554 total views, 1 views today

ایک دن جب ہم پتھر کے دور کے آثار ڈوھنڈنے نکلے، تو اس خوشگوار سفر کی یادیں مشام جاں کو معطر کرگئیں۔ محترم فضل خالق، امجد علی سحابؔ اور دیگر مشران کی معیت میں یہ مختصر سا قافلہ بریکوٹ سے ہوتے ہوئے بلوکلے پہنچا۔ وہاں چائے پانی کے وقفے کے بعد یہ قافلہ بلوکلے کی اس یادگار تک پہنچا جس کی بنیاد آج سے کوئی لگ بھگ اٹھارہ سو سال قبل رکھی گئی تھی۔ یہ ایک ’’وہاڑا‘‘ ہے جس کو شاید اس خطے میں اپنی نوعیت کی سب سے قدیم ترین عمارت ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو اپنی اصل شکل میں ایستادہ ہے۔ اس گنبد نما عمارت میں اندر کافی کھلی ہوادار جگہ ہے۔ دیواریں مکمل پتھر(درنگ) کی بنی ہوئی ہیں۔ کہیں بھی گارا مٹی کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ بیچ میں ایک گنبد ہے جس کے اوپر ایک اور گنبد ہے۔ گنبد کے اوپر گنبد کو ’’ڈبل ڈوم سٹرکچر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یوں کہئے عمارت نہیں بلکہ اٹھارہ سو سال قدیم دور کا ایک شاہکار ہے جسے انسانی ہاتھوں نے کمال تک پہنچایا۔




چائے پانی کے وقفے کے بعد یہ قافلہ بلوکلے کی اس یادگار تک پہنچا جس کی بنیاد آج سے کوئی لگ بھگ اٹھارہ سو سال قبل رکھی گئی تھی۔ یہ ایک ’’وہاڑا‘‘ ہے جس کو شاید اس خطے میں اپنی نوعیت کی سب سے قدیم ترین عمارت ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو اپنی اصل شکل میں ایستادہ ہے۔ اس گنبد نما عمارت میں اندر کافی کھلی ہوادار جگہ ہے۔ دیواریں مکمل پتھر(درنگ) کی بنی ہوئی ہیں۔ کہیں بھی گارا مٹی کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ بیچ میں ایک گنبد ہے جس کے اوپر ایک اور گنبد ہے۔ گنبد کے اوپر گنبد کو ’’ڈبل ڈوم سٹرکچر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یوں کہئے عمارت نہیں بلکہ اٹھارہ سو سال قدیم دور کا ایک شاہکار ہے جسے انسانی ہاتھوں نے کمال تک پہنچایا۔

چائے پانی کے وقفے کے بعد یہ قافلہ بلوکلے کی اس یادگار تک پہنچا جس کی بنیاد آج سے کوئی لگ بھگ اٹھارہ سو سال قبل رکھی گئی تھی۔ یہ ایک ’’وہاڑا‘‘ ہے جس کو شاید اس خطے میں اپنی نوعیت کی سب سے قدیم ترین عمارت ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو اپنی اصل شکل میں ایستادہ ہے۔ اس گنبد نما عمارت میں اندر کافی کھلی ہوادار جگہ ہے۔ دیواریں مکمل پتھر(درنگ) کی بنی ہوئی ہیں۔ کہیں بھی گارا مٹی کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ بیچ میں ایک گنبد ہے جس کے اوپر ایک اور گنبد ہے۔ گنبد کے اوپر گنبد کو ’’ڈبل ڈوم سٹرکچر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یوں کہئے عمارت نہیں بلکہ اٹھارہ سو سال قدیم دور کا ایک شاہکار ہے جسے انسانی ہاتھوں نے کمال تک پہنچایا۔ (فوٹو: امجد علی سحاب)

اس وہاڑے کو بدھ مت کے دور سے آباد کیا گیا ہے۔ 1938ء میں اس جگہ کی کھدائی کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں ان آثار کا ظہور ہوا۔ مختلف قسم کی کھدائیوں میں یہاں کا کافی سارا حصہ ضائع ہوچکا ہے جس میں چھوٹے چھوٹے سٹوپے اور خانقاہیں تھیں، لیکن یہ ایک مکمل عمارت زمانے کی ستم گردی سے محفوظ رہ گئی ہے۔ سوات میں ملٹری آپریشن سے قبل یہاں بدھ مت کے بھکشو کافی تعداد میں آتے تھے اور اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد واپس چلے جاتے تھے۔ اب شاید مقامی سیاحوں کے سوا کوئی نہیں آتا۔
’’وہاڑا‘‘ کی تصویر کشی کرتے ہوئے اب ہمیں اپنی منزل کی جانب روانہ ہونا تھا۔ لہٰذایحی خان دولت خیل کے ہاتھ سے خشک انجیر کی سوغات سے انصاف کرتے ہوئے آگے روانہ ہوگئے۔ ان پہاڑی رستوں پہ چڑھائی چڑھتے ہوئے اگر آپ کو سب سے زیادہ کوئی چیز عزیز ہے، تو وہ ہے پانی۔ گویا یہاں حقیقی احساس ہوجاتا ہے کہ پانی ہی زندگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہاڑ میں عام چشمے کا پانی بھی انسان کو بہت لذیذمحسوس ہوتا ہے۔ ہزاروں سال سے ان پہاڑوں میں میٹھے پانی کے چشمے ہیں جن سے قریبی آبادی اپنی ضروریات پوری کرتی ہے۔ پتھر دور کے آثار تک جانے والے راستے پہ ایک ایسا ہی چشمہ ہے جس کی ہیئت ایک کھٹورے کی سی ہے، جسے کسی ماہر سنگ تراش نے بنایا ہوگا۔ اس میں شفاف پانی اور پانی کے قریب اگی ہوئی پہاڑی گھاس ایک طمانیت بھرے احساس سے دل کو سکون اور دماغ کو فرحت مہیا کرتے ہیں۔

آج سے قریباً دو ہزار سال قبل سکندر اعظم کے لشکروں نے ان علاقوں میں پڑاؤ ڈالا۔ یونانی سپاہ نے ہندوستان پر یورش کرتے ہوئے چھوٹی ریاستوں کو زیرنگین لانے کا منصوبہ بنایا۔ سکندر کے سپاہ میں جہاں شہسوار اور بہادر تیر انداز تھے، وہاں رہنمائی کے واسطے بہترین دماغ کے حامل گائیڈز بھی شامل تھے۔ یہ رہنما سکندر کو یورش سے قبل اس علاقے کی مکمل جانکاری، وہاں کا رسم و رواج، لوگوں کا عقیدہ اور دیگر بنیادی اہم معلومات فراہم کرتے تھے۔ انہی معلومات کی روشنی میں سکندر علاقے پر حملے کا منصوبہ تیار کرتا۔ ’’کاکئی کنڈؤ‘‘ اور ’’سرگاہ سر‘‘ میں دو ایسی جگہیں ہیں جہاں سکندر کی فوجوں نے پتھروں پر اشارے تحریر کیے ہیں، لیکن یہ تحریر الفاظ کے جامے میں نہیں اشکال اور تصویروں کے سانچے میں ہے۔ کہیں انسان کی شبیہ ہے جو گھوڑے پر سوار تلوار بکف ہے۔ کہیں بھیڑ بکریاں، تو کہیں اوزار کے نقوش کندہ ہیں۔ تحریر کی سمجھ نہ ہونے کے باعث اس وقت لوگوں نے تاریخ کو محفوظ بنانے کے لیے یہی طریقہ استعمال کیا جسے ’’پتھر کا دور‘‘ کہا جاتا ہے۔

آج سے قریباً دو ہزار سال قبل سکندر اعظم کے لشکروں نے ان علاقوں میں پڑاؤ ڈالا۔ یونانی سپاہ نے ہندوستان پر یورش کرتے ہوئے چھوٹی ریاستوں کو زیرنگین لانے کا منصوبہ بنایا۔ سکندر کے سپاہ میں جہاں شہسوار اور بہادر تیر انداز تھے، وہاں رہنمائی کے واسطے بہترین دماغ کے حامل گائیڈز بھی شامل تھے۔ یہ رہنما سکندر کو یورش سے قبل اس علاقے کی مکمل جانکاری، وہاں کا رسم و رواج، لوگوں کا عقیدہ اور دیگر بنیادی اہم معلومات فراہم کرتے تھے۔ انہی معلومات کی روشنی میں سکندر علاقے پر حملے کا منصوبہ تیار کرتا۔ ’’کاکئی کنڈؤ‘‘ اور ’’سرگاہ سر‘‘ میں دو ایسی جگہیں ہیں جہاں سکندر کی فوجوں نے پتھروں پر اشارے تحریر کیے ہیں، لیکن یہ تحریر الفاظ کے جامے میں نہیں اشکال اور تصویروں کے سانچے میں ہے۔

آج سے قریباً دو ہزار سال قبل سکندر اعظم کے لشکروں نے ان علاقوں میں پڑاؤ ڈالا۔ یونانی سپاہ نے ہندوستان پر یورش کرتے ہوئے چھوٹی ریاستوں کو زیرنگین لانے کا منصوبہ بنایا۔ سکندر کے سپاہ میں جہاں شہسوار اور بہادر تیر انداز تھے، وہاں رہنمائی کے واسطے بہترین دماغ کے حامل گائیڈز بھی شامل تھے۔ یہ رہنما سکندر کو یورش سے قبل اس علاقے کی مکمل جانکاری، وہاں کا رسم و رواج، لوگوں کا عقیدہ اور دیگر بنیادی اہم معلومات فراہم کرتے تھے۔ انہی معلومات کی روشنی میں سکندر علاقے پر حملے کا منصوبہ تیار کرتا۔ ’’کاکئی کنڈؤ‘‘ اور ’’سرگاہ سر‘‘ میں دو ایسی جگہیں ہیں جہاں سکندر کی فوجوں نے پتھروں پر اشارے تحریر کیے ہیں، لیکن یہ تحریر الفاظ کے جامے میں نہیں اشکال اور تصویروں کے سانچے میں ہے۔

یونانی افواج کو شراب نوشی کا بڑا شوق تھا۔ ضرورت ایجاد کی ماں کے تحت انہوں نے شراب بنانے کے لیے پتھروں میں پیالہ نما سراخیں بنائی ہوئی ہیں۔ انہی پیالوں میں وہ شراب بناتے تھے اور مے نوشی کا شوق پورا کرتے تھے۔ وہ پیالے بڑے بڑے پتھروں میں آج بھی موجود ہیں جو ایک انسان کے ہاتھوں کی مہارت کا کامل ثبوت مہیا کرتے ہیں۔
’’سرگاہ سر‘‘اور ’’کاکئی کنڈو‘‘ سے سہ پہر کے وقت ہمارا واپسی کا سفر شروع ہوا۔ واضح رہے کہ یہاں تک گاڑی کے ذریعے بھی آیا جاسکتا ہے تاہم ہلکی چال چلتے ہوئے دو تین گھنٹوں میں پیدل چل کر قدرت کے حسین مناظرسے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ واپسی پر ایک مقامی لڑکے نے محترم فضل خالق سے کہا کہ صاحب میں آپ کو کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔ چنانچہ وہ ہمیں راستے سے ہٹ کر ایک جگہ لے گیا۔ ذرا سی اونچی جگہ پہ یہاں ایک قبر کے آثار تھے جس پر جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں۔ اسی دن کسی بدبخت نے قبر کی کھدائی کی تھی اور پھر اسے بند کیے بغیر ویسے ہی چھوڑ کے چلا گیا تھا۔ قبر میں انسانی ہڈیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ اس ستمگر نے ہڈیوں پر بھی کدال آزمائی تھی۔گویا خزانے کی تلاش میں ایک قبر کی اس طرح کھدائی کی تھی جیسے اپنی کھیت کو فصل بونے کے لیے کھودا جاتا ہو۔
جہاں تک آثار قدیمہ کی کھدائی کا سوال ہے، تو اس میں خزانہ ملنے کی امید شاید ایک فیصد تک ممکن ہو، لیکن ایک پرانی قبر میں خزانے کا وجود ایک افسانے سے کم نہیں۔ اگر اس طریقے سے انسان راتوں رات کروڑپتی بن سکتا ہے، تو ہم سب کو اپنے ہاتھ ابھی سے توڑ دینے چاہئیں۔ کیوں کہ ممکن ہے ہم سب کو کوئی خزانہ مل جائے اور یوں زندگی میں بہار آجائے، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ خزانہ کسی کو نہیں ملتا۔ انسان کی محنت اور اس کی جدوجہد ہی اس کا خزانہ ہے۔ ’’سرگاہ سر‘‘ کی اس خاموش قبر میں بھی کھودنے والے کو کوئی خزانہ ہاتھ نہیں آیا۔ اسی طرح دوسروں کو نقصان پہنچاکر بھی کوئی آدمی حقیق خوشی نہیں پاسکتا۔ خزانہ دراصل آپ کے دل کا سکون ہے، آپ کی خوشی ہے اور آپ کی کامیابی ہے جو محنت سے آپ کو حاصل ہوئی ہے۔ کسی آدمی کے پاس مال کی کثرت ہو لیکن اس کی زندگی میں خوشی اور سکون کا نام تک نہ ہو، تو اس سے بڑھ کر بدقسمت اور کون ہوسکتا ہے؟ لہٰذا ہمیں کھدائی کے بجائے تعمیری صلاحیتوں کے ذریعے کامیابی کا حصول ممکن بنانا چاہئے۔




تبصرہ کیجئے