93 total views, 1 views today

پشتو زبان کے نامور گلوکار ہدایت اللہ خیبر پختون خوا کے مرکزی شہر پشاور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد ک انام سعداللہ تھا۔ ہدایت اللہ کا شمار اُن ہنرمند گلوکاروں میں ہوتا ہے، جنھوں نے یادگار فلموں کے گانے گائے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ریڈیو اور ٹیلی وِژن کے لیے بہت عرصہ تک گایا ہے اور ایک منجھے ہوئے گلوکار کے طور پر خود کو منوایا ہے۔ اِن دنوں وہ شدید علیل ہیں اور بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
پشتو زبان کے معروف ادیب اور تحقیق کار لائق زادہ لائقؔ، ہدایت اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: “ہدایت اللہ اَصل میں نوشہرہ میں “ڈاک بیسودو” کے رہنے والے ہیں۔ اس کے آبا و اجداد پشاور میں آکر آباد ہوئے۔ اُستاد ہدایت اللہ کی پیدائش بھی پشاور ہی کی ہے۔ اُنہوں نے اپنی گائیکی کی ابتدا سکول میں نعت پڑھنے سے کی۔ میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی، اور زراعت کے محکمہ میں ملازم ہوگئے۔ اُن کی مادری زبان “ہندکو” ہے۔ اُنہوں نے دو شادیاں کی تھیں۔ اُن کی دونوں بیویوں کی زبان ہندکو تھی۔”
گلوکار اور موسیقار “ماسٹر علی حیدر” اُن کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ہدایت اللہ نسلاً افغان ہیں۔ موسیقی سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ اُن کے کہنے کے مطابق ہدایت اللہ نے گائیکی کی ابتدا فلمی گانوں سے کی ہے۔
“میرے اندازے کے مطابق ہدایت اللہ نسلاً افغان ہیں۔ اس کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ اُن کے ہاں افغانستان سے بہت زیادہ مہمان آتے تھے۔ ہدایت اللہ اپنے خاندان کے پہلے گلوکار ہیں۔ اُس کے گھرانے میں پہلے کوئی اس فن کا ماہر نہیں گزرا ہے۔ اُنہیں گلوکار رفیع کی آواز بہت اچھی لگتی تھی۔ ہدایت اللہ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔ میرا زیادہ تر وقت اُن کی بیٹھک میں گزرا ہے۔ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اُن کے ریڈیو اور ٹیلی وِژن کے پروگراموں کے لیے مَیں نے ڈھیر سارے گیت لکھے ہیں۔ ہدایت اللہ فلمی گیت بڑے شوق سے گاتے تھے، اور اُن کی آواز جیسے فلمی گیتوں کے لیے ہی بنی تھی۔ اسی سبب تو وہ خیبر پختون خوا میں شہرت رکھتے ہیں۔ اُن کی گائیگی کا حساب معلوم نہیں کہ انہوں نے کتنے گیت گائے ہوں گے۔ اُن کی آواز غزل کی گائیکی کے لیے بھی بہت مناسب تھی، جس کی بنا پر اُنہوں نے غزل بھی گائے ہیں اور سامعین سے داد پائی ہے۔ آج کل ہدایت اللہ بسترِ مرگ پر پڑے ہیں۔ زندگی کے آخری ایام میں انہیں صحت کے ساتھ ساتھ مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔”
ہدایت اللہ کے پشتو فلموں میں گائیکی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اُن کا تلفظ پشتو رنگ و آہنگ سے تعلق نہیں رکھتا ہے۔ اس حوالے سے ماسٹر علی حیدر کہتے ہیں کہ اُن کی گائیکی پر اُردو اور پنجابی موسیقاروں کا رنگ غالب دکھائی دیتا ہے۔ “جس طرح اُردو گائیکی کے لیے مہدی حسن اور رفیع کے نام سَند ہے۔ اس طرح پشتو موسیقی میں ہم خیال محمد اور ہدایت اللہ پر فخر کرتے ہیں۔ ہدایت اللہ، خیال محمد سے پہلے اس فن میں آئے ہیں۔ پشتو زُبان کی معروف فلم “یوسف خان شیر بانو” کے موسیقار اور کمپوزر اُردو زبان کے استاد لعل محمد ہیں۔ انہوں نے ہدایت اللہ کی آواز میں گانے کمپوز کیے تھے۔ اس بنا پر اُن کے گائے ہوئے گیتوں پر اُردو اور پنجابی لب و لہجے کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ ہدایت اللہ نے ٹپے بھی گائے ہیں، مگروہ بھی پشتو زبان کے لب ولہجے کے مطابق نہیں ہیں۔ فلم “یوسف خان شیربانو” کا یہ گیت:
“راشہ اُو راشہ، خوشے میدان دے”
اس گیت میں پنجابی زبان کے رنگ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے جن فلموں کے لیے گیت گائے ہیں، اُن کمپوزروں کا تعلق بھی پنجاب سے رہا ہے۔ اُن میں بھی پشتو زبان کی موسیقی کی وہ مٹھاس نہیں ہے، جو ان کی مقبولیت کی وجہ ہے۔ ہدایت اللہ کی وہ فلمیں جن کے موسیقاراورکمپوزرپنجاب سے تھے۔ اُن میں “آدم خان او دُرخانے” اور “دَ پختون تورہ” کے کمپوزر اور موسیقار کراچی کے نیاز احمد خان ہیں۔”
ماسٹرعلی حیدر بتاتے ہیں کہ ہدایت اللہ نے رفیق شنواری کی موسیقی میں فلموں کے لیے گیت گائے ہیں، لیکن اُن گیتوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اِس کی بڑی وجہ دونوں کے مزاج میں تضاد تھی۔
“ہدایت اللہ نے خیال محمد کے ساتھ مل کر رفیق شنواری کی موسیقی پریہ گیت گایا تھا، “اے دہ سبا ستوریہ، کلہ بہ راخیجے تہ!” رفیق شینواری نے کئی بار ہدایت اللہ سے گیت ریکارڈ کروائے ہیں، مگر میرے خیال میں وہ ہدایت اللہ کے لب و لہجے سے کچھ خاص متاثر نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہدایت اللہ کی آواز میں سُر تو بہت تھا، مگر پشتو زبان کے ہجوں کی مٹھاس نہیں تھی۔”
ہدایت اللہ نے ڈھیر سارے گیت کورس میں بھی گائے ہیں۔ اُنہوں نے ایک فلمی گیت ریحانہ یاسمین کے ساتھ گایا تھا، ملاحظہ ہو:
خوالہ می راشہ دہ خندا ورزی دی
پہ تا شوی تیرے، دا زما ورزی دی
خوالہ می راشہ دہ خندا ورزی دی
موسیقار اور گائیک ماسٹر علی حیدر مزید کہتے ہیں کہ ہدایت اپنے ہم عصر گلوکاروں کی طرح میدانی محفلوں اور شادی بیاہ میں موسیقی کے پروگراموں میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ پشتو موسیقی کی محفلوں میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے ان پرپشتو لب و لہجہ کا رنگ نہیں چڑھا ہے۔
“مَیں اس بات کا گواہ ہوں کہ ہدایت اللہ کو شادی بیاہ کی تقریبات سے موسیقی کی محفلوں میں شرکت کرنے کے دعوت نامے موصول ہوتے رہتے تھے، مگر وہ ان میدانی محفلوں میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ قیاس ہے کہ شاید ان کے خاندان کی طرف سے پابندی ہو۔ یہ بات سو فی صد درست ہے کہ ٹیلی وِژن اور ریڈیو شہرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، لیکن پختون گلوکاروں کو مقبولیت اور شہرت میدانی محفلوں سے ملتی ہے۔ ہدایت اللہ نے پوری زندگی غربت و افلاس میں بسرکی ہے۔ وہ جب ٹیلی وِژن اور ریڈیو کے پروگراموں کے لیے سائیکل پر آتے تھے، تو مَیں کڑھتا تھا۔ آج بھی وہ بے یار و مددگار بسترِ مرگ پر پڑے ہیں۔ اُن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔”
ہدایت اللہ پچھلے چار پانچ سال سے بسترِ مرگ پر ہیں۔ دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں۔ گھر والے حکومت اور یار دوستوں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ماسٹر علی حیدر اس حوالہ سے کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان نے ہدایت اللہ کو اُن کی خدمات کے صلے میں ایک عدد تمغے سے نوازا ہے، مگر وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کی بے بسی اور بیماری کو مدِنظر رکھ کر ان کی کچھ مالی معاونت کرے۔ “حکومت پاکستان نے ہدایت اللہ کو ایوارڈ سے نوازا تو ہے، لیکن ایسی عزت افزائی کا کیا فائدہ جو لاچاری کے عالم میں آپ کے کسی کام نہ آئے۔ حکومت کو بجا طور پر ان کی خدمات کے صلے میں اُن کی مالی معاونت کرنی چاہیے۔ جہاں تک میں ہدایت اللہ کو جانتا ہوں، وہ کبھی اپنی خودداری کے سبب کسی سے کوئی مددنہیں لیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حکومت کو ہنرمندوں، شاعروں اور تصنیف و تالیف کرنے والوں کے ساتھ مالی امداد کرنے کی توفیق دے، آمین!”
جاتے جاتے ہدایت اللہ کے چند مشہور گیت ملاحظہ ہوں، جو ایک عرصہ تک عوام الناس کے کانوں میں رس گھولتے رہے:
راغلمہ محفل کی ستا دَ مینی نو بہار دے
جشن دے بہار دے، حسن دی بیدار دے
منزل د ٹولو یو دے
خو سفر جدا جدا
ہر خوا فریب، دروغ او تر مطلبہ یارانہ شوہ
سنگہ زمانہ شولہ، دا سنگہ زمانہ شوہ
(’’مشال ریڈیو‘‘ کی شائع کردہ ہارون باچا کی پشتو تصنیف ’’نہ ھیریگی نہ بہ ھیر شی‘‘ سے ’’ہدایت اللہ‘‘ کا اُردو ترجمہ)

………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے