107 total views, 2 views today

اپنے ایک دوست شاعر نجیب زیرؔے کی شادی سے متعلق سن کر حیرت زدہ ہوا۔ عجیب آدمی ہے، اپنی شادی کی بارات میں ڈولی کا مطالبہ کر بیٹھا۔ یہ درست ہے کہ شرائطِ نکاح میں دونوں طرف سے مطالبے کیے جاتے ہیں، جن میں سے اکثر پورے کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا نجیب کے معاملہ میں طرفین کے درمیان ڈولی کا سمجھوتا طے پاگیا۔ کیوں نہ طے پاتا، دلہن کو ڈولی میں لانے کی خواہش جو اُن کی اپنی تھی۔ سمجھا ہوگا، یہ شادی ہے، کچھ گڈے گڈی کا کھیل تھوڑی ہے۔ بارات میں دلہن کے لیے ڈولی مخصوص کی گئی تھی، جس پر میری ہنسی نہ رُکی۔ کیوں کہ لوگ تو ڈولی کی جگہ 2D گاڑی میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ شادی ہال بُک کراتے ہیں، اور شادی کارڈ پر خاص مہمانوں کو بلاتے ہیں، جو بعد میں کھانا کھا کر رفو چکر ہوجاتے ہیں۔ بقولِ وکیل حکیم زے: “ایسی شادیاں بھی ہوتی ہیں جن میں پڑوسیوں کو خبر تک نہیں ہوتی۔ بس دلہا دلہن کی شادی خانہ آبادی ہوجاتی ہے۔ یہاں معاملہ بالکل اُلٹ ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے پورے علاقہ کو مرنے والی کی تجہیز و تکفین کے لیے خبردار کیا جاتا ہے، جب کہ شادی جیسی خوشی سے پڑوسی بھی بے خبر رہتے ہیں۔”
میرے بھولے نجیب! بڑے بوڑھے محض ڈولی کا اہتمام نہیں کرتے تھے، بلکہ بے شمار رسم و رواج شادی سے منسلک کیا کرتے تھے۔ جیسے کوئدن، نیوکہ، خوڑہ، خونے، اختر، شوقدر، گل، پریکون، تویانہ، جنج، حلب، لوگے، ڈوڈئی، ڈزے، پیسے نوستل، ڈمامہ، نکاح، دینی ورور، اوومہ، خپارتون اور سراور وغیرہ (ذکر شدہ تمام نام پشتو کے ہیں) البتہ جہیز بعد میں متعارف ہوا۔ کیا ایک ڈولی واپس لانے سے یہ سب کام ہوسکتے ہیں؟
پہلے پہل لڑکا جب جوان ہوتا، تو سب کی نظر میں آجاتا۔ ماں، باپ اور رشتہ داروں کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہوجاتی۔ کیوں کہ وہ جب کبھی غصہ کرتا، تو اس کو شادی کے مطالبہ سے تعبیر دیا جاتا، جیسے اس ٹپے سے واضح ہے:
ہلک می نن مخی لہ راغے
دَ چندنڑ لختہ تاوہی غواڑی کوئدنہ
ایسے نوجوان کی ماں اور بہن، لڑکے کی شادی کا بے تابی سے انتظار کرتیں۔ وہ شادی کا ارمان کرکے مسرور رہتیں۔ کبھی لہک کر کہتیں۔
خدایہ پہ کور کی خادی راکڑے
چہ غولے تنگ وی پہ کوٹہ گڈا کوومہ
اس کام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سب سے پہلے وہ لڑکی پسند کرتے۔ اکثر لڑکی کی قمیص کا ٹکڑا کاٹ دیا جاتا تھا۔ لڑکی پسند آتی، تو اس کے لیے صندوق میں “جوڑا” (کپڑا) اور خوراک کا سامان لے جایا جاتا۔ اس عمل کو “خوڑہ” کہا جاتا تھا۔ جس میں “گل” رکھنے کا عمل بھی ہوجاتا تھا۔ پھر دونوں طرف سے دعوت ہوتی، جسے “خونے” کہتے۔ شادی سے پہلے لڑکی کے گھر “اختر، شوقدر” میں کچھ چیزیں بھیجی جاتیں۔ پھر شادی کی تاریخ طے کی جاتی جسے “پریکون” کہا جاتا۔ اس میں باراتیوں کے کھانے کا انتظام، مہر اور “تویانہ” وغیرہ طے کیا جاتا۔ لڑکی والے چند ضروری چیزوں کا اہتمام کرتے۔ باقی سارا خرچہ لڑکے والوں کی طرف سے ہوا کرتا۔ “پریکون” کے بعد لڑکے والے نائی کے گھر سے “ڈمامہ” لے آتے۔ ہر شام اڑوس پڑوس اور رشتہ دار خواتین جمع ہوجاتیں۔ وہ کوئی بڑا سا خالی برتن الٹاتیں یا دمامہ بجاتیں اور لہک لہک کر گاتیں:
دغہ خادی دی مبارک شہ
دی ستا خادئی لہ پہ خوشئی راغلی یمہ
مذکورہ خواتین اپنے نغموں سے گھر والوں کو خوش کرنے کی بھرپور کوشش کرتیں، جب کہ گھر والے دشمنوں کو پریشان کرنے اور اُن کے زخموں پر نمک پاشی کے لیے جوش میں آکر لڑکیوں سے کہتے:
ڈمامے پاس پہ بلئی کیگدئی
چہ انگازی ئی دَ دشمن کرہ ورزینہ
پھر مہندی والی رات آتی اور سہیلیاں جمع ہو کر یہ گیت گاتیں:
شپہ دہ د نکریزو خینکئی تمبل وہینہ
خلک د ہر خوا نہ پہ وادہ راغلی دینہ
پھر شادی کا دن آتا، کھانا کھلایا جاتا، بارات آجاتی، ڈولی پر خشک میوے اور پیسے پھینکے جاتے، دلہن “پالنگ” پر بٹھائی جاتی، اس کی گود میں بچہ رکھا جاتا، مہمان دلہن کو پیسے دیتے، ہوائی فائرنگ اور رات کو تماشے ہوتے، اس کے بعد نکاح کا مرحلہ رہ جاتا، جس میں کسی شخص کو دلہن کا دینی بھائی بنایا جاتا، جو دلہن کے سر کا اختیار لیتا، یوں دلہن “اوومہ” پر میکے چلی جاتی اور بلاآخر شادی کی تمام رسومات ختم ہوجاتیں۔
قارئین، شادی میں گھڑی گھڑی چھوٹے موٹے جھگڑوں کا خطرہ ہر وقت لاحق رہتا۔ خاص کر بارات کے موقعہ پر تو باس امکان قوی ہوتا۔ علاوہ ازیں “پریکون”، “نائی کا حلب” اور کھانا کھانے کے دوران میں بھی جھگڑا ہوجاتا۔
نجیب صاحب! کیا آپ کی شادی میں ایسا کچھ ہوا ہے؟ یقینا نہیں ہوا ہوگا۔
اب آتے ہیں ڈولی کی طرف۔ ڈولی موٹے ڈنڈوں کے سہارے لٹکی ہوئی ایک کھٹولی تھی، جس میں راجہ، مہاراجہ اور نوابوں کی بیگمات بیٹھا کرتی تھیں۔ دو تین کہار یا کہارن کھٹولی کو اٹھاتے۔ شہزادیاں بھی سیر کرنے کے لیے اس میں بیٹھا کرتیں۔ یہ ایک طرح سے پردہ دار زنانہ سواری تھی، جسے ہم لوگوں نے شادی میں متعارف کروایا تھا۔ اب پردہ دار زنانیاں گاڑیوں میں بیٹھ جاتی ہیں۔ اس لیے اب شادی میں ڈولی کی جگہ گاڑی نے لے لی ہے، جس کو سجا کر ڈولی ہی بنا لیا جاتا ہے۔ اگر ڈولی کا رواج واپس آبھی جائے، تو ڈولی اٹھانے والے کہاں سے آئیں گے؟ نہ تو اب کسی کے پاس اتنا وقت ہے اور نہ طاقت۔ حقیقت میں یہ وقت کا پہیا ہے، جو گھومتا ہے، تو ڈھیر ساری مادی چیزوں کا استعمال ختم کردیتا ہے۔ آئے روز نئی چیزیں متعارف ہوتی ہیں، ثقافت کا حصہ بنتی ہیں اور پھر ختم ہوجاتی ہیں۔ کیوں کہ ثقافت خود جامع چیز نہیں۔ اس لیے پرانے رسم و رواج یاد کرنے یا لکھنے کے لیے ہیں، آزمائش کے لیے نہیں۔ آخر میں موضوع سے متعلق کچھ ٹپے ملاحظہ ہوں۔
ڈولئی تہ خیجم پہ جڑا یم
نہ می ادے شتہ نہ دادا خوا لہ رازینہ
صبا بہ ستا ایمان معلوم شی
شمسہ، ڈولئی بہ ستا د کور پہ خوا کی زینہ
صبا بہ سختی ننداری وی
ڈولئی بہ سرہ وی ہلکان بہ پسی زینہ

……………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے