108 total views, 1 views today

غالباً آج سے بیس سال قبل عبدالحمید حمیدی (مرحوم) ایک مارننگ شو میں مہمان تھے۔ اس وقت مجھے حمیدی صاحب کے بارے میں یہ علم نہیں تھا کہ ان کا تعلق سرزمینِ بنوں سے ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کئی بار بنوں کا حوالہ دیا۔ جب پروگرام ختم ہوا، تو مَیں نے تحقیق کی کہ حمیدی صاحب کون ہیں؟ اس وقت میری جستجو خوشی میں تبدل ہوگئی جب معلوم ہوا کہ حمیدی صاحب سپوتِ بنوں ہیں اور بنوں میں حسن خیل جعفر خان میں ان کی جائیداد ہے۔ نیز “حمیدی روڈ” بھی آپ ہی کے نام سے منسوب ہے۔
پرسوں رات کو بریگیڈیر عبدالحمید حمیدی کی موت کی خبر سنی، تو دل غم زدہ ہوگیا۔ حمیدی صاحب سے کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی، لیکن جب بھی ان کو سنا، تو مجھے یوں لگا کہ یہ شخص منکسر المزاج اور اچھے انسان تھے۔ ان کی زندگی بحیثیتِ ایک فوجی یا کھلاڑی تو تھی ہی روشن، ان کی ذاتی زندگی بھی بہت اصولوں والی اور عجز پر مبنی تھی۔ آج ان کے خاندان سے اظہارِ یک جہتی اور فاتحہ خوانی کے لیے ایم پی اے پختون یار خان کے ہمراہ ان کے گیسٹ ہاؤس نزد ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال بنوں گیا۔ حمیدی صاحب کا یہ گھر پرانی طرزِ تعمیر کا ہے، اور اس قدر خوبصورت کہ میرے پاس تعریف کے لیے الفاظ نہیں۔ ٹھنڈا ہوادار گھر۔
مرحوم حمیدی صاحب کے دو بیٹے ہیں۔ ندیم حمید اور فہیم حمید، دونوں اس وقت عمر میں 60 سال سے زیادہ کے ہوں گے۔ ان کے صاحبزادوں کے مطابق ان کے والد آخری وقت تک “فٹ فاٹ” رہے۔ ان کے بقول، مرحوم جیے اور خوب جیے۔ وہ اصول پرست انسان تھے اور کسی صورت اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتے تھے۔ مرحوم نے 92 سال کی طویل عمر پائی۔ ان کے فرزند کا کہنا تھا کہ زندگی کے آخری دنوں میں اکثر وہ بنوں کا ذکر کرتے رہتے تھے، اور اکثر کہا کرتے تھے کہ اب بہت ہوگیا واپس بنوں چلتے ہیں۔ واضح رہے کہ مرحوم نے بچپن اور ابتدائی جوانی بنوں میں گذاری اور جوانی سے موت تک وہ بحیثیتِ فوجی افسر اور ہاکی پلیئر بنوں سے باہر رہے۔ غمی و خوشی کے لیے بنوں آتے جاتے۔ آج کل وہ اسلام آباد چکلالہ میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم تھے۔
مرحوم بریگیڈیر عبدالحمید حمیدی 7 جنوری 1927ء کو سرزمینِ بنوں میں پیدا ہوئے۔ آپ نے فوج میں کمیشن حاصل کیا اور بریگیڈیر کے عہدے تک جاپہنچے۔ آپ نے چار اولمپکس میں حصہ لیا۔ لندن 1948ء، ہیلسنکی 1952ء، میلبورن 1956ء اور روم اولمپکس 1960ء۔ 1956ء کے اولمپکس گیمز میں سلور میڈل حاصل کیا، جب کہ 1960ء کے اولمپکس گیمز میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی کپتانی کی اور پاکستان کے لیے پہلی دفعہ گولڈ میڈل حاصل کیا۔ مرحوم ملٹری سے سبک دوش ہونے کے بعد کئی اور عہدوں پر فائز رہے۔ آپ پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈی جی رہے۔ آرمی سپورٹس کنٹرول بورڈ کے ڈی جی رہے۔ نیشنل سپورٹس ٹرسٹ کے ڈی جی بھی رہے۔ اس کے علاوہ کچھ وقت کے لیے ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری بھی رہے۔
مرحوم کے چھوٹے بھائی رشید جونیئر بھی قومی ہاکی ٹیم کا بڑا نام رہے۔ مرحوم ہاکی کا وہ چمکتا ستارہ ہے جس پر پاکستان ہمیشہ فخر کرتا رہے گا۔ بنوں کی سرزمین ہاکی کے لحاظ سے بہت زرخیز ہے۔ مرحوم حمیدی ہوں یا رشید جونیئر، ملک ناصر خان ہوں یا قاضی محب اس سرزمین نے قومی ہاکی ٹیم کو بڑے بڑے کھلاڑی دیے۔ حمیدی صاحب کا نام ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔ مرحوم بریگیڈیر صاحب کو اللہ سبحانہ و تعالی نے جمعہ کا مبارک دن نصیب کیا۔ آپ اپنے آبائی قبرستان حسن خیل میں آسودہ خاک ہیں۔
آخر میں مرحوم کے خاندان اور لواحقین سے گذارش ہے کہ وہ بنوں سے اپنا رشتہ کسی بھی صورت نہ توڑیں۔ اپنی مٹی پر ناز کریں اور یہاں غمی و خوشی میں باقاعدگی سے شریک ہوا کریں۔ یہاں کے عوام آپ لوگوں کو دل سے عزت دیں گے۔

……………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے