دیگر کا پاک ٹی ہاؤس۔

غالباً آج سے چھے یا سات سال قبل پروفیسر سبحانی جوہرؔ صاحب نے ایک زبردست تحریر رقم کی تھی، جس میں ادارہ ’’شعیب سنز‘‘ کو ٹی ہاؤس سے معنون کیا تھا۔ جس طرح پاک ٹی ہاؤس میں لاہور کے شعرا، ادیب اور دانشور حضرات چائے کی پیالی کے بہانے محفل جمایا کرتے تھے اور اپنے من کا بوجھ ہلکا کیا کرتے تھے، ٹھیک اُسی طرح سوات میں ’’شعیب سنز‘‘ اس دورِ ناگوار میں مقامی شعرا، ادبا، دانشوروں اور ادبی ذوق رکھنے والوں کے لیے ایک طرح سے گوشۂ عافیت ہے۔ شعیب سنز نہ صرف ادبی کتب کا مرکز ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک معیاری اشاعتی ادارہ بھی ہے۔ اس حوالہ سے ڈاکٹر محمد علی دیناخیل اپنے ایک تحقیقی پشتو مقالہ ’’شعیب سنز پبلشرز تہ یو زغلند نظر‘‘ میں رقم کرتے ہیں: (ترجمہ) ’’سوات کا پہلا اشاعتی ادارہ ’’اسلام بُک سٹور اینڈ پبلشرز‘‘ ہے، جو تاحال قائم ہے لیکن اس کا اشاعتی کام اب بڑی حد تک موقوف ہوچکا ہے۔ مذکورہ ادارہ اب صرف ایک بُک سٹور کی حد تک فعال ہے۔ جہاں تک اس کی خدمات کا تعلق ہے، تو اس ادارے نے بڑی تاریخی اور اہم کتب چھاپی ہیں۔ مشتے نمونہ از خروارے’’دَ احمد دین طالب دیوان‘‘، ’’دَ حافظ الپورئی دیوان‘‘، ’’انوارِ سہیلی‘‘، ’’تاریخِ سوات‘‘، ’’دَ جنت حورہ‘‘، ’’جہانزیبی مشاعرہ‘‘ وغیرہ۔‘‘
اسی مقالہ میں آگے موصوف دیگر اشاعتی اداروں کا ذکر بھی کرتے ہیں جن میں ’’رحمان سنز‘‘، ’’جان کتاب کور‘‘، ’’افغان اکیڈمی‘‘ اور ’’گرافکس ورلڈ مینگورہ‘‘شامل ہیں۔ ذکر شدہ اداروں میں ’’رحمان سنز‘‘ کی کچھ کتب کی تاریخ ڈاکٹر موصوف 1975ء رقم کرتے ہیں، جیسے ’’مشاعرہ د عبدالغنی قصاب د زوی دَ وادہ سلسلہ نمبر 3، سوات، مکتبہ رحمان سنز، 1975ء۔‘‘ موصوف کا یہ دعویٰ ہے کہ’’لیکن سوات کے تمام پبلشرز میں سب سے زیادہ اور معیاری پشتو کتب شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز نے چھاپی ہیں۔‘‘

شعیب سنز کی جانب سے زیورِ طبع سے آراستہ ہونے والی معروف شاعر و ادیب شجاعت علی راہی کی کچھ کتب۔

مقالہ میں آگے ڈاکٹر صاحب رقم کرتے ہیں: ’’سوات میں پشتو ادب کی ترقی میں سب سے زیادہ کام جس نجی ادارے نے کیا ہے، وہ ’’شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کے مالک منجھے ہوئے صحافی، شاعر، ادیب، مترجم اور لکھاری فضل ربی راہیؔ ہیں۔ یہ ادارہ ان کے والدِ بزرگوار محترم محمد شعیب کے نام سے موسوم ہے۔ شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز کا آغاز کتب فروشی سے کیا گیا، جو آگے چل کر کتب کی اشاعت کے ساتھ ساتھ نئے لکھاریوں کے لیے تربیتی ادارہ اور ایک طرح سے سیکھنے کا مرکز بن گیا۔ مذکورہ ادارے کی بنیاد سنہ 1986ء کو رکھی گئی۔ جب کہ اسی سال پشتو ادب کی کتب کی طباعت کا انتظام بھی شروع ہوا۔‘‘




فضل ربی راہیؔ شعیب سنز میں راقم کو شجاعت علی راہیؔ کی کتاب تحفتاً دے رہے ہیں۔

شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز کے روحِ رواں اور ہمارے استاد فضل ربی راہیؔ صاحب کے بقول ادارے کے لیے اوّلین دکان ’’ادھیانہ مارکیٹ، جی ٹی روڈ مینگورہ سوات‘‘ میں کھولی گئی۔آج کل ادارہ کی سرگرمیاں سٹار مارکیٹ جی ٹی روڈ مینگورہ سوات کے بالمقابل ایک چھوٹی سی دکان میں جاری ہیں۔ راہیؔ صاحب کے بقول غالباً 1988ء کو ادھیانہ مارکیٹ سے مذکورہ دکان کی نقلِ مکانی عمل میں لائی گئی۔ اس وقت یہ ادارہ دو شاخوں میں تقسیم ہے۔ جی ٹی روڈ (بالمقابل سٹار مارکیٹ) میں اس کا کتابوں کا ایک چھوٹا سا شو روم ہے لیکن اس کے قرب میں واقع سوات کمپیوٹر مارکیٹ میں اس ادارے کا نشر و اشاعت کا آفس ہے جہاں راہیؔ صاحب بذاتِ خود موجود ہوتے ہیں اور کمپوزنگ و طباعت کا سارا کام ان ہی کی نگرانی میں انجام دیا جاتا ہے۔
شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ مقامی ادیبوں اور شاعروں کی کتابوں کی اشاعت سے قبل ان کی زبان و بیاں کی نوک پلک بھی راہیؔ صاحب کی نگرانی میں سنواری جاتی ہے۔ یوں اس ادارے سے شائع ہونے والی کتابیں نہ صرف صوری لحاظ سے خوب صورت ہوتی ہیں، بلکہ ان میں زبان و بیاں اور پروف کی غلطیوں کا امکان بھی کم سے کم رہ جاتا ہے۔

شعیب سنز میں پروفیسر (ر) احمد فواد کے ساتھ ایک یادگاری ملاقات کے وقت لی گئی تصویر۔

یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ شعیب سنز پورے ملاکنڈ ایجنسی میں واحد علمی و ادبی ادارہ ہے جہاں نہ صرف کتابوں کی نشر و اشاعت کا سلسلہ جاری رہتا ہے بلکہ اس کے چھوٹے سے کتابوں کے شو روم میں قومی سطح کے تمام ممتاز لکھنے والوں کی علمی، ادبی، تاریخی اور دیگر تمام موضوعات پر معیاری کتابیں دست یاب ہوتی ہیں، یوں یہ ادارہ، علاقہ میں مطالعہ کے کلچر کو فروغ دے کر شائقینِ علم و ادب کی علمی تشنگی کا سامان بھی مہیا کرتا ہے۔
قبلہ ریاض مسعود صاحب کے مطابق انہیں سنہ 1986ء کا ’’شعیب سنز‘‘ یاد ہے، جب اس کے لیے ایک دکان ادھیانہ مارکیٹ میں مختص تھی۔
ڈاکٹر صاحب مقالہ میں ’’دَ شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز اشاعتی خدمات‘‘ کے ذیل میں رقم کرتے ہیں: ’’یہ اکیلے اشاعتی ادارہ نہیں ہے بلکہ یہاں شعرا، ادبا اور دیگر لکھاریوں کی ایک طرح سے تربیت ہوا کرتی ہے۔ لیکن اشاعتی خدمات کے تناظر میں اگر ہم شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز کا جائزہ لیں، تو پشتو ادب کی خدمت میں یہ بڑے بڑے اشاعتی اداروں اور اکیڈمیوں کے ساتھ صفِ اوّل میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔‘‘
راہیؔ صاحب کے مطابق اب تک ادارہ نے تقریباً 300 مختلف کتب چھاپی ہیں۔ جن میں اردو، پشتو اور انگریزی ادب کے علاوہ تاریخی اور دینی کتب بھی شامل ہیں۔
جہاں تک مَیں جانتا ہوں مختلف اوقات میں شعیب سنز کے پلیٹ فارم سے مختلف رسائل و جرائد بھی شائع ہوچکے ہیں جن میں اردو کا ماہ نامہ ’’سوات‘‘، ’’شعور‘‘ اور پشتو کا مشہور رسالہ ’’مینہ‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ مختلف سکول اور کالجوں کے سالنامے جن میں جہانزیب کالج کا ’’ایلم‘‘، پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کا ’’مشعلِ ہنر‘‘ اور ایس پی ایس کالج کا ’’دی ایگلٹس‘‘ شامل ہیں، بھی شعیب سنز میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں۔

شعیب سنز کے منیجر سجاد احمد کے ساتھ ایک یادگاری تصویر۔

ادارے کے منیجر سجاد احمد صاحب (جو اپریل 2003ء تا دمِ تحریر خدمات سرانجام دے رہے ہیں) کے بقول: ’’شعیب سنز میں اشاعتی کام سے پہلے بک بائنڈنگ اور بک سیلنگ کا کام ہوا کرتا تھا۔ بچوں کے ادب کے حوالہ سے یہاں مختلف چھوٹے بڑے رسالے، ڈائجسٹ، ادبی کتب و ادبی رسالے، فلمی رسائل، سٹیشنری، کورس کی کتابیں اور سپورٹس سامان بھی بازار سے بارعایت دستیاب ہوتا تھا۔ ‘‘
وہ بقیدِ حیات مشہور شخصیات جن کا شعیب سنز میں کسی نہ کسی حوالہ سے آنا جانا رہتا ہے کے نام ذیل میں دیے جاتے ہیں، (اگر کسی شخصیت کا نام یہاں رقم کرنے سے رِہ گیا ہو، تو امید ہے کہ اسے راقم کی بدگمانی پر محمول نہیں کیا جائے گا):
قبلہ ڈاکٹر سلطان روم، پروفیسر (ر) احمد فواد، رحمت شاہ سائل، اباسین یوسف زئی، عبدالرحیم روغانےؔ، حنیف قیسؔ، لائق زادہ لائقؔ، محمد پرویش شاہین، ابراہیم شبنمؔ، ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زے، وکیل خیر الحکیم حکیم زے، ظفر علی نازؔ، فضل محمود روخان، عثمان اولس یار، ضیاء الدین یوسف زئی، ملالہ یوسف زئی، عطاء اللہ جان ایڈووکیٹ، سکندر حیات کسکرؔ، فضل رازق شہابؔ،محمد گل منصورؔ، ڈاکٹر ہمدرد یوسف زئی، ہمایون مسعود، ریاض مسعود، نعیم اختر، پائندہ محمد، شیر افضل خان بریکوٹی، عطاء الرحمان عطاؔ، شاہین بونیری، اقبال شاکرؔ، شمس بونیری، شمس الاقبال شمسؔ، الحاج زاہد خان، حاجی رسول خان، فضل خالق ماڈرن، صحافیوں میں فضل خالق، نیاز احمد خان، فیاض ظفر محبوب علی وغیرہ۔
اس طرح فوت شدہ شخصیات میں ڈاکٹر ظہور احمد اعوان، محی الدین نواب، صاحب شاہ صابرؔ، اختر ملک، رحیم شاہ رحیمؔ، پروفیسر سیف اللہ خان، ڈاکٹر عنایت اللہ، حبیب اللہ بیتابؔ، قاسم سرحدی، بخت تاج، نیاز سواتی و دیگر شامل ہیں۔

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے