118 total views, 7 views today

ناچ گانا کسی بھی ثقافت کا اہم جز ہوتا ہے جب کہ موسیقی ایک فطری تحفہ اور روح کی خوراک ہے۔ بقولِ امامِ غزالی: “یہ روح کی تار چھیڑتی ہے اور اس میں عشق اُبھارتی ہے۔”
داتا گنج بخش کے مطابق “یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتی ہے”، تو نظام الدین چشتی اسے “دل کی صفائی کا اہم ذریعہ” سمجھتے ہیں۔
ٹھیک اسی طرح رقص کو انسانی اعضا کی شاعری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ رقص محض گھومنے، جھومنے، اُچھل کود اور چکر کھانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک رقاص کے دل کو ہلکا کر کے اسے فرحت بخش کیفیت میں بھی لاتا ہے۔ انسان اکثر خوشی یا ذوق و شوق میں بے خود ہوکر جھومنے کی کیفیت میں آتا ہے۔ یہ وجد آفرینی اور سرمستی کی کیفیت عارفانِ حق کی ہوتی ہے جو وجد کے عالم میں سرشاری اور بے خودی سے جھوم اٹھتے ہیں۔ پنجاب کے مشہور رومانی مثنوی ہیرا رانجھا کے خالق حضرت پیر وارث شاہ وجد میں آتے، تو رقص کیا کرتے تھے۔ الغرض، اعضا کی موزوں جنبش جسے رقص یا ناچ کہتے ہیں، دنیا کی ہر قوم میں موجود ہے۔ ایک ہی ملک کے مختلف حصوں میں اس کی الگ الگ اقسام ہوتی ہیں، جیسے ہمارے ملک میں خواتین دائرہ بنا کر ہاتھ میں ہاتھ دیتی ہیں اور جھومر ناچ پیش کرتی ہیں۔ سندھ میں “جمالو” اور خیبر پختونخواہ کا “اتنڑ” اور “خٹک رقص” اپنی علیحدہ پہچان رکھتے ہیں۔
ماسوائے یوسف زئیوں کے دوسرے تمام قبائل مشترکہ رقص کے قائل ہیں۔ وہ رقص کو ثقافت کا اہم جز سمجھ کر اس کا پابندی سے اہتمام ہی نہیں کرتے بلکہ پرچار بھی کرتے ہیں۔ لے دے کے ایک “شاڈولہ” ہم سے منسوب تھا، لیکن ہم نے اس کو بھی رواج نہیں دیا۔ اس لیے ہم میں انفرادی ناچ بھی نہ پنپ سکا، جبھی تو یہاں رقاص اور رقاصہ باہر سے آتے تھے، جنہیں پیسے دے کر نچایا جاتا تھا۔
یوسف زئی عام طور پر ناچ کو خواتین کا کام سمجھتے ہیں۔ ان میں مردوں کے لیے ناچ بے عزتی کی بات ہے۔ شادی بیاہ کے موقعہ پر گھر کی خواتین گھروں کے اندر ناچتی تھیں۔ حجرے کے لیے پیشہ ور فن کار (جنہیں عرفِ عام میں “ڈمان” کہتے ہیں) بلائے جاتے تھے۔ ان پر بے تحاشا دولت لٹائی جاتی تھی۔ اس کے باوجود اکثر مجلس شان دار نہ ہوتی تھی۔ کیوں کہ فن کاروں کی نظر فن سے زیادہ دولت پر ہوتی تھی۔ ایک رقاصہ ایک چکر لگا کر میدان کے بیچ میں آتی۔ جہاں بدن کو مخصوص انداز سے ہلاکر دو تین چھلانگیں لگاتی جب کہ دوسری رقاصہ پیسے بٹورنے کی خاطر تیزی سے گھومنا شروع کردیتی۔ سازندے بھی ان کی چال کے ماتحت ہوتے، جو کبھی مختلف دھنوں کو تیز کرتے، تو کبھی باجا بجانے والا یا طبلہ نواز مدہم لے میں موسیقی کا انداز بدلتا جاتا۔ ادھر ڈھولک بجانے والا مدھم پڑجاتا، گویا ایسا کرنے سے وہ رقاصہ کو لوگوں سے باتیں کرنے کا موقعہ فراہم کر رہے ہوتے۔ یوں وہ بدن ہلاتی اور آہستہ آہستہ زمین پر پیر مار کر گھنگروں کی آواز نکالتی۔ پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر گھوم جاتی۔ جس میں ناچ کم اور اداکاری زیادہ نظر آیا کرتی، یعنی تین گھنٹوں کی مجلس میں 20 منٹ ناچ ہوتا باقی وقت ویسے صرف کیا جاتا۔ اصلی ناچ تب ہوتا جب ان پر پیسوں کی بارش شروع ہوجاتی۔ ایسی محافل شادی بیاہ اور لڑکے کے ختنے میں منعقد کی جاتی تھیں۔ صرف نرتکی (رقاصہ) ناچ نہیں کیا کرتی تھی بلکہ نرتک (رقاص) بھی خوب ناچتا تھا۔ یہ رقاص بھی اپنی غیر معمولی صلاحیت سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بناتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مدین (سوات) کے اکبر علی ایک ایسی ڈفلی جس کے کناروں پر گھنگروں آویزاں تھے، کو ناچ ناچ میں ٹخنوں سے لے کر سر تک آہستہ آہستہ ہر اندام پر مارتے تھے، جس کے ساتھ ڈفلی کا سُر سازینو کے تال میں سما جاتا اور لے کی بندشوں سے موسیقی مزید دلکش ہوجاتی تھی۔ جب سازندے راگ شروع کرتے، تو وہ ڈفلی کے ساتھ پیروں کے گھنگروں ایک ساتھ لہراتے تھے، جس سے سُر میں تان آجاتا۔ دفعتاً وہ پے درپے چھلانگیں لگا کر زور زور سے ڈفلی بجانا شروع کرتے۔ جب ڈفلی کے ساتھ موج در موج بدن لہرانا شروع کرتے، تو موسیقی کا ردھم بھی کم ہوجاتا۔ پھر یک دم دف بجا کر موسیقی کے آلات تیز ہوجاتے، اور وہ زور زور سے زمین پر پیر مار کر کمال کرتے۔ “ناگن ساز” میں تو ان کے ناچ کا جواب نہیں ہوتا تھا۔
قارئین، زنانہ فن کاروں میں بعض اپنے رقص اور حسن کے حوالے سے زیادہ شہرت کے حامل تھیں۔ بعض اپنی چنچل اداؤں سے وار کرتیں، تو بعض اپنی اداکاری سے۔ اس لیے لوگ ان پر دیوانہ وار فریفتہ ہوکر انہیں شادی کے بندھن میں باندھنا چاہتے۔
قارئین، زمانہ بدل گیا، رسم و رواج بدل گئے اور ناچ گانے کی روایت بھی کمزور ہوگئی، جو کچھ باقی تھا وہ خراب حالات کی نذر ہوا۔ جب ڈھیر ساری تباہی کے ساتھ ناچ گانے والے بھی ابتری سے دوچار ہوگئے، تو آلاتِ موسیقی نذرِ آتش کر دیے گئے۔ آدم خان کا رباب توڑ دیا گیا۔ پشتون ثقافت کا علمبردار “مٹکا” ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ فن کاروں کے گلے تک کاٹ دیے گئے۔ کوئی پرسان حال نہیں تھا، نا کسی نے ان کی ستم ظریفی پر قلم اٹھانے کی جسارت ہی کی ۔ ایسے میں شاباش کے مستحق ہیں ژوب کوئٹہ کے “نقیب لون” جو پچھلے سال ایم فل کے مقالے کے لیے “شورش میں فن کاروں کی حالت زار” کا موضوع لے کر سوات آئے تھے۔ تین دن میں انہوں نے راقم سمیت کئی افراد کا انٹرویو کیا، جن میں وہ فن کار بھی شامل تھے جو کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے تھے۔ بدقسمتی سے پشاور یونیورسٹی نے بوجوہ ان کو سوات تک محدود ہونے کا مشورہ دیا۔ پھر بھی نقیب کی ہمت اور ارادے کو سلام پیش کرتا ہوں کہ اب وہ اپنی محنت کو کتاب کی شکل میں شائع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ تعالی انہیں اپنے مقصد میں کامیابی عطا فرمائے۔ یہ کتاب یقینا یونیورسٹی کے باقاعدہ ریسرچ کے اعزاز سے محروم ہوگئی، لیکن تاریخ میں اپنی جگہ بناکر سچائی کا اظہار ضرور کرے گی۔ موجودہ تبدیلی سرکار نے محکمۂ ثقافت کی اہمیت بڑھانے کی بجائے اتنا غیر مؤثر کردیا ہے کہ اب یہ محکمہ ٹوورازم ڈیپارٹمنٹ میں ضم ہوچکا ہے۔ گویا اب ہم نازیہ اقبال اور گل پانڑہ کی جگہ میڈونا اور شکیرا کا انتظار کرتے رہیں گے۔
خدارا، پشتون ثقافت کو ڈوبنے سے بچائیں۔

……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے