421 total views, 1 views today

باچا زرین جان 1940ء میں مردان ہوتی میں ایک ہنر مند گھرانے میں پیدا ہوئی۔ والد کا نام عبدالرحیم تھا، جو چچ ہزارہ سے مردان منتقل ہوا تھا۔ رستم گاؤں کے ذیلی قصبہ "مچی کلی” میں ایک سید گھرانے میں انہوں نے شادی کی۔ ان کا والد عبدالرحیم طبلے کا اُستاد تھا جب کہ دادا رحیم جان سازیندے کا اُستاد تھا۔
باچا زرین جان اُن پختون خواتین گلوکاراؤں میں شامل ہیں جن کی گائیکی "لر و بر پختونخوا” میں یکساں مقبول تھی۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان پشاور سے گائیکی کا باقاعدہ آغاز 1949ء میں کیا۔ اُن کے گیت ریڈیو پاکستان پشاور کے علاوہ کابل اور دہلی سے بھی نشر کیے جاتے تھے۔
باچا زرین جان کے ایک مشہورگیت کے بول کچھ یوں ہیں:
جینکئی ڈلے ڈلے پیر بابا لہ زی
پہ لارہ زی، تمبل وہی
ریڈیو پاکستان پشاور کے پروڈیوسر، شاعر اور ادیب لائق زادہ لائقؔ باچا زرین جان کے بارے میں کہتے ہیں: ’’باچا زرین جان نے اپنی زندگی کا قیمتی حصہ پشتو موسیقی کی نذر کیا اور اس میدان میں انہوں نے نام کمایا۔ باچا زرین جان پشتو موسیقی کے حوالے سے ایک جداگانہ حیثیت رکھتی تھیں۔ انہوں نے اس میدان میں اُس وقت قدم رکھا جب پختون گلوکارائیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ وہ ایک ہنرمند گھرانے سے تھیں۔ اُن کی اور بھی بہنیں تھیں، وہ بھی گائیکی سے وابستہ تھیں۔‘‘
مردان سے تعلق رکھنے والے نامور گلوکار فضل وہاب درد، باچا زرین جان بارے کہتے ہیں: ’’باچا زرین جان نامور گلوکاراؤں میں سے ایک تھیں۔ بحیثیت گلوکارہ اس نے اپنی ایک جداگانہ پہچان بنائی تھی۔‘‘
باچا زرین جان نے ریڈیو پشاور کے لیے ڈھیر سارے گیت ریکارڈ کرائے تھے۔ مَیں اُس میں سے ایک کا حوالہ دیتا ہوں جو اَب بھی لوگ شوق سے سنتے ہیں:
زہ پناہ ولاڑہ یمہ
ہلکا بلئی مہ نڑوہ
لیدے می نہ شے
شاعر اور ادیب لائق زادہ لائقؔ باچا زرین جان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’وہ پشاور کے صوفی سید عبدالستار شاہ کے دربار سے بھی وابستہ تھیں۔ وہاں اُن کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ جہاں پر وہ دوسرے بزرگوں سے تصوف اور روحانیت سیکھا کرتی تھیں۔ باچا زرین جان روحانیت پر عقیدہ رکھتی تھیں۔‘‘
سید عبدالستار شاہ باچا کے دربار میں حمزہ شنواری سے اُن کی ملاقات ہوئی۔ اس کے علاوہ پشتو موسیقی کی نامور شخصیتوں رفیق شنواری اور خیال محمد کے ساتھ اُن کا ربط و ضبط بڑھ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فن اور فکر میں پختگی پیدا ہوئی جو دوسری پشتون گلوکاراؤں میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔
گلوکار فضل وہاب درد کہتے ہیں کہ ’’باچا زرین جان اپنے گیتوں کی گائیکی کے لیے دہلی بھی کئی دفعہ گئی تھیں۔‘‘ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’پشتون، لوک گیت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اس وجہ سے باچا زرین جان نے غزل کی جگہ ٹپے (پشتو صنفِ شاعری) کو زیادہ توجہ دی۔ اگر دیکھاجائے، تو باچا زرین نے ٹپے اور گیت دونوں کافی تعداد میں گائے ہیں اور یہ اس لیے کہ پشتون، لوک گیتوں کو شوق سے سنتے ہیں۔‘‘
فضل وہاب اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’باچا زرین جان کی بہنوں نے بھی گیت گائے ہیں، لیکن چوں کہ یہ تعلیم یافتہ تھیں، اس لیے اپنے بہنوں سے زیادہ شہرت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ ان کی تین بہنیں تھیں، ندیر جان، خانم جان اور دلبر جان۔ ان میں دلبر جان ’’بلبل‘‘ کے نام سے شہرت رکھتی تھیں۔ باچا زرین جان نے میٹرک کیا ہوا تھا۔ اس لیے وہ اچھے کلام کا انتخاب کرتیں اور الفاظ کی ادائیگی میں تو اُنہیں کمال حاصل تھا۔ ان کے بچوں میں کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا کہ وہ اپنی ماں کے فن کو زندہ رکھتا۔‘‘
سلامئی لہ بہ ئی ورزمہ
لیونے دے، وئی وئی جانان زما
فضل وہاب درد بہت افسوس سے کہتے ہیں کہ پشتون ہنر مند جب عمر کی آخری حد تک پہنچ جاتے ہیں، تو پھر اُن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ ’’یہ بدبخت پشتون ہنرمند جب زندگی کے آخری پڑاؤ پر پہنچتے ہیں،، تو وہ لاچارگی اور بے کسی کی زندگی گزارتے ہیں اور کوئی اُن کا پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ باچا زرین جان بھی آخری عمر میں ایسی صورت حال سے دوچار ہوئیں۔ جب وہ بیمار پڑگئیں، تو اپنے بھانجے کے گھر میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرگئیں۔‘‘
لائق زادہ لائقؔ جو باچا زرین جان کے جنازے میں شامل تھے، نہایت افسوس سے کہتے ہیں کہ ان کی تدفین اور جنازے میں کم ہی لوگوں نے شرکت کرنے کی زحمت اٹھائی۔
لائق زادہ لائقؔ پختون معاشرے میں ہنرمندوں کی اس بے قدری کے بارے میں کہتے ہیں: ’’اُس وقت تک پشتون ایک نامور اور امن پسند قوم کے طور پر دنیا میں اپنا مقام نہیں بناسکتے، جب تک یہ اپنا رویہ ترک نہیں کرتے۔’’
جب باچا زرین جان کی تدفین ہورہی تھی، تو اُن کی قبر پر بمشکل آٹھ دس لوگ ہی حاضر ہوپائے، جو نہایت افسوس کی بات ہے۔ مَیں کہتا ہوں کہ ہم پشتون دنیا میں اِدھر اُدھر پڑے ہوتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ہم میں قومیت کی کمی ہے۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ ہمیں دنیا کے لوگ دہشت گردوں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ہم یہ تاثر اُس وقت غلط ثابت کرسکتے ہیں جب ہم آپس میں اختلافات کو ختم کریں اور ایک متمدن قوم کی حیثیت سے اپنی شناخت کرائیں۔ پھر ہمارے ہنرمند بھی عزت حاصل کرپائیں گے۔
باچا زرین جان کی زندگی کے آخری ایام بہت تکلیف دہ تھے۔ وہ بیماری کی وجہ سے 2012ء کو جولائی کی 25 تاریخ کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔
(مشال ریڈیو کی شائع کردہ ہارون باچا کی پشتو تصنیف ’’نہ ھیریگی نہ بہ ھیر شی‘‘ سے ’’باچا زرین جان‘‘ کا ترجمہ)

…………………………………………….



لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے