74 total views, 3 views today

خدا بخشے شمشیر احمد ایک بہترین دوست، اعلیٰ پائے کا اُستاد اور ایک شفیق والد تھا۔ تاریخ سے اس کو دل چسپی تھی۔ سوات کے آثارِ قدیمہ سے اُسے پیار تھا۔ فطرت کے حسن کا وہ دلدادہ تھا۔ سیاحت سے اُسے اُنس تھی۔ انگریزی زبان و ادب پر اس کو عبور حاصل تھا۔ اس کے علاوہ وہ انگریزی زبان کا منفرد شاعر بھی تھا۔ کم گو انسان تھا۔ دیر لوئر کے میاں بڑنگولا نامی گاؤں کے ایک ہائیر سیکنڈری اسکول میں فرسٹ اور سیکنڈ ائیر کے طلبہ کو انگریزی پڑھاتا تھا۔ دس بارہ سال سے نونہالانِ وطن کو پڑھانے کی غرض سے امانکوٹ (سوات) سے روزانہ ہوجاتا۔ اس حوالہ سے اُس نے کبھی لبوں پر حرفِ شکایت تک نہیں لایا۔ کبھی اُس نے اپنی تبدیلی کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اُسے تو بس پڑھانے اور جہالت کے اندھیروں کو مٹانے کے سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرنے سے غرض تھی۔ ہاں، ایک دفعہ اُسے تبدیلی کا موقعہ ملا تھا، لیکن ایک اور ٹیچر نے تبدیلی کے لیے پہل کر دی، اس لیے وہ پیچھے ہٹ گیا۔
وہ میرا برسوں سے دوست چلا آ رہا تھا۔ جب بھی وہ میرے پاس آتا، تو پتا نہیں کیوں اُسے جانے کی جلدی ہوا کرتی۔ میرے بار بار اصرار پر اکثر وہ چائے کی ایک پیالی نوشِ جاں فرمانے ٹھہر جاتا۔ مخصوص انداز سے سیگریٹ سلگاتا، چند باتیں ہوتیں اور پھر ہوا کے دوش پر سوار ہوکر یہ جا وہ جا۔ وہ 2010ء میں “جشنِ کالام” سے محظوظ ہونے کے لیے میرے پاس آیا تھا، اور چند دن ساتھ رہا تھا۔ مَیں جشنِ کالام کے اختتام پر ٹھہر گیا تھا۔
ایک دن مَیں، وہ اور چند دوست مل کر سکندرِ اعظم کے “مساگا” کو معلوم کرنے کے لیے ادینزئی (لوئر دیر) کے پرانے دور اُفتادہ علاقوں کا خاک چھاننے نکلے تھے، لیکن جو روداد “تاریخِ سکندرِ اعظم” میں ہم نے پڑھی تھی، وہ “مچو” نامی گاؤں کے اطراف میں نظر نہیں آئی۔ اس لیے بعد میں واپسی پر ہم چرچل پیکٹ کے دامن میں دریائے سوات کے کنارے بیٹھ کر پکنک سے لطف اندوز ہوئے۔
ایک دن وہ بٹ خیلہ کے ظفر پارک میں واقع ایک اسکول میں ایگزامِنر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ مجھے اُس نے آنے کا کہا کہ کچھ تاریخی آثار دیکھ لو۔ امان درہ کے انگریزوں کا ریسٹ ہاؤس اور امان درہ میں انگریزوں نے جس طرح دریائے سوات کو قابو کرکے وہاں ٹنل بنایا تھا، نیز موضع درگئی کے “جبنڑ” نامی گاؤں میں بجلی گھر کو دیکھنے مجھے مدعو کیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب ڈیوٹی آورز میں، مَیں اسکول پہنچا، تو اسکول کی انتظامیہ کو اپنی فکر دامن گیر ہوئی۔ وہ اشاروں کنایوں میں اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا کہ انسپکشن کے لیے انسپکٹر آ رہا ہے، لیکن…… دوسری طرف مَیں ہی جانتا تھا کہ مَیں کچھ بھی نہ تھا۔
2000ء کے عام انتخابات میں اُن کی ڈیوٹی بیلا گبرال میں لگی تھی۔ مجھے بھی اس نے اپنے ساتھ لے لیا۔ وہاں جاکر اس نے اپنی ڈیوٹی سنبھالی اور میں ایک آوارہ بچے کی مانند پہاڑوں، دریاؤں اور جنگلوں کی سیر پر نکل گیا۔ انتخابات میں حصہ لینے والوں کی مختلف بسوں میں بیٹھ کر اپنے مطلوبہ علاقوں کے قریب اُتر جاتا اور واپسی پر پھر کسی گاڑی میں بیٹھ کر بیلا گبرال پہنچ جاتا۔
وہ بہت نفیس آدمی تھا۔ میرا یہ پیارا دوست مجھ سے چھے جون 2013ء کو ایسا روٹھ گیا کہ اب میں اُسے منانا بھی چاہوں، تو منا نہیں سکتا۔ وہ مجھ سے، اپنے بچوں سے، دوستوں سے اور فطرت کی رعنایوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روٹھ گیا ہے۔ وہ ہم سے بچھڑ گیا ہے۔ وہ اپنے تعلیمی اداروں کے ساتھیوں سے اور اپنے شاگردوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلا گیا ہے۔
اسے کینسر کا موذی مرض لاحق تھا، لیکن اس نے مجھ سے اس کا ذکر تک نہیں کیا تھا یا شائد اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔




شمشیر احمد کو کینسر کا عارضہ لاحق تھا، بقولِ روخان “اس کا شائد اسے بھی اول اول علم نہیں تھا۔

آخری سفر پر روانگی سے کوئی تین مہینے پہلے آخری دفعہ وہ مجھے ملا تھا، لیکن پھر بھی اُس نے اپنے مرض کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا۔ مجھے اُس وقت پتا چلا جب اس کی قبر پر منوں مٹی ڈالی گئی تھی۔ مَیں جب فاتحہ خوانی کے لیے اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں اور رشتہ داروں سے ملنے گیا، تو یہ باقی باتیں وہاں مجھے معلوم ہوئیں کہ اس کے گردے پر ایک پھوڑا نکل آیا تھا۔ اُس کے آپریشن کے بعد اس کی حالت سدھرنے کی بجائے دن بدن خراب ہوتی گئی، اور دو مہینوں کی بیماری نے اس کی جان لے لی۔ اللہ تعالیٰ اسے غریق رحمت کرے۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے