93 total views, 1 views today

کچھ روز قبل راقم کو ریاستِ سوات کے پہلے حکمران سید عبدالجبار شاہ (1915-1917) کے بیٹوں کی قبروں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ان قبروں کے کتبوں پر جو تحریر کندہ تھی، اُن میں ایک بات مشترک تھی۔ وہ مشترک تحریر کچھ یوں تھی: “فرزندِ سید عبدالجبار شاہ، سابق والیِ سوات۔” اس تحریر کو دیکھنے کے بعد ذہن میں کئی سوالات نے جنم لیا اور اس حوالے سے کچھ لکھنے کا فیصلہ کیا، تاکہ یہ وضاحت ہوسکے کہ کون بادشاہِ سوات تھا اور کون والیِ سوات۔ ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہو کہ والیِ سوات کا نام کب، کیوں اور کیسے سامنے آیا؟
اس حوالے سے ڈاکٹر سلطان روم صاحب اور فضل ربی راہیؔ صاحب نے مختصراً لکھا بھی ہے۔ راقم یہاں پر تفصیل میں جانے کی کوشش کرے گا، تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
ہندوستان کی تقسیم سے قبل یہاں پر 560 کی لگ بھگ شاہی اور شخصی ریاستیں تھیں۔ ان کی انتظامی حیثیت باقی ہندوستان سے مختلف تھی۔ اگرچہ یہ ریاستیں براہِ راست انگریز حکومت کے کنٹرول میں نہیں تھیں، لیکن پھر بھی وہ ان ریاستوں کے اُمور میں دلچسپی لیتی تھی۔
ریاستِ سوات کے وجود میں آنے سے قبل بھی انگریز حکومت اس خطے سے ناواقف نہیں تھا، بلکہ اُس نے یہاں کے خوانین کے ساتھ روابط رکھے ہوئے تھے۔ ان خوانین کے انگریز حکومت کے ساتھ میل ملاپ اور خطوط، ریکارڈ کا حصہ ہیں اور گاہے بگاہے سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان خطوط کے علاوہ انگریز حکومت کی خفیہ رپورٹس بھی اس خطے کے اُمور سمجھنے میں کافی مددگار ثابت ہوتی ہیں جو صوبائی آرکایوز (Provincial Archives) میں محفوظ ہیں۔ ریاست کے بننے سے قبل ان تمام افراد کو اُن کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔
اپریل 1915ء کو جب ریاستِ سوات وجود میں آتی ہے، تو عنانِ اقتدار سید عبدالجبار شاہ کے حوالے کی جاتی ہے۔ چوں کہ سن 1926ء تک ریاستِ سوات کو انگریز سرکار نے تسلیم نہیں کیا ہوتا، اس لیے سید عبدالجبار شاہ کو بادشاہِ سوات (King of Swat) لکھ کر یاد کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سید اکبر شاہ جو کہ سن 1849ء سے سن 1857ء تک سوات کے حکمران رہے، اُن کے لیے بھی بادشاہِ سوات کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان دونوں ادوار کے متعلق جتنی بھی تحریریں موجود ہیں، اُن میں یہ الفاظ واضح ہوکر سامنے آتے ہیں۔ سید عبدالجبار شاہ کے دورِ حکومت کے بارے میں انگریز حکومت اور لکھاریوں کی تحریریں بھی دلچسپی کا باعث ہیں۔ ان حکومتی رپورٹس اور لکھاریوں کی تحریروں میں انگریز سرکار کا رویہ ایک حد تک روایتی احساسِ برتری کا نظر آتا ہے۔ برطانوی حکومت کے اس رویے کی طرف ڈاکٹر سلطان روم صاحب نے بھی اشارہ کیا ہے۔ اُن کے الفاظ یہ ہیں: “انگریز سرکار اُنہیں ہمیشہ سوات کا برائے نام بادشاہ، سوات کا نام نہاد بادشاہ اور خود ساختہ بادشاہ کے نام سے پکارتے رہے۔”
جب 1917ء میں میاں گل عبدالودود ریاستِ سوات کے حکمران بنتے ہیں، تو اُن کے لیے انگریز حکومت کے مراسلوں اور دیگر رپورٹس میں مختلف نام استعمال کیے گئے ہیں، جیسا کہ گل شہزادہ، میاں گل، میاں گل آف سوات اور “Ruler of Swat”
1926ء میں سوات کی تاریخ میں ایک اہم موڑ آتا ہے جب برطانوی حکومت، ریاستِ سوات کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیتی ہے۔ اب یہ ضرورت پڑتی ہے کہ ریاست کے حکمران کو کس نام سے یاد کیا جائے؟ یہاں یہ بات لکھنا ضروری ہے کہ اُس وقت ہندوستان میں جمہوریت اور اس سے منسلک اداروں کی داغ بیل نہیں ڈالی گئی تھی۔ اس لیے گورنر، وزیراعلیٰ، وزیر اعظم وغیرہ جیسے اصطلاحات رائج نہیں تھیں۔ اسی وجہ سے لقب کا اختیار کرنا وقت کی ضرورت تھی۔ سوات سے ملحقہ ریاستوں کے حکمران “نواب” اور “مہتر” کا لقب اپنائے ہوئے تھے، اور اُنہیں مذکورہ ناموں ہی سے یاد کیا جاتا تھا۔ ریاستِ سوات کو تسلیم کرنے کے بعد انگریز حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ سوات کے حکمران کو “والی” کا لقب دیا جائے اور نتیجتاً یہی لقب زیرِ استعمال آتا ہے۔ یاد رہے کہ “والی” کے معنی حکمران، امیر، حاکم اور بادشاہ کے ہیں۔
اب اگر ایک طرف میاں گل عبدالودود کی حکومت کو انگریز سرکار تسلیم کرلیتی ہے، تو دوسری طرف وہ اس لقب پر خوش نہیں ہوتی اور اس پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔ اسی تناظر میں وہ پولی ٹیکل ایجنٹ کو خطوط بھی لکھتی ہے اور بالمشافہ ملاقاتوں میں بھی اپنی خفگی کا اظہار کرتی ہے۔ پولی ٹیکل ایجنٹ چوں کہ اس سلسلے میں مجاز اتھارٹی نہیں ہوتا، تو اسی وجہ سے وہ حکمرانِ سوات سے وعدہ کرتا ہے کہ اُن کی آواز کو اعلیٰ ایوانوں میں پہنچائے گا۔
پولی ٹیکل ایجنٹ کا لکھا ہوا ایک ایسا ہی مراسلہ دیکھنے کا اتفاق ہوا جو اُس نے چیف کمشنر این ڈبلیو ایف پی (Chief Commissioner, NWFP) کو ارسال کیا تھا۔ یہ مراسلہ 13 دسمبر 1927ء کو لکھا گیا تھا، اور یہ سوات کے اُس وقت کے اندرونی معاملات کو سمجھنے کے حوالے سے ایک اہم دستاویز ہے۔ اس مراسلے میں وہ لکھتے ہیں کہ سوات کے حکمران کا مؤقف ہے کہ چوں کہ اُن کی حکومت کو برطانوی حکومت نے باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ہے، تو اب حسبِ سابق اُن کے لیے بادشاہِ سوات (King of Swat) کا لقب منظور کیا جائے۔
وہ آگے لکھتے ہیں کہ تاریخی لحاظ سے سوات کے حکمران کے لیے “بادشاہ” کا لفظ استعمال ہوتا رہا ہے، اور لوگ اُن (میاں گل عبدالودود) کو بھی اسی نام سے پکارتے اور مخاطب کرتے ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر “بادشاہِ سوات” کا لقب ہی موزوں رہے گا۔ علاوہ ازیں حکمرانِ سوات کا یہ بھی مؤقف ہے کہ لفظ “والی” پشتو زبان کا نہیں ہے اور نہ مقامی لوگ اس لفظ سے مانوس ہی ہیں۔ اسی لیے یہ لفظ عوامی پذیرائی اور مقبولیت حاصل نہیں کرسکے گا۔ مزید برآں “والی” کا لفظ کسی طور پر بادشاہ کا متبادل نہیں ہے اور نہ اُسی پائے کا ہی ہے۔
مذکورہ مراسلے کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
The Wali’s third request relates to the title under which he has been recognized that while the meaning of Wali is known to himself, it is totally strange to the people of his state by whom he is universally styled as Badshah. He asks therefore that he may be recognized as the Badshah of Swat. That this is the term used by them and the people of the Agency generally in referring to him
بادشاہ کا لقب دلوانے میں پولی ٹیکل ایجنٹ کے علاوہ اُس وقت پشاور کے ڈپٹی کمشنر لیفٹیننٹ کرنل آر ای ایچ گرفتھ (R.E.H Griffith) مراسلہ چیف سیکرٹری پشاور کو ارسال کرتے ہیں۔ اس مراسلے پر 27 دسمبر 1927ء کی تاریخ درج ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
There is no doubt that the recognition by government would cause him great pleasure and remove what he (Miangul Abdul Wadud) appears to regard as something of a grievance. I believe that it was originally intended that he should be officially known by the designation of “Badshah of Swat” but the title of “Wali” was substituted… the title of “Badshah” can surely be granted to him in view of the special tradition of his family. He also possibly dislikes the title “wali” as being exotic and unfamiliar and therefore of a doubtful value. Abdul Jabbar Shah was locally known as “Badshah” of Swat during his brief rule and it would seem desirable in all the circumstances of the case, that the wali should be officially permitted to adopt it
ان فائیلوں کو ٹٹولتے وقت یہ حقیقت بھی آشکارا ہوجاتی ہے کہ سن 1925ء میں انگریز حکومت یہ مطالبہ منظور کرچکی تھی کہ میاں گل عبدالودود کو “بادشاہِ سوات” کے لقب سے ہی یاد کیا جائے گا۔ اس لقب کو بعد میں جن وجوہات کی بنا پر مسترد کیا گیا، وہ بھی کافی دلچسپ ہیں۔ اُن وجوہات میں سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انگلستان میں صدیوں سے بادشاہت چلی آرہی تھی۔ اگرچہ وہ جمہوریت کے راستے پر گامزن ہوچکے تھے، اور جمہودی اداروں کو جنم دے چکے تھے، لیکن پھر بھی وہ بادشاہت کے ادارے سے چمٹے ہوئے تھے۔ اور اسے ترک کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ لہٰذا وہ بادشاہ کا لقب اپنے بادشاہ تک محدود رکھنا چاہتے تھے، اور یہ کسی اور کو دینے کے روادار نہ تھے۔
بادشاہ کے لقب میں دوسری رکاوٹ افغانستان کی ناراضی تھی۔ انگریز حکومت کا خیال تھا کہ سوات کی ریاست تسلیم کرنے کے بعد افغانستان حکومت خاصی ناراض ہے، اور اگر اب “بادشاہ” کا لقب بھی سوات کے حصے میں آیا، تو تعلقات میں اور بھی کشیدگی آسکتی ہے۔
یاد رہے کہ ڈیورنڈ لائن کے معاہدے سے پہلے اور بعد میں بھی اس خطے پر افغانستان اور برطانوی ہند کے درمیان اختلافات چلے آ رہے تھے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان کے حکمران کے لیے بھی بادشاہ کا لقب (King of Afghanistan) استعمال ہوا کرتا تھا جو کہ ایک اور تنازعہ کو جنم دے سکتا تھا۔ ان خدشات کا اظہار اُس مراسلے میں کیا گیا ہے جو کہ اٹھارا فروری انیس سو اٹھائیس (19 فروری 1928ء) کو تحریر کیا گیا تھا۔
پڑوس کی دو ریاستیں دیر اور چترال بھی مذکورہ لقب کی راہ میں رکاؤٹ بن رہی تھیں۔ “بادشاہ” کا لقب ان ریاستوں کے حکمرانوں کی خفگی کا باعث بن سکتا تھا۔ کیوں کہ “نواب” اور “مہتر” کے القابات بادشاہ کے مقابلے میں کم تر اور ہلکے معلوم ہوتے تھے۔ انگریز حکومت کے پیشِ نظر ان حکمرانوں کی خوشنودی بھی تھی، کیوں کہ دونوں ریاستوں سے اُس کے مفادات وابستہ تھے۔
اب اگر ہم پچھلے سو سال پر نظر دوڑائیں اور زمینی حقائق کا جائزہ لیں، تو بادی النظر میں میاں گل عبدالودود کا مؤقف اپنی ذات کی حد تک درست لگتا ہے۔ “والی” کا لقب نہ اُس وقت مقبول ہوسکا، اور نہ اب تک ایسا ہوسکا ہے۔ جب بھی ہم عام گفتگو اور تحقیقی کام میں میاں گل عبدالودود کا ذکر کرتے ہیں، تو ہمیں بادلِ نخواستہ اُنہیں بادشاہ صاحب (باچا صاحب) ہی کہنا پڑتا ہے، اور سوات کے پہلے والی سے ہمیں کم ہی واسطہ پڑتا ہے۔
جہاں تک بادشاہ صاحب کا یہ مؤقف کہ “والی” کا لقب مقامی یعنی پشتو زبان کا نہیں ہے، اور لوگوں کے لیے “Strange” ہے، کسی حد تک درست ثابت نہیں ہوا ہے۔ کیوں کہ یہی لقب اُن کے بیٹے اور ریاستِ سوات کے آخری حکمران میاں گل عبدالحق جہانزیب کے ساتھ جُڑ کر رہ گیا ہے۔ اب تک والیِ سوات کا لقب استعمال ہوتا رہا ہے، اور پشتو زبان سے تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی عوام اور خواص کی زبانوں پر چڑھ چکا ہے۔
مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخی لحاظ سے سوات کے دو بادشاہ اور دو والی گزرے ہیں۔ سرکاری طور پر 1926ء کے بعد “بادشاہ” کا لقب متروک ہوجاتا ہے اور “والی” کا لقب باضابطہ طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ دونوں بادشاہوں کا دورِ حکومت دس سال کے عرصے پر محیط ہے، جب کہ “والیان” کا دورِ حکومت باون (52) سالوں پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ دونوں ادوار اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جب بھی اس دور کا ذکر ہو، تو ان القابات کو احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جائے اور اُنہیں گڈ مڈ نہ کیا جائے۔

………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے