775 total views, 1 views today

بچپن میں جب ہم کھیتوں، ندیوں، دریا کے کناروں یا نہروں کی سیر کرتے تھے، تو راستے پر کہیں نہ کہیں بکھرے پڑے ٹھیکرے نظر آتے تھے، جو ٹوٹے ہوئے برتنوں کے گلے، پیندے اور ٹکڑے ہوا کرتے تھے۔ برتنوں کے یہ ٹکڑے پہلے گھر کے کوڑے میں پھینکے جاتے تھے، جہاں سے ڈیرانی کھاد میں کھیتوں تک پہنچ جاتے تھے، جب کہ سالم برتن یا تو گھر کے طاق میں ایک خاص اہتمام سے پڑے گھر کی زینت بڑھاتے یا چارپائیوں پر کھڑا ہوا لکڑی کا ڈھانچا جسے گھڑونچا یا گھڑونچی کہتے ہیں، پر گھڑوں کی صورت میں نظر آتے تھے۔ انتہائی احتیاط سے رکھنے کے باوجود کثرتِ استعمال کی وجہ سے اکثر ذکر شدہ برتنوں کے ٹوٹنے کا اندیشہ رہتا تھا، جس کا ثبوت پشتو زبان کے ٹپہ سے ہاتھ آتا ہے:
مور تہ دی داسی جواب ورکڑہ
منگے پہ گٹہ زہ پہ خٹہ اولیدمہ
بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ مٹی کا برتن جسے باسن، بھانڈا اور ظرف بھی کہتے ہیں ہر گھر کی ضرورت تھا۔ کوئی گھر ایسا نہ تھا جس میں مٹکا، گھڑا یا مٹیالا برتن نہیں تھا۔ اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے گھر کا ذمہ دار بہت سارے برتنوں کا انتخاب کرتا اور ٹھوک بجا کر مٹی کا برتن لیتا تھا۔ مٹی کے برتن بنانے والے ہنرمند کو کمہار کہتے ہیں۔ "کم” ترکی زبان میں کم درجہ کے معنی میں مستعمل ہے، جیسے فوج کے چھوٹے افسر کو "کمیدان” کہتے ہیں ۔ جیسے اردو میں معمولی حیثیت کا مزدور اور کھیت پر کام کرنے والا "کمیرا” کہلاتا ہے، یعنی کمی کمین۔ اسی طرح ترکی "کم” اور ہندی زبان کا "ہار” جو بطورِ لاحقہ استعمال ہوتا ہے اور صفت و فاعلیت بناتا ہے۔ جیسے چلن ہار کا مطلب ایک غریب مزدور ہے۔ کمہار کو فارسی زبان میں کوزہ گر اور کلال بھی کہتے ہیں۔ پشتو زبان میں بھی کمہار کو "کُلال” کہتے ہیں۔
کمہار کی داستان بیان کرتے گدھے کا ذکر خود بخود درمیان میں آجاتا ہے۔ کیوں کہ کمہار کو برتن بنانے کے لیے مٹی کی ضرورت ہوتی ہے جسے وہ گدھے پر لاد کر لایا کرتا ہے، یعنی دونوں لازم و ملزوم تھے۔ جبھی تو کہاوت مشہور ہوئی کہ "گدھا مرا کمہار کا، دھوبن سَتی ہو۔”
کُلال گدھے پر مٹی لاتا تھا اور مٹی کے بغیر برتن بنانا ناممکن تھا۔ اس لیے کلال کے ہاں گدھے کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔ وہ اچھی مٹی کا انتخاب کرتا تھا۔ اسے گھر لے جاتا تھا، پانی ملا کر اس کا کشتہ یا خمیر بناتا تھا، نرم کرنے کے لیے اسے لاٹھی سے متواتر مارتا تھا، پھر چاک (چرخی دان) پر تھوڑا تھوڑا چڑھاتا تھا، چاک ایک قسم کا پہیہ ہوتا جسے گھما کر برتن بنایا جاتا۔ کلال اسی دوران میں تپنا کے ذریعے برتن کو ہموار کرتا، جوں ہی مٹکا یا کوئی اور برتن تیار ہوتا، اُسے کڑک دھوپ میں سوکھنے کے لیے رکھتا۔ اس کے بعد کچے برتنوں کو ایک مخصوص جگہ میں رکھنے کی باری آتی۔ اس مخصوص جگہ سے پہلے کُلال یا تو پہاڑوں میں گوبر کے سوکھے ہوئے اُپلے تلاش کرتا یا اسے زمین داروں اور کسانوں سے قیمتاً خریدتا۔ وہ اس مخصوص جگہ میں جلانے کے لیے گندم اور چاول کا بھوسا بھی لے آیا کرتا۔ ساتھ ہی وہ بارش نہ ہونے کی دعا بھی کرتا۔ اگر بارش نہ ہوتی، تو کلال قطار در قطار برتنوں کو اس مخصوص جگہ میں رکھتا جس پر وہ اُپلوں کی ایک تہہ چڑھاتا۔ یوں ہر طرف سے مزید اُپلے رکھتا اور اسے ایک طرف سے آگ لگا دیتا۔ آگ اس مخصوص جگہ میں پھیل جاتی اور ایک وقت ایسا آتا جب سارے برتن آگ کے شعلوں پک جاتے۔
ہر گاؤں میں ایک یا دو کلال ضرور ہوتے تھے جن کا ہنر بہت سارے لوگوں کے کام آتا تھا۔ لوگ ان کے بنائے ہوئے برتن خور و نوش کے عمل میں استعمال کرتے۔ اس لیے تو کہتے ہیں: "گھڑے کمہار، بھرے سنسار۔” یعنی ایک آدمی کام کرتا ہے، بہت سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
کلال کی سماجی حیثیت کچھ بھی ہو، وہ حکمت اور ہنر کا مالک تھا۔ وہ ضرورت کی بنیادی اشیا ہی نہیں بناتا بلکہ ہماری ثقافت کو اپنے نقش و نگار کے ذریعے حسین اور دلکش بھی بناتا تھا۔ لیکن اب نہ تو کلال رہا، اور نہ اس کی برتن پکانے کی وہ مخصوص جگہ، نہ چاک رہا اور نہ ہی تپنا۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے، کہ ولایتی کُلال نے ترقی کرکے مختلف دھاتوں کے برتن بنائے جب کہ ہمارے کلال کے برتنوں کے ٹھیکرے بھی اب ہمیں نظر نہیں آتے۔
اے کاش کہ ہم بھی اپنے کلال کو ترقی یافتہ بناتے، لیکن بقولِ قیمت گل استاد کہ ہمارے ہاں کتے پالنے والوں کو خان اور بھینس پالنے والے کو گُجر کہتے ہیں۔ جب ایسی حالت ہو، تو محنت کرنے والوں کی خاک عزت ہوگی!
نہ اب درشخیلہ (سوات) میں سعدخان پیدا ہوگا اور نہ گل محمد۔ سب قصۂ پارینہ ہوچکا۔
جاتے جاتے موقع کی مناسبت سے چند ٹپے ملاحظہ ہوں:
پہ گودر جنگ د جینکو دے
پورے را پورے پہ منگو ویشتل کوینہ
پہ گودر جنگ د جینکو دے
لنڈے بازار ئی پہ گودر ولگونہ
منگے ورکوٹے ورلہ جوڑ کڑئی
د خاپیرئ ملا دہ نرئ ماتہ بہ شینہ

…………………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے